ہوم > کالم > جہاں جانوراورانسان ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں۔۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

جہاں جانوراورانسان ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں۔۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

تمہیں احساس ہی نہیں کہ وہاں لوگ کتنے مجبور،کتنے محروم اورکس طرح کسمپرسی کے عالم میں رہتے ہیں،اپنےحقوق کے لیے آوازبلندکرنابھول ہی جائیں کیوں کہ وہاں سانس بھی وڈیروں کی اجازت سے لی جاتی ہے،عام لوگوں کے بچوں کی تعلیم میں زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی کہ کہیں یہ پڑھ لکھ کراپنے حقوق کیلئے آوازہی بلندنہ کردیں۔۔اور تواور وہاں جانوراورانسان ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں ۔۔

میں دفترمیں ابھی پہنچاہی تھا کہ نیوز روم میں ایک آوازبلندہورہی تھی کہ ان کاعلاقہ انتہائی پسماندہ ہے،وہاں محرومیوں کے ڈیرے ہیں،اس سے ملتی جلتی گفتگومیں پہلے بھی کئی بار سن چکاتھا مگرسنی ان سنی کرتارہا،سمجھ لیں کہ جیسے حکمران عوام کی بات سنی ان سنی کردیتے ہیں۔مگراس جملے نے میری خاموشی توڑدی”وہاں جانوراورانسان ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں”۔۔یقین نہیں آیاتواسے بلالیاکہ یہ جوآپ باتیں کررہے ہیں کیاواقعی ایساہے؟۔۔یہ کس علاقے میں ہے اوریہاں کون ذمہ دارہے؟۔۔بات سن کرمیری آنکھیں بھی کھل گئیں۔کہنے لگایہاں وڈیروں کی چلتی ہے،یہاں جاگیرداروں کی حکمرانی ہے اوریہ حکمرانی زبانی کلامی نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں ہمیشہ سے ہی یہاں کے” بڑے” کرسیوں پربراجمان رہ چکے اور ابھی تک ہیں۔۔فاروق لغاری سے اب تک کی تفصیل پڑھ لیں،اس نے کافی سرکردہ نام لے ڈالے،وفاقی وزیر اویس خان لغاری،ڈپٹی سپیکرپنجاب اسمبلی سردارشیرعلی گورچانی بھی اس علاقے کے ذمہ دار ہیں۔۔میں نے اسے کہاکہ ذیشان صفدرجو آپ نے ان بڑے لوگوں پرالزامات لگائے ہیں کہ وہ علاقے پرتوجہ نہیں دیتے اس میں کس حدتک سچائی ہے،کہنے لگے کہ آپ سب چھوڑیں میرے ساتھ علاقے کاوزٹ کریں اورپھر دیکھیں کہ لوگ کس طرح محروم ہیں،عام لوگ کسی نہ کسی طرح وڈیروں کے آگے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں،کچھ زمینوں پرکام کرتے ہیں اورکچھ ڈیروں پرحقہ تازہ کرتے ہیں،خواتین کچھ گھروں میں جھاڑو پوچاکرتی ہیں توکچھ کھیتوں میں کام کرتی ہیں،اگر کوئی خوس قسمتی سے پڑھ لکھ جائے توپھر نوکری کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں،پھر مجبورانہیں لاہور،کراچی سمیت دیگرشہروں میں نوکری کی تلاش میں خاک چھاننا پڑتی ہے۔اگرقسمت ساتھ دے تونوکری مل جاتی ہے ورنہ بادل نخواستہ انہیں محرومیوں کیساتھ زندگی کے شب وروزگزارناپڑتے ہیں،موت کا ہی انتظارکرناہے توکیا فرق پڑتاہے،زندگی اچھی گزرے یاپھر بری؟؟

پانی کی صورتحال سب سے گھمبیرہے۔لوگوں کوپینے کاصاف پانی وافرمیسر نہیں حتی کہ بہت سے علاقے جو ویسے توپنجاب کاحصہ ہیں مگروہاں خادم اعلیٰ کی خدمت کانام ونشان تک نہیں،بنیادی ضرورت صحت،تعلیم اور روزگارکاتو آپ ذکر ہی مت کریں،جب زندگی کی علامت پانی ہی میسر نہیں ہوگاتوپھرخوراک کی صورتحال تسلی بخش کیسے ہوسکتی ہے۔اس کاسب سے زیادہ زور بھی پانی پرہی تھا،پانی کی بات کرتے کرتے اس کا گلہ خشک ہوگیا،نمناک آنکھوں سے اس نے دیکھا تومیں نے پانی کاگلاس اسے تھماتے ہوئے کہاکہ “اورکیامسائل ہیں؟”۔۔سر پانی۔۔۔۔۔پانی بڑامسئلہ ہے داجل کا۔۔مجھے یہاں اویس لغاری کا وہ بیان یادآیا جس میں انہوں نےپانی کا معاملہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں اٹھانے کا اعلان کیا تھا” لیکن داجل جیسے علاقے میں جانور اورانسان ایک ہی تالاب سے پانی پینے پرمجبورہیں شایدیہ بات ان کے علم میں نہیں،یا پھر انہیں فرق نہیں پڑتا کہ لوگ پانی گلاس سے پئیں یا پھر گندے تالاب سے۔ دوسری جانب آپ ڈپٹی سپیکرصاحب کا بیان بھی ملاحظہ کریں۔۔جس میں انہوں نے کہاتھا کہ” مسلم لیگ(ن) نے جنوبی پنجاب کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے اربوں روپے کے وسائل فراہم کیے ہیں،رواں مالی سال سالانہ ترقیاتی بجٹ کا 36فیصد جنوبی پنجاب پر خرچ کیا گیا ۔ رواں مالی سال جنوبی پنجاب میں 229ارب کے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جارہے ہیں، جنوبی پنجاب کے مسائل کے حل کیلئے مسلم لیگ ن کی قیادت کا ویژن اورمحنت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

یہاں ایک سوال جہاں اس علاقے کے وڈیروں اورجاگیرداروں سے ہے وہیں ان اہل اقتدارسے بھی ہے کہ آپ کی زبان سے یہ بیان جاری ہوئے ہیں کہ اربوں روپے آپ کو علاقے کی تقدیربدلنے کے لیے ملے ہیں پھرداجل سمیت دیگرعلاقوں کے عوام جانوروں جیسی زندگی کیوں بسرکررہے ہیں؟کیاوہاں کے لوگ صحت کی بنیادی سہولتوں کے حقدارنہیں،کیاآپ کی دن رات خدمت کرنے والے لوگوں کے بچے اچھی تعلیم کے مستحق نہیں،آپ کی زمینوں میں ہل چلاکروہاں سے سوناپیداکرنے والے صاف برتن میں صاف ستھراپانی پینے کے اہل نہیں،آپ کی حکومت اپنے انجام،،میرا مطلب ہے اختتام کوپہنچ رہی ہے اورابھی تک داجل کے علاقے میں بارشی پانی جمع کرکے لوگ اپنی اوراپنے جانوروں کی پیاس بجھاتے ہیں،اس صورتحال پر اب افسوس کے سوااور کیاہوسکتاہے؟سوچیئے گا ضرور،میرایقین ہے کہ آپ کاضمیرآپ کو ملامت ضرور کرے گا۔

یہ بھی دیکھیں

کیا اسٹیبلشمنٹ نوازشریف کو جتوانا چاہتی ہے؟

تحریر: عمران راجپوت اِس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی سیاست میں …

ایک تبصرہ

  1. غزل جاوید خان

    سر
    بہت اچھا ٹاپک تھا?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *