Friday , December 14 2018
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > عصر اور مغرب کےدرمیان گھروں میں صفائی کی ممانعت میں حقیقت کیا ہے؟ جانیے

عصر اور مغرب کےدرمیان گھروں میں صفائی کی ممانعت میں حقیقت کیا ہے؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک)میں نے ایک قصائی سے پوچھا کہ آخر پاکستان میں منگل اور بدھ کے دن گوشت کا ناغہ کیوں کیا جاتا ہے اور اس نے اپنی منطق کے مطابق جواب دیا کہ جی قصائی جانور زبح کر کر کے تھک جاتے ہیں۔جسکی وجہ سے منگل اور بدھ کو وہ چھٹی کرتے ہیں

میں نے کہا کہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ قصائی جانور زبح کر کر کے تھک جانے کی وجہ سے منگل اور بدھکے روز ناغہ کرتے ہیں اور پھر چلو آپکی منطق مان لی تو پھر منگل اور بدھ کے روز ہی قصائی چھٹی کیوں کرتے ہیں اور ہفتہ میں منگل اور بدھ کے علاوہ کسی اور دو دن ناغہ کیوں نہیں کرتے آخر منگل اور بدھ کو ہی ناغہ کیوں کیا جاتا ہے..!!تو وہ خاموش ہو گیا,اب اگر مجھے بھی علم نا ہوتا تو میں اس قصائی کی بے منطقی بات کو اپنی بے علمی کی بنا پے فوراً مان لیتا کیونکہ وہ اور میں دونوں بے علم ہوتے تو جیسے ایک علم والے کو کسی علم والے کی بات عقل کو لگتی ہے تو وہ اپنے جیسے علم والے انسان کی بات کو مان لیتا ہے ایسے ہی جب ایک بےعلم انسان کی بات ایک بے علم انسان کی عقل کو لگتی ہے اور وہ اپنے جیسے بے علم انسان کی بات کو فوراً مان لیتا ہے۔میرے منطقی سوال پے قصائی کے چپ ہو جانے پے میں نے کہا کہ میں نے پڑھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے ہابیل اور قابیل, اور جب قابیل نے ہابیل کے سر میں پتھر

مار کے ہابیل کو قتل کر دیا تھا تو وہ دن منگل کا تھا اور قابیل تقریباً دو دن تک یعنی منگل سے بدھ تک بھائی کی لاش کو کندھے پے اٹھائے پھرتا رہا کہ اس لاش کا کیا کروں کیسے ٹھکانے لگاؤں کیونکہ تب یہ دنیا کا پہلا قتل تھا تو قابیل کو معلوم نہیں تھا کہ کسی انسان کے مرنے کے بعد اس کے ساتھ کیا,کیا جاتا ہےتو میں نے کہا کہ جو مجھے سمجھ آتا ہے وہ مختصراً یہ کہ ہابیل علیہ السلام کے منگل کے دن قتل ہونے کی وجہ سے اور اسی مناسبت سے پاکستان میں کسی بھی جانور کو زبح کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے دو دن کا ناغہ کیا جاتا ہے۔۔جاری ہے۔ پھر مزید سمجھانے کے لیے میں نے ایک اور مثال دی کہ ایسے ہی جیسے پاکستان میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عصر سے مغرب کے درمیان گھر کی صفائی نا کی جائے کیونکہ یہ بات بھی ثابت ہے کہ عرب کی ایک بڑھیا گھر کی صفائی کرتی اور پھر عصر اور مغرب کے درمیان کے کسی وقت جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بڑھیا کی گلی سے گزرتے تو وہ بڑھیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پے روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتی تھی جس کی وجہ سے مسلم گھرانوں میں عصر سے مغرب کے درمیان صفائی کرنا اور کوڑا کرکٹ پھینکنا غیر مناسب اور برا سمجھا جاتا ہے,پر قصائی ساری بات سن کے خاموش رہا جیسے ساری بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔حضور پاک کا نام مبارک سننے یا پڑھنے کے ایک بعد ایک بار درود پاک پڑھنا لازم ہے اس لیے درود پاک پڑھ لیں۔

یہ بھی دیکھیں

بغیر وضو نماز پڑھنے والے کو حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓکو سزا دینے سے کیوں روک دیا؟

لاہور(ویب ڈیسک)ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *