24

ایک یادوارب نہیں،پورے ساٹھ ارب کاٹیکس۔۔ہوش اڑانے والی خبرآگئی

یہ خبرپڑھتے ہی انسان حیران رہ جاتاہے کہ ٹیکس کم توقابل قبول ہے مگراتنا زیادہ ٹیکس لگنے سے متعلقہ شخص،ادارے یاحکومت پرکیاگزرے گی لیکن ایسے حکم نامے پردستخط ہوچکے ہیں۔۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے 60 ارب ڈالر تک کی درآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں

۔ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی درآمدات پر محصولات لگانے کے حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا میں چین کی تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے متعدد اقدامات میں سے پہلا تجارتی ایکشن ہے۔امریکی صدر کے اس اقدام سے 60 ارب ڈالر تک کی چینی مصنوعات پر اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا البتہ ان مصنوعات کی فہرست بعد میں جاری کی جائے گی۔وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ اقدام کا مقصد چین کے اس غیر منصفانہ تجارتی طریقہ کار کو روکنا ہے جس کے ذریعے بیجنگ ہماری کمپنیوں کے املاک دانش یعنی نت نئے خیالات کو چوری کر رہا ہے۔چین کے خلاف تازہ ترین امریکی ایکشن کے تحت امریکا کے تجارتی نمائندے رابرٹ لائٹیزر کا ادارہ چین کے غیر منصفانہ تجارتی اقدامات کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ 15 روز میں جاری کرے گا جس میں امریکی املاک دانش کی چوری میں ملوث چینی مصنوعات کی فہرست شامل ہوگی۔وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ امید کرتے ہیں دوسرے ممالک بھی چین کے خلاف اس اقدام میں ہمارا ساتھ دیں گے۔صدارتی حکم نامے کے مندرجات کے مطابق ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 60 روز کے دوران ہونے والے مشاورت کے بعد ہی چینی درآمدات کو نشانہ بنائیں گے۔۔۔۔

اس عرصے کے دوران انڈسٹری لابسٹ اور قانون سازوں کے پاس یہ موقع ہوگا کہ وہ 1300 چینی مصنوعات کی مجوزہ فہرست میں رد و بدل کراسکیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے خلاف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے اس سلسلے میں چین سے بات کی ہے اور ہمارے مذاکرات اب بھی جاری ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ غیر منصفانہ تجارت کی وجہ سے امریکا میں روزگار کے مواقع کم ہورہے ہیں اور ان کے صدارتی منشور میں روزگار کی فراہمی اولین ترجیح تھی۔خیال رہے کہ اس وقت امریکا کا چین سے مصنوعاتی تجارتی خسارہ 375 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔امریکی اقدامات سے چین کے ٹیکنالوجی کے شعبے کو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا امکان ہے۔علاوہ ازیں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی محکمہ خزانہ کو یہ ہدایات بھی جاری کریں گے کہ وہ ان اقدامات کی نشاندہی کرے جن کے ذریعے امریکا میں چینی سرمایہ کاری کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں