39

اس کام کی وجہ سے شامی اسپتال پر بمباری ہوئی ۔۔۔ایسی وجہ سامنے آگئی کہ جان کر آپ بھی پریشان ہو جائیں گے

دمشق (ویب ڈیسک)شام میں زخمیوں کو طبی امداد بہم پہنچانے والے ایک برطانوی سرجن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہیکروں کی جانب سے اس کے کمپیوٹر ڈیٹا تک رسائی روسی جنگی طیاروں کو حلب کے ایک اسپتال پر بمباری کا موجب بنی تھی۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی سرجن ڈاکٹر ڈیوڈ نوٹ کا کہنا ہے کہ حلب کے اسپتال پر بمباری اس

وقت کی گئی تھی جب اسپتال کے ڈاکٹروں کو زخمیوں کی سرجری کرنے کی فوٹیج سامنے آئی تھی۔ یہ فوٹیج اسپتال پر روسی جنگی طیاروں کی بمباری کا موجب بنی تھی۔ اس فوٹیج میں ڈاکٹروں کو اسپتال سے دور بیٹھ کر ’اسکائپ‘ اور ’واٹس ایپ‘ کے ذریعےمقامی عملے کی رہ نمائی کرتے دیکھا جاسکتا ہےْبرطانویاخبار ٹیلی گراف کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں برطانوی ڈاکٹر ڈیوڈ نوٹ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اسکائپ اور واٹس ایپ کو حلب میں ایک زیرزمین فیلڈ اسپتال میں ڈاکٹروں کو سرجری کی ہدایات دینے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔برطانوی ڈاکٹر کاکہنا ہے کہ ’بی بی سی‘ ٹیلی ویژن نے ایک فوٹیج نشر کی جس میں حلب کے اسپتال میں ڈاکٹروں کو سرجری کرتے دکھایا گیا۔ یہ فوٹیج مبینہ طورپر کمپیوٹر کو ہیک کرنے کے بعد حاصل کی گئی تھی۔ فوٹیج کا نشرکرنا اسپتال پر شامی اور روسی طیاروں کی بمباری کا موجب بنا، جس کے نتیجے میں متعدد مریض اور زخمی ہلاک ہوگئے اور اسپتال کو بند کرنا پڑا تھا۔ڈاکٹر نوٹ کا خیال ہے کہ حلب کے اسپتال پر بمباری کے لیے خفیہ معلومات کمپیوٹر سے فراہم کی گئی تھیں۔خیال رہے کہ برطانوی ڈاکٹر نے شام میں دسیوں زخمیوں کی سرجری کی مگر یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے کمپیوٹر سسٹم کی مدد سے زخمیوں کی سرجری کا طریقہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک غلطی تھی اور وہ آئندہ اس کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ٹیلی گراف‘ کے مطابق بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی جلد ہی اس حوالے سے اپنے رضاکاروں کا ایک اجلاس منعقد کرے گی جس میں ڈاکٹر نوٹ کے خدشات کے پیش نظر کمپیوٹر کے ہیک کیے جانے کے خطرات سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس واقعے کو انسانیت کے خلاف جرم سے تعبیر کیا ہے۔ڈاکٹر نوٹ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ہمیں جس چیز نے دکھ پہنچایا وہ یہ کہ ہم جنگ زدہ علاقوں میں ڈاکٹروں کی کوئی مدد نہیں کرسکے۔ اگر مریضوں کے علاج پر کوئی نظر رکھے ہوئے تھا اور اسپتال پر بم باری کی تو وہ جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں