Monday , December 17 2018
ہوم > کالم > ڈائریکٹر یونس ایمرےترکش کلچرل سنٹرپروفیسرڈاکٹرخلیل توکار کیساتھ ایک نشست۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

ڈائریکٹر یونس ایمرےترکش کلچرل سنٹرپروفیسرڈاکٹرخلیل توکار کیساتھ ایک نشست۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

پاکستان کے ساتھ ترکی کی سرحدیں تونہیں ملتیں البتہ یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ ترکی اورپاکستان کے عوام کے دل آپس میں ملتے ہیں۔یہ رشتہ وقتی ہے اورنہ ہی یہ رشتہ چند سال پرانا ہے بلکہ پیار اورمحبت کا یہ رشتہ قیام پاکستان بلکہ قرارداد لاہورسے بھی پہلے کا ہے ،تاریخ کے اوراق کی روگردانی سے اس رشتے کی مضبوطی کاعلم ہوتاہے ،گوکہ ہماری نئی نسلیں اس رشتے سے بخوبی واقف ہیں مگرپھربھی ہمیں آنے والی نسلوں کو پاک ترک تعلقات کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح جب ایک بچہ پیدا ہوتاہے تو والدین اسے رشتے داروں اور عزیزواقارب کی پہچان کراتے ہیں تاکہ وہ اپنے رشتوں کیساتھ جڑ جائے اوران کے ادب واحترام میں کہیں کوئی کسر نہ چھوڑے۔۔

ترکی میں جانے والے اورترک بھائیوں سے ملاقات کرنے والے اس چیز کو بخوبی جانتے ہیں کہ ترکی کی سرزمین پرپاکستانی باشندوں کوعزت واحترام سے دیکھاجاتاہے اورانہیں اتنا بہتراپنے ملک میں محسوس نہیں ہوتاجتنا انہیں ترکی میں ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شہری ترک باشندوں سے ملاقات کرنے اورسرزمین ترکی کی سیر کوترجیح دیتے ہیں تاکہ وہاں جا کر وہ اپنے ترک بھائیوں سے ملیں،ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اوررشتوں کو مزیدمضبوط کریں۔برادراسلامی ملک ترکی اورپاکستان کے درمیان دیرینہ،خوشگوار،لازوال اورگہرے تعلقات ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنے کی صرف کوشش ہی کی جاسکتی ہے اس کاحق ادا نہیں کیاجاسکتا۔۔ترک حکومت ہو یاپھر عوام، مصیبت کی ہرگھڑی میں انہوں نے پاکستانی بھائیوں کو تنہانہیں چھوڑا،دوہزارپانچ کے زلزلے کا ذکر کریں جب پوری پاکستانی قوم سوگ میں ڈوبی ہوئی تھی تو ترک بھائیوں نے پاکستانیوں کیساتھ اپنی والہانہ محبت کااظہارکیا،اپنا سب کچھ زلزلہ متاثرین کے لیے وقف کرکے حقیقت میں بھائی ہونے کا عملی ثبوت دیا۔ترک ڈاکٹرز،نرسز،طبی عملہ اور امدادی تنظیموں نے اپنے آرام اور سکون کی پرواہ کیے بغیر متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کی۔۔مصیبت کی گھڑی میں ایک قطرہ پانی پلانے والا شخص بھی انسان کو کبھی بھول نہیں سکتا توپھر بھلا شروع دن سے ہی بھائیوں کی طرح سلوک کرنے والے ترک باشندوں کو پاکستانی عوام کیسے فراموش کرسکتے ہیں۔۔

انہیں رشتوں کو مزیدمضبوط کرنے کے لیے لاہورمیں ترک حکومت نے “ترکش کلچرل سنٹر”قائم کیاہے جہاں پر شب و روزاس مقصد پرکام جاری ہے،گزشتہ روزترکش کلچرل سنٹرکے فوکل پرسن سیدشکیل گیلانی نے صحافیوں کے ایک وفد کو اس سنٹر کا دورہ کرایا،وائس چیئرمین یونائیٹڈ جرنلسٹ فورم آف پاکستان احتشام الرحمان،جنرل سیکرٹری یوجے ایف پی میاں رضامحمد اورمجھے بھی بطور سینئرنائب صدر یونائیٹڈ جرنلسٹ فورم آف پاکستان ملاقات میں مدعوکیاگیاتھا۔سیدشکیل گیلانی نےترکش کلچرل سنٹرکے بارے میں مفصل بریفنگ دی جس کے بعد ڈائریکٹر یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ ترکش کلچرل سنٹر پروفیسر ڈاکٹرخلیل توکار کے ساتھ ان کے دفترمیں ملاقات ہوئی،پاک ترک تعلقات اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پرسیرحاصل گفتگو ہوئی، پروفیسر ڈاکٹرخلیل توکارکو مل کر بالکل یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے شہری ہیں بلکہ اپنائیت اوربھائی چارے کی جھلک ان کی گفتگو اور اندازسے ظاہرہورہی تھی،وہ پاکستان اورترکی کے بھائی چارے کو مزید مضبوط دیکھنے کے خواہاں نظرآئے،وفد کے ارکان کے لیے دلچسپ چیز یہ بھی تھی کہ ڈاکٹرصاحب اردوزبان روانی کے ساتھ بول رہے تھے،یہاں ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ ہمیشہ اپنی گفتگو کے دوران یہ اظہارکرتے ہیں کہ ان کے دل کا ایک حصہ ترکی اور دوسرا پاکستان میں دھڑکتاہے،اس بات سے ان کی پاکستان کیساتھ والہانہ محبت کاپتہ چلتاہے،ترکش کلچرل سنٹرکاخوبصورت ماحول پروفیسر ڈاکٹرخلیل توکار کی اپنے فرائض منصبی کیساتھ لگن اورایمانداری کاکھل کر اظہارکررہاہے،اس دوران ہمیں یہ معلوم ہواکہ ترکش کلچرل سنٹرپاکستانی شہریوں کو ترک زبان اورترکوں کو اردوزبان سکھانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کررہاہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے کیلئے انہیں ایک دوسرے کی زبان سکھائی جائے،باہمی رابطوں،تجارت اورہرسطح پر تعلقات کومزیدمضبوط کرنے کیلئے زبان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

ملاقات کے اختتام پر یونائیٹڈجرنلسٹ فورم آف پاکستان کے وفدکیلئے پروفیسر ڈاکٹرخلیل توکار نے نیک تمناؤں کااظہارکیا اورانہوں نے رابطوں کو مزید بہترکرنے کی بھی خواہش ظاہر کی تاکہ یوجے ایف پی اورترکش کلچرل سنٹرمل کر دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو مزید مضبوط کرنے میں اپنی اپنی سطح پر کردار اداکرسکیں۔

آخرمیں یہ ذکرکرنا بھی ضروری سمجھوں گا کہ پانچ مئی دوہزاراٹھارہ کوالحمراہال لاہورمیں ترکش کلچرل سنٹرکے زیراہتمام بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک پروگرام ترتیب دیاگیاہے جس میں بچوں کی دلچسپی کومدنظررکھتے ہوئے مختلف سیشنز ہوں گے، پروفیسر ڈاکٹرخلیل توکار نے اس پروگرام میں بطور خاص مدعو کرتے ہوئے کہاکہ وہ اس پروگرام میں اپنی شرکت یقینی بناتے ہوئے پاک ترک تعلقات کو مزیدمضبوط بنانے میں اپنا کرداراداکریں۔۔

تعارف: محمدمناظرعلی کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ پچھلےا یک دہائی سے زائدعرصہ سے لاہورشہرمیں قیام پذیرہیں،مختلف بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلزمیں کام کا تجربہ رکھتے ہیں،روزنامہ خبریں کے پنجابی اخباراور بھلیکھا پنجابی اخبار میں خاصاعرصہ”سانجھی پیڑ”کے نام سے کالم لکھتے رہے،پنجاب ٹی وی میں انچارج نمائندگان کے فرائض سرانجام دیتے رہے،گزشتہ آٹھ سالوں سے وہ لاہورکے سٹی نیوزچینل سٹی نیوزنیٹ ورک کیساتھ وابستہ ہیں،مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پربلاگ بھی لکھتے ہیں۔۔۔صحافت کے طلباء کے لیے”کلیدصحافت” کے نام سے ایک کتاب لکھی جسے خالدبک ڈپولاہورسے شائع کیاگیا،سماجی کاموں میں پیش پیش ہوتے ہیں،صحافیوں کی فلاح وبہبودکے لیے کام کرنے والی “یونائٹڈجرنلسٹ فورم آف پاکستان”نامی تنظٰیم کے سینئروائس پریذیڈنٹ بھی ہیں۔۔۔ان سے نیچے دیئے گئے ای میل ایڈریس اورفیس بک آئی ڈی پررابطہ کیاجاسکتاہے
munazerali@gmail.com
https://web.facebook.com/munazer.ali

یہ بھی دیکھیں

مرغیاں اورکٹوں کاحکومتی منصوبہ۔۔نون لیگ بھی شریک گناہ ہے۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

مرغی پہلے آئی یا انڈا، یہ ایک جانا پہچانا مخمصہ ہے اور بارہا مباحث میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *