Thursday , October 18 2018
ہوم > انٹرنیشنل > 65 سال میں پہلی مرتبہ۔۔۔ دنیا کے دو بڑے دشمن ممالک کے سربراہوں کی ملاقات نے دنیا کو چونکا دیا

65 سال میں پہلی مرتبہ۔۔۔ دنیا کے دو بڑے دشمن ممالک کے سربراہوں کی ملاقات نے دنیا کو چونکا دیا

سیئول (ویب ڈیسک) شمالی اور جنوبی کوریا نے رہنماؤں نے تاریخی ملاقات کے بعد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے مل کر کام کر نے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اعلان شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور جنوبی کوریا کے رہنما مون جے اِن کے درمیان سرحد

پر واقع غیر فوجی علاقے میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔یہ دونوں ممالک کے رہنمائوں کے درمیان 65 سال بعد پہلی ملاقات تھی۔شمالی کوریائی رہنما کم جونگ تاریخی دورے پر جنوبی کوریا پہنچے ،دونوں ممالک نے جنگ کے خاتمے، تعلقات بہتر بنانے ،پروپیگنڈہ نشریات بند ،غیر فوجی خطےکی ʼامن کے علاقے میں تبدیلی،مذاکرات میں امریکا اور چین کی شمولیت، جنگ کے بعد منقسم خاندانوں کے ملاپ ،دونوں ممالک کو جوڑنے کیلئے ریلوے نیٹ ور میں بہتری پر اتفاق کیا ہے،اس موقع پرکم جونگ اُن نے کہا کہ یہ امن کیلئے نئے دور کا آغاز ہے ،امریکا ، چین اور عالمی برادری نے دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات کا خیر مقدم کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق شمالی کوریائی رہنما پیدل سرحد عبور کرتے ہوئے جنوبی کوریا پہنچے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن کا ڈیمارکیشن لائن پر استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں نے گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کیا۔جنوبی کوریا کے صدر نے شمالی کوریا کے لیڈر کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی دعوت دی جس کے ساتھ ہی کم جونگ اُن جنوبی کوریا میں داخل ہوئے اور فوراً جنوبی کوریا کے صدر کو شمالی کوریا میں داخل ہونے کی دعوت دی

جسے مون جائے اِن نے قبول کرتے ہوئے شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھا۔بعدِ ازاں دونوں ممالک ایک ساتھ جنوبی کوریا میں داخل ہوئے جہاں ان کا روایتی انداز میں استقبال کیا گیا۔جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اس تاریخی موقعے پر دونوں رہنما بعد ازاں گلے بھی ملے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اس موقعے کو امن کے لیے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ انھوں نے پیس ہاؤس میں کتاب پر لکھا ’ایک نئی تاریخ اب شروع ہو رہی ہے، نئیتاریخ کا آعاز اور امن کا دور‘۔ان دونوں کی ملاقات غیر فوجی علاقے میں ہوئی۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان اپنے9 رکنی وفد کے ساتھ کم جونگ ان سے ملے۔خطے کو جوہری ہتھیاروں کو کیسے پاک کیا جائے گا اس حوالے سے تفصیلات واضح نہیں ہیں تاہم یہ اعلان شمالی کوریا کی جانب سے کئی ماہ سے جاری جنگی بیانات کے بعد سامنے آیا ہے۔دونوں رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ بیان میں جن دیگر امور پر اتفاق کیا گیا وہ درج ذیل ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ʼجارحانہ سرگرمیوںکا خاتمہ۔پروپیگینڈہ نشریات بند کرتے ہوئے دونوں ممالک کو تقسیم کرنے والے ʼغیر فوجی علاقےکی ʼامن کے علاقے میں تبدیلی۔خطے میں فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اسلحے میں کمی۔

سہ فریقی مذاکرات میں امریکا اور چین کی شمولیت کی کوششیں۔جنگ کے بعد تقسیم ہونے والے خاندانوں کے ملاپ کا انعقاد۔ریل کے ذریعے دونوں ممالک کو جوڑنا اور ریل کے نیٹ ورک کی بہتری۔رواں برس ایشیائی کھیلوں کے علاوہ کھیلوں کے دیگر مقابلوں میں مشترکہ شمولیت۔اس سے قبل شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے اپنے ملک کے کسی سربراہ کی جانب سے 1953 کے بعد جنوبی کوریا کے پہلے دورے کے موقعے پر دو طرفہ تعلقات کی ’نئی تاریخ‘ رقم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔کم جونگ ان جمعے کی صبح سنہ 1953 کی کورین جنگ کے اختتام کے بعد سرحد پار کر کے جنوبی کوریا میں داخل ہوئے تھے۔اس سربراہی ملاقات کا بنیادی ایجنڈا پہلے سے طے شدہ ہے، تاہم بہت سے تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ شمالی کوریا کس حد تک تعلقات کی بحالی کی لیے پرجوش ہے۔اس وقت تمام جنوبی کوریا تھم سا گیا جب دونوں ملکوں کے سربراہوں نے سرحد پر واقع غیر فوجی علاقے میں آپس میں مصافحہ کیا۔اس کے بعد لوگوں مزید حیران رہ گئے جب کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کے صدر کو تھوڑی دیر کے لیے لکیر عبور کر کے شمالی کوریا میں قدم رکھنے کی دعوت دی۔

اس کے بعد دونوں رہنما ہاتھوں میں ہاتھ لیے دوبارہ جنوبی کوریا کی حدود میں داخل ہو گئے۔ملاقات کا پہلا سیشن اب ختم ہو گیا ہے اور اب دونوں رہنما الگ الگ دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ کم جونگ ان اپنی سیاہ لیموزین میں واپس شمالی کوریا چلے جائیں گے، اور سہ پہر کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دوبارہ جنوبی کوریا کا رخ کریں گے۔اس تاریخی ملاقات میں شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کے مقصد پر توجہ مرکوز ہو گی۔شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ مون جے اِن کے ساتھ ان تمام معاملات پر بات کریں گے جن سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔کم جونگ ان ڈی ایم زیڈ تک گاڑی میں آئے لیکن اجلاس والی جگہ تک پیدل چل کر گئے۔ انھوں نے اسی حصے سے سرحد عبور کی جہاں سے حال ہی میں ایک شمالی کوریا سے بھاگنے والے شخص نے سرحد عبور کی تھی جسے شمالی کوریا کے فوجیوں نے گولی مار دی تھی۔دریں اثناء شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن جنوبی کوریائی صدر مُون کے ساتھ ملاقات کے بعد واپس اپنے وطن لوٹ گئے ۔

جنوبی کوریائی ٹیلی وژن پر انہیں شمالی کوریائی سرحد میں داخل ہوتے دکھایا گیا۔ اپنی موٹر گاڑی میں بیٹھ کر کم جونگ اُن نے اپنی کھڑکی کا شیشہ نیچے اتار کر جنوبی کوریائی صدر کو ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔امریکا اور چین سمیت عالمی برادری نے شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کوریا ئی سربراہوں کے درمیان ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اس سلسلے میں بڑی مدد ۔ نیٹو نے بھی دونوں کوریائی کے درمیان بات چیت کو اہم قرار دیا ۔ چین نے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیجنگ حکومت امید کرتی ہے کہ اب خطے میں پائیدار استحکام کا نیا دور شروع ہو گا۔ چین شمالی کوریا کا اہم اتحادی ہے تاہم اس نے امریکا کی جانب سے پیانگ یانگ پر عائد کردہ پابندیوں کی حمایت بھی کی ہے۔ بیجنگ جوہری تنازعے کے پر امن حل پر زور دیتا رہا ہے۔دریں اثناء شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن جنوبی کوریائی صدر مُون کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد واپس اپنے وطن لوٹ گئے ہیں۔ جنوبی کوریائی ٹیلی وژن پر انہیں شمالی کوریائی سرحد میں داخل ہوتے دکھایا گیا۔ اپنی موٹر گاڑی میں بیٹھ کر کم جونگ اُن نے اپنی کھڑکی کا شیشہ نیچے اتار کر جنوبی کوریائی صدر کو ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔
یہ بھی ضرور پڑھیں : ڈائریکٹر یونس ایمرےترکش کلچرل سنٹرپروفیسرڈاکٹرخلیل توکار کیساتھ ایک نشست۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

یہ بھی دیکھیں

سعودی صحافی جمال خشوگی کو کس نے قتل کیا؟ قتل کے بعد ان کی لاش کے ساتھ کیا گیا؟ امریکی اخبار کے دعوے نے پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا

نیویارک (ویب ڈیسک)امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *