Friday , September 21 2018
ہوم > کالم > کچھ بھی اپ ڈیٹ نہیں کیا- حسن نثار

کچھ بھی اپ ڈیٹ نہیں کیا- حسن نثار

گزشتہ کالم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ایک تقریر سے انسپائرڈ تھا۔ اس کالم کے آخری جملے تک میں سوچتا رہا کہ کس حد تک کمیونیکیٹ کرپایا ہوں کیونکہ قارئین میں ہر عمر اور علمی پس منظر کے لوگ ہوتے ہیں۔ ہفتہ کی صبح ٹیلی فونک فیڈ بیک سے خاصا اطمینان ہوا تو اسی موضوع پر چیف جسٹس کے اک اور بیان پر نظر پڑی۔

کوزے میں دریا بند تھا اور اس المیہ کا مکمل خلاصہ جس کی روح تک میں اتر جانے کی ضرورت ہے اس پر جتنا بھی غور کریں کم ہوگا۔ فرماتے ہیں’’مقننہ نے قوانین کو اپ ڈیٹ نہیں کیا‘‘اس سے بھی بڑی ٹریجڈی یہ کہ آج تک کسی نے اس د ردل دل کے ساتھ اس تاریخی کوتاہی کی نشاندہی بھی نہیں کی۔

ہمارے قانون سازوں کی قانون سازی میں دلچسپی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ انہیں تو دیگر’’مصروفیات‘‘ سے ہی فرصت نصیب نہیں ہوتی۔المیہ در المیہ یہ کہ ہم نے بیشتر کئی شعبوں میں بھی خود کو اپ ڈیٹ نہیں کیا۔ ہمیں جدید ترین ماڈل کی کار تو درکار ہے، جدید ترین فیشن سے تو ہم باخبر ہوتے ہیں، جدید ترین سیل فون پر بھی ہماری نظر ہوتی ہے، علیٰ ہذا لقیاس لیکن جدید ترین علوم اور ریسرچ سے ہماری دلچسپیاں نہ ہونے کے برابر ہیں حالانکہ یہ مصرعہ مدتوں سے بہت مقبول ہے؎’’دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا‘‘سنگین ترین تاریخی حقیقت یہ ہے کہ کبھی قوموں کے درمیان صرف دو،

چار، دس سال کا فرق اور فاصلہ ہوتا تھا۔ تلوار کے مقابل تلوار، ڈھال کے سامنے ڈھال، تیر کے لئے تیر، گھوڑے کے لئے گھوڑا لیکن پھر جیسے جیسے ٹیکنالوجی کا جن جہالت کی بوتل سے باہر نکلا، سمجھو قیامت برپا ہوگئی۔ آج ترقی یافتہ قومیں ہم جیسوں کے مقابلے پر ایک ایک سال میں ایک ایک صدی آگے نکل رہی ہیں۔ یہ علمی فکری سائنسی خلیج اس تیزی سے ا س قدر بڑھتی جارہی ہے جس کا پاٹنا ناممکن نہ سہی، بےحد مشکل ضرور ہوگا، نتیجہ یہ کہ’’محتاجی‘‘ بڑھتی جائے گی۔ بدقسمتی یہ کہ میرا بیک گرائونڈ سائنس کا نہیں سو میں اس قابل بھی نہیں کہ اس موضوع سے انصاف کرسکوں۔

صرف محسوس کرکے یہ احساس ہی شیئر کرسکتا ہوں۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن جیسے لوگ ہی ہم جیسوں میں سے کچھ کو جھنجھوڑ سکتے ہیں کہ ہم کہاں کن دلدلوں میں پھنسے دھنسے ہیں اور دنیا کدھر جارہی ہے۔ہمارا تو یہ حال ہے کہ سعودی عرب میں سینما کا بحال ہونا بھی انٹرنیشنل نیوز کا درجہ رکھتا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اگر ہم خود عصر حاضر سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو کیا’’ ایٹم بم‘‘ کی طرح ’’چوری‘‘ بھی نہیں کرسکتے؟ اس گلوبل ویلیج میں ہر شعبہ کے اندر ایک سے بڑھ کر ایک ماڈل دستیاب ہے لیکن ادھر دیکھنا بھی ہمیں گوارا نہیں۔

کیا ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ صرف یہ جان سکیں کہ جاپانی اپنے بچوں کو پہلے دس پندرہ سال میں کیا کچھ پڑھاتے ہیں؟ کیسے پڑھاتے ہیں؟ ان کے اساتذہ کون ہوتے ہیں؟ماحول کیسا ہوتا ہے؟ لیکن یہاں تو اسکولوں میں خاک اڑتی ہے، چودھریوں کی بھینسیں بندھی ہوتی ہیں۔ سرکاری اسکول ٹیچر خود جاہل مطلق سفارشی اور شرمناک حد تکUnderpaidہوتا ہے۔

کیا کبھی سوچا اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر روئے کہ وہ کروڑوں بچے جو اسکولوں سے باہر ہیں، ان میں کوئی نیوٹن، کوئی آئین اسٹائن کوئی ا سٹیفن ہاکنگ بھی ہوسکتا ہے لیکن نہیں……ہرگز نہیں کیونکہ جو اسکولوںکے اندر ہیں، ان کے اندر سے بھی تو کچھ برآمد نہیں ہورہا سوائے کلرکوں کے کہ نشو ونما کی کنڈیشنز ہی موجود نہیں۔حکمرانوں کی ذہنی سطح اتنی معمولی بلکہ گھٹیا کہ ریت پر تاج محل کھڑے کررہے ہیں۔ بندہ پوچھے جہالت کے ان لشکروں کے ساتھ کیا یہ موٹرویز، یہ اوورہیڈز، یہ انڈرپاسز، یہ میٹروز یہ اورنج ٹرینیں تم نے چاٹنی ہیں؟ اپنا بیش قیمت’’انسانی سرمایہ‘‘ سنبھالو، سنوارو، سجائو…… یہ جہاں پائوں دھریں گے یہ سب کچھ خود بخود اگنے لگے گا۔المیہ در المیہ درالمیہ کہ ایک طرف جمہوری جبہ پہنے ہماری مقننہ نے قوانین کو اپ ڈیٹ نہیں کیا تو دوسری طرف باقی شعبوں اور میدانوں میں بھی ویرانوں کے سوا کچھ نہیں۔

یہاں بہت کچھ اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے موجودہ قیادتوں کے ساتھ یہ سب کچھ خواب رہے گا…….ڈرائونا خواب جس کی تعبیر خواب سے بھی زیادہ ڈرائونی ہوگی۔

یہ بھی دیکھیں

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *