ہوم > کالم > تیراغم،میراغم اک جیساصنم کھجل خواری کی کہانی۔۔۔۔۔۔مناظرعلی کی زبانی

تیراغم،میراغم اک جیساصنم کھجل خواری کی کہانی۔۔۔۔۔۔مناظرعلی کی زبانی

میرے کانوں میں ابھی تک ایمبولینس کی آوازسنائی دے رہی ہے،شام کے وقت جب زندہ دلوں کے شہرمیں کرکٹ بحالی کے نام پرایک طرف قذافی سٹیڈیم میں لوگوں کا جم غفیر تھا تودوسری طرف ایمبولینسزسڑکوں پرراستے تلاش کررہی تھیں،کہیں کنٹینرکھڑا ہے توکہیں خاردار تاریں،کہیں پولیس اہلکاربندوق تانے کھڑے ہیں توکہیں وارڈن غصے سے شرابورہوکر

لوگوں کو کہہ رہے تھے ایک بار بتانے سے تمہیں سمجھ نہیں آرہی کہ آگے راستہ بندہے،بھئی مگرجانا کہاں سے ہے؟۔۔پتہ نہیں مگرہماری جان چھوڑو،راستہ بندہے آگے سے،ایک بار کہہ دیاسو کہہ دیا۔۔میں یہ سطورصرف اس لیے نہی لکھ رہاکہ مجھے نجم سیٹھی پرغصہ ہے،بھلامیں کیوں غصہ کروں؟ زندہ دل بھی خوش ہیں اورکرکٹ شائقین بھی سیٹی بجنے پرخوشی سے نہال ہورہے ہیں اورجواریوں کی توخیرموجیں ہی لگی ہوں گی،اب یہ کہاں کہاں پر کتنے جوئے ہوتے ہیں یہ لسٹ تو کسی تھانیدار سے پوچھیں،البتہ راستے پرچلتے کچھ لوگوں کو سناضرورتھا کہ یہ پی ایس ایل بھی بہت بڑی “گیم”ہے جو عام آدمی کی سمجھ سے باہرہے،عام بندہ توبس میچ دیکھے اوردوسرے کھجل خوارہوکر گھرجائیں۔۔۔۔۔بات کہیں اورجارہی ہے،معاف کرنابھئی،،بات تو لوگوں کی کھجل خواری کی ہورہی تھی،،میں ذاتی طورپرجیل روڈپرواقع اپنے دفترسے نکلا،جوڈیشل کالونی میں ایک محسن سے میٹنگ تھی،لینڈمارک پلازہ کے یوٹرن کی امید لیے گیاتووہاں ٹرک کھڑے تھے،پوچھاتوبتایاگیا کہ صدیق ٹریڈسنٹر کی طرف جائیں،وہاں پہنچے توکہاگیاکہ آگے چلیں پتہ چل جائے گا،حفیظ سنٹرکے باہرگاڑیوں کا جیسے اتوار بازار لگاہو۔گھبراہٹ ہونے لگی کہ شاید راستہ بندہے اوروہ یقینا بندہی تھا،پھر ایم ایم عالم روڈ کارخ کیاجس نے فردوس مارکیٹ پہنچا دیا،میاں منشاء کے کپڑے میں لپٹے ایک پولیس والے نے بتایاکہ یہاں سے رائٹ ہوکرکلمہ چوک چلے جائیں اور وہاں سے ٹھوکرنیازبیگ کی طرف بڑھیں۔۔

چندقدم آگے بڑھے ہی تھے کہ وارڈن کابھلاہوجویقیناتازہ دم تھا،اس نے تحمل سے بتایاکہ بھائی راستہ بندہے آگے،آپ یہاں سے ڈیفنس موڑ جائیں توزیادہ بہترہوگا،،،یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ جیل روڈسے یہاں تک پہنچتے پہنچتے مجھے ایک گھنٹہ لگ چکاتھا جو روٹین کے دس منٹ کاسفر ہے۔خیرمنزل کاتوعلم تھا مگر راستے کہاں سے کہاں لے جائیں گے یہ بالکل اندازہ نہیں تھا،اللہ کانام لیا اور ڈیفنس موڑ پر پہنچ گئے جہاں پر ٹریفک کے لمبے عذاب سے تقریبا ایک گھنٹے بعد نجات ملی،،رفتہ رفتہ جوں کی رفتارسے والٹن روڈپر فیروزپور روڈ کی طرف رینگتے رہے اوربالکل فیروز پور روڈپرپہنچنے میں کامیاب ہوگئے،،،راستے میں جگہ جگہ ٹریفک کے ہجوم نے خوفناک استقبال کیا اورپھر ایک اہلکارکی رہنمائی کرنے پرپیکو روڈپر چڑھ گئے،قائداعظم انڈسٹریل سٹیٹ کے سامنے نجانے کیوں ٹریفک جام تھی،حالانکہ یہ جگہ قذافی سٹیڈیم سے خاصی دور ہے۔۔پیکو روڈمکمل طورپر جام تھاجہاں اندازہ لگاتے لگاتے گلیوں میں گھس گئے اورمصیبتوں کے پہاڑوں سے گزرتے گزرتے ایک چوک پرپہنچے،دیکھاتوسامنے واپڈاٹاؤن لکھاتھا،ورطہ حیرت میں ڈوبے،شوکت خانم ہسپتال کی طرف بڑھے،جہاں چوک پرڈیفنس موڑ کی یاد تازہ ہوگئی اورمجھے آزادی فلائی اوور تعمیرہونے سے پہلے کایادگارچوک بھی یاد آگیا۔۔بھلاہواس ٹریفک جام کا،بھلاہوپی ایس ایل کا،بھلاہوچڑیاوالی سرکار،میرامطلب ہے نجم سیٹھی کا،جس کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنے کوملا،کسی کوکرکٹ دیکھنے کوملی توکسی کوذلالت۔۔۔منٹوں کی مسافت گھنٹوں میں طے کرکے جب متعلقہ دوست کے پاس پہنچےتووہ بھی بیچارہ کہیں سے خوارہوکرپہنچاہی تھا،اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہی میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔۔۔تیراغم،میراغم،اک جیساصنم۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

اتنا مہنگا کمر بند ، پاگل ہے کیا ؟ وسعت اللہ خان

گذشتہ برس مئی کی بات ہے۔کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں ایک فلیٹ کے …

2 تبصرے

  1. میری خوش قسمتی کہیے کہ میں ایسی صورتحال سے دوچار ہوتے ہوتے رہ گیا کل بھی اور آج بھی ۔۔۔۔
    میں دونوں مرتبہ راستہ بندہوتےوقت اولین میں شامل تھا جن کو نکلنے کا موقع خود وارڈنز نے فراہم کیاکہ تسی نکل جاو باو جی

    • جناب کاتوکوئی جواب نہیں،ملاقات میں یہ گرآپ سے سیکھنا پڑیں گے،مگرپھر بھی پی ایس ایل کاشکریہ،،میرے قلم کو زنگ لگ رہاتھا،اس نے موقع فراہم کردیا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *