Sunday , November 18 2018
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > آپ قومی اسمبلی میں میری مخالفت کرتے ہیں ، آخر آپ چاہتے کیا ہیں ؟ ذوالفقار علی بھٹو کے اس سوال کا چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الہٰی نے کیا جواب دیا تھا ؟ یہ تحریر پڑھیے

آپ قومی اسمبلی میں میری مخالفت کرتے ہیں ، آخر آپ چاہتے کیا ہیں ؟ ذوالفقار علی بھٹو کے اس سوال کا چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الہٰی نے کیا جواب دیا تھا ؟ یہ تحریر پڑھیے

بدھ مت کے بانی اور روحانی پیشوا مہاتما بدھا اپنی خود نوشت میں اپنے تجزیے اور تجربے رقم کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میںنے دس سال جنگلوں میں سادھوﺅں کے ساتھ گزارے جس کے باعث مجھے سننے کی شکتی حاصل ہوئی ۔ اسی طرح جناب واصف علی واصف فرماتے ہیں” انسان کے اندر موجود قوتوں میں

معروف کالم نگار عزیز ظفر آزاد اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ واصف علی واصف کہتے ہیں کہ سب سے بڑی قوت ،قوت برداشت ہے ” یعنی مذہبی پیشوا ہو یا سیاسی رہنما، سپہ سالار ہو یا سربراہ مملکت ہر دل عزیز اور کامیاب وہی ٹھہرتا ہے جس کے مزا ج میں اعتدال و تحمل ہو اور برداشت و بردباری و قدر اتم ہومگر ہماری سماجی زندگی کے ہر پہلو میں اس کا فقدان دکھائی دیتا ہے ۔ جہاں تک چودھری شجاعت کی شخصیت کا تعلق ہے راقم کا بالواسطہ کوئی رابطہ واسطہ نہیں مگر ایک دیرینہ سیاسی کارکن ہونے کی حیثیت سے چودھری شجاعت کے قومی امور پر مضبوط موقف اور مدلل ردعمل کے باعث ان کے مزاج میں تحمل اور رویوں میں اعتدال و برداشت کا ایک تسلسل ملتا ہے۔ یہی خوبی انہیں دوسرے سیاست دانوں سے منفرد و محترم بناتی ہے ۔جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب مسلم لیگیوں کے اتحاد کا سلسلہ چلا تو اکثر اجلاس اسلام آباد میں فنشنلا لیگ کے چیف آرگنائزر کنور قطب کے گھر ہوتے تھے۔ راقم بھی ایک کارکن کی حیثیت سے شامل ہوتا ۔ حامد ناصر چٹھہ، منظور وٹو، اعجاز الحق کے علاوہ دیگر لیگی رہنما لمبی چوڑی تقاریر فرماتے مگر چودھری شجاعت حسین گھنٹوں تحمل سے سنتے اور مختصر اور پرمغز ردعمل دیتے۔ راقم دیرینہ لیگی کارکن ہونے کے باعث شہید ظہور الٰہی کی اعلیٰ ظرفی منکسر مزاجی اور غریب پروری کا قائل اور معترف ہے جس کے لئے علیحدہ کالم درکار ہے۔چودھری شجاعت حسین کی تصنیف “سچ تو یہ ہے” برادرمکرم کامل علی آغا کے توسل سے حاصل ہوئی

۔ کتاب کا ایک ایک باب اور اس میں درج ہر واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دونوں بھائی راہ سیاست کے خارداروں، جیل کی سختیوں، کچہریوں کے دھکوں کے بعد ایک پختہ کار اور تحمل مزاج سیاسی شخصیت بن پائے۔ سیاست دانوں کی قلابازیوں، عہد شکنیوں اور حکمرانوں کا جبر انہیں وطن دوستی اور نظریاتی سیاست سے مایوس نہ کر سکا ۔ چودھری شجاعت اپنی کتاب کا آغاز اپنے خاندانی پس منظر اور اجداد کی وسیع القلبی ثقافت و ادب کے لگاﺅ سے کرتے ہیں۔ پھر والد اور چچا کے کاروبار میں محنت اور گجرات کی سیاست میں آمد کے ذکر کے دوران رقم طراز ہیں۔ دنیا میں ایسی مثالیں بہت کم ہونگی کہ جہاں ایک سپاہی کا بیٹا ملک کا منتخب وزیر اعظم اور اس کا بھتیجا ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا ہو۔ ایوبی دور کے افتتاح میں چودھری ظہور الٰہی کو مرعوب کرنے کے لئے ان کے گھر کے پردے کی دیوار گرادی گئی اور انتخابات سے دست بردار ہونے کے لئے دباﺅ ڈالا گیا مگر شہید ظہور الٰہی کی کمال جرات و استقامت پر مبنی فیصلے کا ذکر تحریر ہے۔ 1967ءمیں پیپلز پارٹی کے قیام کے موقع پر بھٹو کی جانب سے چودھری ظہور الٰہی کو پارٹی کا تاسیسی رکن بننے کی دعوت اور ان کاانکار، 70کے

الیکشن عوامی لیگ کی کامیابی ، مجیب کو اقتدار نہ سونپنے کے حوالے سے لاڑکانہ میں جنرل یحییٰ خان اوربھٹو کی ملاقات جسے لاڑکانہ پلان کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے کا ذکر بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ اگلے باب میں تحریر ہے کہ شہید ظہور الٰہی نے پاکستان کو متحد رکھنے کے لئے بھٹو او ریحییٰ خان کو متعدد تجاویز پیش کیں۔شجاعت حسین لکھتے ہیں کہ یحییٰ ، مجیب اور بھٹو کی ہٹ دھرمی کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا ۔ بھٹو دور بھی ان کی آزمائشوں سے عبارت ہے ۔ پہلے شہید ظہور الٰہی کو وفاقی وزارت پیش کی گئی۔ انکار پر ایک ملاقات میں بھٹو نے کہا کہ آپ قومی اسمبلی میں میری مخالفت کرتے ہیں آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟ شہید ظہور الٰہی نے کہا کہ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ ملک میں صحیح معنوں میں قانون اور انصاف کی حکمرانی قائم ہو۔ تحریر کے مطابق پیپلز پارٹی کے اس دور میں ان کے خاندان کے خلاف سو کے قریب مقدمات درج کئے گئے ۔شہید ظہور الٰہی نے پانچ سال سے زائد کا عرصہ جیل کاٹی جن میں بدنام زمانہ اور مضحکہ خیز بھینس چوری کا مقدمہ قائم ہوا جس کے مدعی نے خود عدالت میں پیش ہو کر مقدمے سے لا علمی کا اظہار کیا۔

اسی دور میں شجاعت حسین اور پرویز الٰہی پہلی مرتبہ جیل یاترا پر گئے۔ ان کا کہناہے کہ ہماری زمینوں اور کاروبار کو جبراحکومتی تحویل میں لے لیا گیا جو بعد میں ہمارے لئے سود مند ثابت ہوئے۔پیپلزپارٹی نے 1977ءمیں قبل ازوقت انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا۔ ان انتخابات میں ہر نشست پر دھاندلی کے شرمناک ریکارڈقائم ہوئے۔ ہمارے حلقے کے ایک پولنگ بوتھ پر ہمارا باکس نہیں تھا پوچھنے پر بتایا کہ سامنے تالاب میں تیر رہا ہے۔ اس کھلی بربریت کے خلاف قوم سڑکوں پر نکل آئی۔ بھٹواپوزیشن سے مفاہمت کرنے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں ضیاءالحق نے مارشل لاءلگادیا تب سیاسی قیدی رہا کر دیئے گئے۔ جن میں شہید ظہور الٰہی بھی شامل تھے۔ کتاب میں شجاعت حسین کی نواز شریف سے ملاقات انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کی سرگزشت، نوازشریف کی متعدد بار عہد شکنی پر بھی کھل کر لکھنے کے علاوہ جونیجو ضیاءاختلافات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جونیجو نے ضیاءالحق کی اجازت کے بغیر مارشل لاءاٹھانے کا اعلان ہی نہیں کیا بلکہ جنیوا معاہدے پر بھی ضیاءالحق کی مرضی کے خلاف دستخط کئے۔ جرنیلوں سے بڑی گاڑیاں واپس لے لی گئیں۔ ضیاءالحق کے دورہ چین کے موقع پر دوفوٹو گرافروں اور قالینوں کے تحفے ہمراہ جانے تھے جن میں وزیر اعظم جونیجو نے کمی کا حکم صادر کیا ۔ان جرائم کی پاداش میں برطرف ہوئے۔

آگے چل کر ضیاءالحق کی شہادت بے نظیر کی پہلی حکومت اور آئی جے آئی کے قیام کے پوشیدہ واقعات سے پردہ اٹھایا۔ مصنف نے گارڈین لندن پر قائم کردہ مقدمہ اور زرداری پر منشیات سمگلنگ کا جھوٹا کیس نہ بنانے کے علاوہ سپریم کورٹ پر (ن) لیگ کا حملہ، کارگل حملہ کے بارے میں نوازشریف کی لا علمی کی تردید اور نوازشریف کی جلاوطنی کے دس سالہ معاہدے کی تصدیق بھی تحریر میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں چودھری پرویز الٰہی کے پانچ سالہ وزارت اعلیٰ کے دور میں ہونے والے صحت ، تعلیم اور انفراسٹریکچر کی تعمیر اور دیگر اصلاحات کی طویل تفصیل،2008ءکے انتخابات میں این آر او کے کرشمات کے انکشافات شامل ہیں۔قارئین کرام۔ چودھری شجاعت کی تصنیف چھ عشروں اور 300سے زائد صفحات پر محیط ایک حقائق نامہ ہی نہیں بلکہ سیاست کے طالب علموں کے لئے درس حیات اور مشعل راہ بھی ہے ۔ کتاب کے آخری باب بتاتے ہیں کہ اگر مشرف خودغرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ سے بے وفائی نہ کرتے تو وطن عزیز کو موجودہ حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ایک دیرینہ مسلم لیگی کارکن ہونے کے ناطے راقم کی پختہ رائے ہے کہ چودھری ظہور الٰہی کا گھرانہ غیرسیاسی گملوں کی آبیاری کے بجائے اپنی صلاحیتیں مسلم لیگیوں کی شیرازہ بندی میں صرف کرتا توآج اس کے ثمرات سے قوم بھی فیضیاب ہوتی اور آپ بھی سرخروہوتے۔ نہ ان کو بے وفائی کے اتنے زخم سہنے پڑتے نہ قوم کو بجلی پانی گیس کی محرومی کے ستم جھیلنا پڑتے۔

یہ بھی دیکھیں

بینظیر بھٹو کے ساتھ اس تصویر میں نظر آنے والا شخص کون ہے اور اس نے محترمہ کی خاطر کیا کچھ کیا ؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا

ملتان ( ویب ڈیسک) اورنگزیب ظفر خان کا نام پیپلزپارٹی کے ان جیالوں میں ہوتا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *