Thursday , October 18 2018
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > یکساں تعلیمی نظام پاکستان کی ترقی کا ضامن۔۔۔زاہدبن احمد

یکساں تعلیمی نظام پاکستان کی ترقی کا ضامن۔۔۔زاہدبن احمد

آج صبح کا واقعہ ہے میں کسی کام سے گھر سے باہر نکلا تو ابھی کچھ دور ہی گیا تھا کہ ایک گلی میں کسی گھر کے باہرایک کمسن بچی جھاڑو لگا رہی تھی ۔میلے کچیلے کپڑے پہنے مٹی میں اٹے بال اپنے کام میں مگن تھی کہ اسی اثناءمیں سامنے والی گلی سے اچانک دو بچیاں صاف ستھرا یو نیفارم پہنے،بیگ گلے میں ڈالے اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھیں۔میرے اور اس بچی کے درمیان کافی فاصلہ تھا،میں نے غور کیا تو وہ کمسن غریب بچی جھاڑو بھول کر ان اٹھکیلیاں کرتی بچیوں کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے تھی۔اس کا ہاتھ رک چکا تھا۔میں اس کے سامنے سے گزرتا ہوا گلی کے کنارے تک چلا گیا۔میں نے دوبارہ رک کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بچی اسوقت تک گم سم کھڑی انہی بچیوں کو دیکھ رہی تھی۔واللہ اعلم اسکے ماں باپ کن حالات کا شکار ہیں کہ اس پھول جیسی بچی جس کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہیے تھیں اسکے ہاتھ میں جھاڑو ہے۔اس بچی کا معصوم چہرہ میرے دماغ میں کئی سوالات اٹھا رہا تھا ۔ اس بچی نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا تھا ۔رات ایسا لگا کہ وہ بچی مجھے نیند سے جگا کر کہہ رہی ہے کہ میرا کیا قصور ہے،کیوں میں دوسری بچیوں کی طرح تعلیم حاصل نہیں کرسکتی؟ یہ سوال اس بچی کی طرف سے حکومت سے بھی ہے۔
خیر ایسی ہی ایک لڑکی کی کہانی آپکو بتانے لگا ہوں ۔جس نے بعد میں دنیا کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔پولینڈکے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی اس کا نام ماریا اسکودوفسکاتھا۔ 19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر عورت کی دس سال کی بیٹی کو پڑھاتی تھی ۔بچی کا بڑا بھائی اسکو پسند کرنے لگا،وہ بھی اسکی طرف مائل ہوگئی۔ آخرکار دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن جب لڑکے کی ماں کو پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا ۔اس نے ماریا کو کان سے پکڑ ا،گھر کے باہر لاکر کھڑا کیا اور آواز دے کر گھر کے سارے نوکروں کو جمع کیا اور چلا کر کہا کہ دیکھو یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کو ایک فراک ہے ،جس کے جوتوں میں سوراخ ہیںاور جسے 24گھنٹے میںصرف ایک وقت اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے اور وہ بھی ہمارے گھر میں۔یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے۔تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور اس عورت نے دروازہ بند کیا اور اندر چلی گئی۔ماریا کو ایسا لگا کہ کسی نے تیزاب کی بالٹی اس کے اوپر انڈیل دی ہو،وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی اور یہی سے اسکی ترقی کا سفر شروع ہوا۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ زندگی میں اتنی شہرت اور عزت کمائے گی کہ پورا پولینڈ اس کے نام سے پہچانا جائے گا۔یہ1981تھا وہ پولینڈ سے پیرس آئی ۔اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فزکس پڑھنا شروع کی ،وہ دن میں چوبیس گھنٹے پڑھائی کرتی تھی۔اس کے کمرے میں بجلی،گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی نہیں تھی وہ برفیلے موسم کی راتیںکپکپا کر گزارتی تھی جب سردی برداشت سے باہر ہوجاتی تو وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی آدھے بستر پر بچھاتی اور آدھے اوڑھ کر سو جاتی تھی۔5برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا۔نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہوجاتی تھی لیکن جب ہوش آتا تو بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خودکو تسلی دے لیتی تھی ۔ اسی دوران اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے ایک سائنس دان سے شادی کرلی وہ بھی اسی کی طرح مفلوک الحال تھا۔ وہ غربت کے اسی حال میں پی ۔ایچ۔ڈی تک پہنچ گئی۔ماریا نے پی۔ایچ۔ڈی کے لیے عجیب وغریب موضوع چنا تھا۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دنیاکو بتائے گی کہ یورینیم سے روشنی کیوں نکلتی ہے؟یہ بظاہر ناممکن کام تھا لیکن اس نے بہت محنت کے بعد آخرکار ایسا عنصر دریافت کرلیا جو یورینیم کے مقابلے میں 20لاکھ گنا روشنی پیدا کرتا ہے۔اس نے اس کا نام ریڈیم رکھا۔ لوگوں نے ثبوت مانگا تو ان دونوں نے 4برس تک 8ٹن لوہا پگھلا کر ایک مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کیا۔بھٹی کے زہریلے دھویں نے ماریا کے پھیپھڑوںمیں سوراخ کر دیئے۔اپنی زندگی کوتعلیم اور ایجاد کے لیے داﺅ پرلگا دیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی۔آج ہم جسے شعاعوں کا علاج کہتے ہیں وہ ماریا ہی کی ایجاد ہے اگر وہ لڑکی اپنی زندگی اس ایجاد کے لیے وقف نہ کرتی تو آج کوئی کینسر کا مریض زندہ نہ بچتا۔دنیا نے اس عظیم عورت کو “مادام کیوری”کے خطاب سے نوازا۔ماریا سے مادام کیوری بننے کے پیچھے وہ پولش امیر عورت کا ذلت آمیز رویہ تھا۔جس وقت دنیا “مادام کیوری”کو اس عظیم ایجاد کے بدلے میں اربوں ڈالر پیش کررہی تھی تو معلوم ہے اس نے کیا کہا؟میں یہ دریافت اس کمپنی کو دوں گی جو پولینڈ کی ایک بوڑھی عورت کا مفت علاج کرے گی۔جی ہاں یہ وہ ہی امیر عورت جس نے کبھی اس کو کان سے پکڑ کر گھر سے نکال دیا تھا۔وہ اس وقت کینسر کے مرض میں مبتلا ہوکر بستر مرگ پر تھی۔قارئین “مادام کیوری”کی زندگی سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں۔سب سے پہلے یہ کہ زندگی میں اگر کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہو تو یہ مت سوچو کہ آپکے پاس کتنے وسائل ہیںکھانے کو تازہ روٹی ہے یا نہیںبس محنت کرتے جائیں۔دوسرا یہ کہ کوئی ساتھ دینے والا نہیں ملتا جو آپکی حوصلہ افزائی کرے تو ہمت نہیں ہارنی ذہن میں “مادام کیوری”کی جدوجہد لاکر آگے بڑھتے جانا ہے۔دنیا میں جتنے کامیاب انسان گزرے ہیں ،کامیابی ان کے سامنے تھال میں سجا کر پیش نہیں کی گئی۔اس کے پیچھے کئی سالو ں کی انتھک محنت ہوتی ہے اور ان سب باتوں کا نچوڑ” تعلیم” ہے۔پاکستان میں کتنی ہی”مادام کیوری”غربت سے دلبرداشتہ لوگوں کے گھروں میں جھاڑو لگا رہی ہونگی،صرف انکی تھوڑی ہمت بڑھانے کی ضرورت ہے۔حکومت کو بھی چاہیے کہ U.C کی سطح پر مانیڑنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو غریب اور لاچار بچوں کا ریکارڈ مرتب کرکے انکو بنیادی تعلیم تک رسائی کو یقینی بنائیں۔یہ کام حکومت اور عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔اور انکو سرکاری سکول میں پرائیوٹ سکول جیسی تعلیم ہمارے مستقبل کے معماروں کو دینی ہوگی۔مجھے امیدہے کہ آئندہ سالوں میں کوئی پاکستانی لڑکی “مادام کیوری”کی طرح کوئی ایسی دریافت کرنے میں کامیاب ہو جو پوری دنیا کو محو حیرت میں ڈال دے اور رہتی دنیا تک پاکستان کا نام سنہری الفاظ میں لکھا جائے(آمین)۔یہ کام مشکل ضرورہے لیکن نا ممکن نہیں۔کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ “یکساں تعلیمی نظام پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے”اس سلسلے میں حکومت کو ترجیہی بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے مستفیدہوکر ہماری آنے والی نسلیں پاکستان کو ترقی کی بلندیوں پر لے جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

یوسی پی میڈیا سکول کے زیراہتمام دوسرا ٹی وی اینکرنگ کورس اختتام پزیر

(لاہور۔ (فاطمہ فیاض) یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کی فیکلٹی آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے …

ایک تبصرہ

  1. حسن تیمورجکھڑ

    بہت خوب جناب
    اپکی تحاریر میں پختگی کے آثار پیدا ہورہے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *