Monday , October 22 2018
ہوم > انٹرنیشنل > ابوظہبی میں 8 ماہ کے بچے کو ملازمت پر رکھ لیا گیا، انتظامیہ کا موقف جان کر آپ بھی ہکا بکا رہ جائیں گے

ابوظہبی میں 8 ماہ کے بچے کو ملازمت پر رکھ لیا گیا، انتظامیہ کا موقف جان کر آپ بھی ہکا بکا رہ جائیں گے

دبئی(ویب ڈسک)ابوظہبی میں جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (جی سی اے اے) کی جانب سے ایک 8 ماہ کے بچے کو ملازمت دینے کی رپورٹس سامنے آنے پر اتھارٹی سے وضاحت طلب کرلی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل رپورٹس میں اس بچے کو ‘دنیا کا کم عمر ترین ملازم’ بھی کہا جارہا ہے۔

خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کے مطابق جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک 8 ماہ کے ننھے شہزادے کو ‘ہیپی نیس ایگزیکٹو’ (Happiness Executive) کی نوکری دے دی ہے، جس کا مقصد شہریوں میں خوشی اور مسرت کے جذبات بانٹنا اور خوشیوں کو عام کرنا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ محمد الہاشمی نامی 8 ماہ کے بچے کو جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ‘چیف ہیپی نیس ایگزیکٹو’ کے طور پر تعینات کیا گیا ہے، جسے ‘دنیا کا کم عمر ترین ملازم’ بھی کہا جارہا ہے۔ویڈیو میں بچے کو واکر میں بیٹھے آفس کے مختلف مقامات پر گھومتے ہوئے اور ڈائریکٹر جنرل سے ہاتھ ملاتے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ایک جگہ اسے ایک منی ڈیسک پر بھی بیٹھے ہوئے دکھایا گیا، جس کے اردگرد کھلونا جہاز اور ربڑ کی بطخیں رکھی ہوئی ہیں۔بچے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد ابوظہبی کے جوڈیشل ڈپارٹمنٹ کے پبلک پراسیکیوشن آفس نے ایک حکومتی عہدیدار کو طلب کرکے 8 ماہ کے بچے کو ملازمت پر رکھنے کی وضاحت طلب کرلی۔جنرل پراسیکیوشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ‘سوشل میڈیا پر وائرل فوٹیج اس بات کی جانب

اشارہ کرتی ہے کہ ایک بچے کو لوگوں کو ‘تفریح’ فراہم کرنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے، جس پر متعلقہ حکام سے تحقیقات کی ضرورت ہے۔’پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کی گئی ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ ‘بچے کو ملازمت پر رکھنے کی وضاحت کے لیے حکومتی عہدیدار کو طلب کیا گیا ہے۔’مزید کہا گیا کہ ‘یہ طلبی بچوں کے حقوق کی حفاظت کی غرض سے کی گئی ہے۔’تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کس حکومتی عہدیدار کو طلب کیا گیا۔دوسری جانب جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مذکورہ ویڈیو کو اپنی آفیشل ویب سائٹ سے ہٹا دیا اور کم سن بچے کو ملازمت پر رکھنے کے الزامات کی تردید کردی۔جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد ال سوادی کے مطابق، ‘اتھارٹی مذکورہ ویڈیو کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشمکش یا غلط فہمی پر معذرت خواہ ہے، جس میں ایک بچے کو دفتر میں دکھایا گیا ہے۔’مزید کہا گیا کہ یہ ویڈیو ادارے میں نرسری کے قیام کے حوالے سے بنائی گئی، جس کا مقصد کام کرنے والی خواتین اور ان کے بچوں کو ملازمت کی جگہوں پر خوشی اور سکون فراہم کرنا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا کہ ‘اتھارٹی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بچوں کے حقوق کے قوانین کی پابندی کرتی ہے اور ان افواہوں میں کوئی سچائی نہیں کہ کسی بچے کو ملازمت پر رکھا گیا ہے’۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب نے بالآخرصحافی جمال خاشقجی کی اپنے سفارتخانے میں ہلاکت کا اعتراف کرلیا

جدہ (ویب ڈیسک)پوری دنیا میں ہنگامے کے بعد سعودی عرب نے بالآخر اپنے سفارتخانے میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *