Sunday , November 18 2018
ہوم > پاکستان > ذرا اس کا نام تو بتاؤ۔۔۔عائشہ گلا لئی نے مومنہ مستحسن سے بڑے کام کا سوال پوچھ لیا

ذرا اس کا نام تو بتاؤ۔۔۔عائشہ گلا لئی نے مومنہ مستحسن سے بڑے کام کا سوال پوچھ لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) میشا شفیع کے بعد معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنسی ہراساں ہونے کا یہ معاملہ صرف علی ظفر تک محدود نہیں، یہ معاملہ مجموعی طور پر مردوں سے

منسلک ہے جو عورتوں کے ساتھ تعلق میں اعتماد کو اہمیت نہیں دیتے۔ مومنہ نے کہا اکثر اوقات خواتین کی عزت کے ساتھ وہ ہی لوگ کھیلتے ہیں جو ان کو کسی نہ کسی طور پر جانتے ہیں، اس معاملے میں ملوث ہر اس مرد کو کھلم کھلا معافی مانگنی چاہئے۔ ادھر میشا شفیع نے اب تک خاموش رہنے کی وجہ بتا دی ہے۔ میشا شفیع کا کہنا تھا کہ جب پہلی بار میرے ساتھ یہ واقعہ ہوا میں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا بس وہاں سے چلی گئی اور میں نے اس بارے میں اپنے شوہر کو بتایا اور ان سے بھی چپ رہنے کیلئے کہا کیونکہ ہم دونوں (میں اور علی ظفر) مشہور شخصیت ہیں میری سوچ اس وقت یہ تھی کہ میں کون ہوں اور وہ (علی ظفر) کون ہے اور اگر یہ واقعہ سامنے آگیا تو کیا ہو گا۔ دوسری مرتبہ علی ظفر نے مجھے اس وقت ہراساں کیا جب ہم لاہور میں کنسرٹ کیلئے ایک ساتھ تھے۔ اب میں اس واقعے پر بات کرنے کیلئے بالکل تیار ہوں، میں نے اس حوالے سے لوگوں سے بات کی اور محسوس کیا کہ اب اس پر مزید خاموش رہنا بہت مشکل ہے۔ ادھر تحریک انصاف گلالئی کی سربراہ عائشہ گلالئی نے ان کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ٹوئٹر پر عائشہ گلالئی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مزید خواتین نے خاموشی توڑی اور جنسی ہراسگی کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنسی ہراساں کرنے والوں کے نام منظر عام پر لائے جانے چاہئیں اور انہیں بے عزت کیا جانا چاہئے۔ اداکارہ ماہرہ خان نے میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کے الزام پر کہا ہے کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت ہے

یہ بھی دیکھیں

’’ کس طریقے سے سوال کیا ہے؟‘‘ تقریب کے دوران جب صحافی نے زُلفی بخاری سے سوال پوچھا تو انہوں نے کیا کِیا؟ جان کر آپ ہکا بکا رہ جائیں گے

’’ کس طریقے سے سوال کیا ہے؟‘‘ تقریب کے دوران جب صحافی نے زُلفی بخاری …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *