30

ووٹوں کی خرید و فروخت کا الزام : اہم ترین ملک کےصدر نے استعفیٰ دے دیا

لیما(ویب ڈیسک)جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں ووٹوں کی خریدو فروخت کا اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد پیرو کے صدر نے استعفیٰ دے دیا۔ قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ سیاستداں نہیں ماہر معاشیات تھے اور ملک کی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔پیرو کے 79 سال

کے صدر پیڈرو پابلو کَک زِنسکی کے خلاف ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں حکومتی ارکان حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی سے وعدہ کر رہی ہیں کہ اگر انہوں نے مواخذے میں صدر کو ووٹ دیا تو انہیں اس کا مالی فائدہ ہو گا۔صدر پیڈرو اس سے قبل دسمبر میں ہونے والے ایک مواخذے میں اپنی حکومت بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے جس کے بعد انہوں نے اسے اپوزیشن کی بغاوت قرار دیا تھا۔یاد رہے اس سے پہلے فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو پولیس نے حراست میں لےلیا ہے۔فرانسیسی اخبار لیمانڈے کے مطابق سابق فرانسیسی صدر کو 2007کےانتخابات کے دوران ان کی انتخابی مہم کو لیبیاکی جانب سے فنڈنگ فراہم کرنے کے الزامات کی تفتیش کےلیے گرفتارکیاگیاہے۔اس تفتیش کا آغاز 2013میں ہواتھا تاہم یہ پہلی بارہےکہ نکولس سرکوزی سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔پولیس انھیں 48گھنٹے تک تحویل میں رکھ سکتی ہے اوراگر چاہے تو الزامات کی کھوج لگانے کےلیے سابق صدرکو مجسٹریٹ کی عدالت میں بھی پیش کرستی ہے تاکہ ان پر فرد جرم عائد کی جاسکے۔پیرس (آئی این پی) فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ فرانسیسی اخبار کے مطابق سابق فرانسیسی صدر کو 2007 کے انتخابات کے دوران

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں