23

اسرائیل کے دن پورے ہو گئے ۔۔۔اقوام متحدہ میں بڑی کارروائی کی خبر آگئی

نیو یارک(ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اس کے منشور کی 7ویں شق کے تحت اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کی درخواست پر 5 قراردادوں کی منظوری دی۔سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے منشور کی 7ویں شق کے مطابق

یہ کونسل ہر اجلاس میں غرب اردن کے علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہے۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے چندماہ قبل غیر قانونی صیہونی بستیوں کی تعمیرمیں مصروف 206 کمپنیوں کی فہرست جاری کی تھی۔اس فہرست پر اسرائیل اور امریکہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ان کمپنیوں میں سے 143 کا تعلق اسرائیل سے اور 22 کا تعلق امریکہ سے ہے۔انسانی حقوق کونسل نے اپنے تازہ موقف میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کردیا۔اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے اسرائیل کے خلاف 5 قراردادوں کی منظوری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل مخالف قراردادیں پاس کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ انسانی حقوق کونسل سے باہر نکل جائے گا۔دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھولے جانے کے بعد بھارت کی سرکاری فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے نئی دہلی سے براستہ سعودی عرب تل ابیب کے لیے اپنی پہلی پرواز مکمل کی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایئر انڈیا کی دہلی سے اڑان بھرنے والی پرواز اے آئی 139 نے

تل ابیب کے بن گوريون ایئرپورٹ پر شام سات بج کر 45 منٹ پر لینڈ کیا۔اس حوالے سے اسرائیلی وزیر برائے ٹرانسپورٹ يسرائيل كاٹس کا کہنا تھا کہ ایئر انڈیا کی نئی دہلی سے تل ابیب کے لیے پرواز اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان پہلا باضابطہ تعلق ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘یہ ایک تاریخی لمحہ ہے’۔اسرائیل کے وزیر سیاحت ياریو ليوین نے بھی اس حوالے سے ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے، جس کے پیچھے سالوں کی محنت پوشیدہ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی فضائی حدود کے استعمال سے نہ صرف بھارت تک کا سفر کم وقت میں ہوگا بلکہ سفری اور ٹکٹ کے اخراجات بھی کم ہو جائیں گے۔اگرچہ ریاض نے باقاعدہ طور پر ایئر انڈیا کی پرواز کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کی تصدیق نہیں کی، تاہم اس اقدام سے اسرائیل سے آنے اور اسرائیل جانے والی پروازوں پر سعودی فضائی حدود سے گزرنے کی 70 سالہ پابندی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب اس حوالے سے بھی کچھ نہیں بتایا گیا کہ اس کا اطلاق کسی اسرائیلی ایئرلائن پر بھی ہوگا یا نہیں۔اگرچہ اسرائیل کی قومی ایئرلائن ال عال بھارتی شہر ممبئی کے لیے پرواز کرتی ہے، لیکن اس کے لیے وہ سعودی عرب اور ایران کی فضائی حدود کے بجائے بحیرۂ احمر کا روٹ اختیار کرتی ہے۔واضح ہے کہ سعودی عرب، اسرائیل کو بحیثیت ملک تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کے سفارتی تعلقات بھی قائم نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں