34

کنیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے زندگی میں آنے والے وہ دو المناک واقعات جو انکی زندگی بدل گئے۔۔۔پڑھیے دنیا کے مقبول ترین حکمران کے حالات زندگی

لندن(ویب ڈیسک)دراز قد، کسرتی بدن، خیرہ کُن رنگت، شوخ و چمک دار سُرمئی آنکھیں، روشن پیشانی سے اٹکھیلیاں کرتی سُنہری زُلفیں، سحر انگیز تبسّم اور دِل میں اُتر جانے والا اندازِ تکلّم…یہ تمام خصوصیات اگر کسی ایک سیاسی رہنما میں پائی جاتی ہیں، تو وہ ہیں، کینیڈا کے 47سالہ وزیرِ اعظم، جسٹن ٹروڈو

جن کا انسانیت سے اُنس و محبّت دیکھ کریہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے احساسِ تفاخر اور طمطراق اُنہیں چُھو کر بھی نہیں گزرا۔ گرچہ اُمورِ جہاں بانی گُھٹّی میں پڑے تھے، لیکن 35برس تک خار زارِ سیاست سے کہیں دُور نِت نئے جہاں تلاش کرنے میں مصروف رہے اور اس تگ و دَو میں معلّم سے لے کر بائونسر تک کے فرائض نبھائے۔ اگر بات جسٹن ٹروڈو کی خُوب صُورت، جاذبِ نظر شخصیت اور رکھ رکھائو ہی تک محدود ہوتی، تو شاید زیادہ اہم نہ تھی کہ وجاہت اور حُسن و جمال توپیدائشی طور پر قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ ہوتے ہیں۔ مگر اس بات کا سہرا کینیڈین وزیرِ اعظم کے سَر ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے احساسِ درد مندی سے نہ صرف مختلف نسلی و لسانی اکائیوں سے تعلق رکھنے والے کینیڈین باشندوں کے درمیان جذبۂ یگانگت پیدا کیا، بلکہ ہزاروں مہاجرین کو بھی اپنایا اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کی بہ دولت قریب المرگ، لبرل پارٹی میں نئی رُوح پُھونک کر وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ کرسمس کے روز پیدا ہونے والے جسٹن ٹروڈو نے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے کینیڈا میں مقیم اقلیتوں کے تہواروں میں شرکت اور مساجد، مندروں اور گوردواروں کے دوروں

یہ بھی ضرورپڑھیں : لاچارمریضوں کی بولتی تصویروں پر”مناظرعلی ” کی رونگٹے کھڑے کرنے والی تحریر
کے نتیجے میں دُنیا بالخصوص پاکستان اور بھارت میں مقبولیت حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دِنوں اپنے دورۂ بھارت کے موقعے پر جب مشرقی لباس میں ملبوس جسٹن ٹروڈو اور اُن کی اہلیہ اور بچّوں کی تصاویر منظرِ عام پر آئیں، تو انہیں سوشل میڈیا اور روایتی ذرایع ابلاغ میں بے حد پزیرائی ملی۔2015ء میں کینیڈا کے 23ویں وزیرِ اعظم منتخب ہونے والے جسٹن پیرے جیمز ٹروڈو 25دسمبر 1971ء کو دارالحکومت، اوٹاوا میں پیدا ہوئے۔ سیاست میں آمد سے قبل ایک معلّم اور سماجی کارکن کے طور پر خدمات انجام دینے والے جسٹن ٹروڈو ،سابق کینیڈین وزیرِ اعظم، پیرے ٹروڈو کے سب سے بڑے صاحب زادے ہیں اوران کی والدہ کا نام،مارگریٹ ٹروڈو ہے۔ سیاست ان کے خون میں شامل ہے کہ ان کے نانا، جمی سنک لیئر 1950ء کی دہائی میں کینیڈا کی وفاقی کابینہ میں وزیر رہے۔ جسٹن 2007ء میں اسٹیبلشمنٹ کے نمایندے کو شکست دے کر مونٹریال کے ضلعے،پاپی نیو سے لبرل پارٹی کے امیدوار نام زَد ہوئے اور ایک سال بعد دارالعوام ( کینیڈا کے ایوانِ زیریں) کے رُکن منتخب ہوئے۔ اُن کا رُکنِ پارلیمنٹ منتخب ہونا ،اس اعتبار سے حیران کُن تھا کہ سیاسی پنڈت مسلسل انہیں فرانسیسی بولنے والے ووٹرز کے لیے ناقابلِ قبول قرار دے رہے تھے۔

انہوں نے 2013ء میں لبرل پارٹی کی قیادت حاصل کی اور2015ء میں اپنی جماعت کو ایوان میں برتری دِلا کر کینیڈا کے وزیرِاعظم منتخب ہوئے۔جب جسٹن ٹروڈو کی عُمر صرف 6برس تھی، تو ان کے والدین کے درمیان علیٰحدگی ہو گئی اور وہ اور ان کے دو چھوٹے بھائی، الیگزینڈر اور مائیکل اپنے والد کے زیرِ کفالت رہے۔ اپنی زندگی کے ابتدائی ایّام وزیرِ اعظم کی سرکاری رہایش گاہ، 24سسیکس ڈرائیو میں گزارنے کی وجہ سے وہ اکثر عوام کی نظروں میں رہتے۔ جب جسٹن کی عُمر 12برس ہوئی، تو اُن کے والد نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا اور اپنے بیٹوں کے ساتھ مونٹریال منتقل ہو گئے، جہاں جسٹن نے اپنے والد ہی کی مادرِ علمی، کالج جین ڈی بری بیوف سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ بعدازاں، مزید تعلیم کے حصول کے لیے میک گِل یونی ورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں وہ مذاکرے کرنے والی ٹیم کے رُکن اور جنسی تشدّدکے خلاف کام کرنے والی اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے رضاکار بھی رہے۔ 1994ء میں انگلش لٹریچر میں گریجویشن کے بعد جسٹن نے ایک سال بیرونِ مُلک سفر کرتے گزارا۔ 1995ء میں میک گِل یونی ورسٹی میں واپس آئے اور اتالیق بننے کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ تاہم، تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی وِسلر، برٹش کولمبیا منتقل ہو گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں