Monday , October 22 2018
ہوم > صحت > اپنے اندر انسانی جسم کے لیے ایک ہزار فوائد رکھنے والا آملہ۔۔۔۔ پڑھیے ایک مفید اور بے مثال معلوماتی تحریر

اپنے اندر انسانی جسم کے لیے ایک ہزار فوائد رکھنے والا آملہ۔۔۔۔ پڑھیے ایک مفید اور بے مثال معلوماتی تحریر

اپنے اندر انسانی جسم کے لیے ایک ہزار فوائد رکھنے والا آملہ۔۔۔۔ پڑھیے ایک مفید اور بے مثال معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) اردو ادب کا مشہور محاورہ ہے ’’آملے کا کھایا اور بڑوں کا کہا بعد میں پتہ چلتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی تصدیق بعد ہی میں ہوتی ہے۔ گویا آملہ مشرقی تہذیب و ادب میں بھی خاص مقام رکھتا ہے جبکہ اس کے طبی فوائد گوناگوں ہیں۔

اس کا استعمال فرد کو صحت مند رکھتا ہے۔ یہ ایک مشہور عام درخت ہے جو برصغیر کے اکثر گرم علاقوں میں خود رو یا مزروعہ حالت میں پیدا ہوتا ہے۔ کوہ ہمالیہ کے دامن میں جموں و کشمیر سے مشرق کی طرف اور نیچے سری لنکا تک تقریباً ہر جگہ دستیاب ہے۔ اس کا درخت درمیانی سائز کا ہوتا ہے ۔ درخت مضبوط، پھیلا ہوا اور خوبصورت ہوتا ہے۔ اس کی چھال موٹی اور بیرونی جھلی بھورے رنگ کی ہوتی ہے۔ اس پر چھوٹے بڑے داغ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اندر کی طرف سرخ رنگت رکھتی ہے۔ اس کی لکڑی سرخ اور سخت ہوتی ہے۔ اگر اس کے درخت کو کاٹ کر رکھ دیا جائے تو اکثر پھٹ یا خم کھا جاتا ہے، اس لیے عمارت اور دیگر سامان بنانے کے لیے موزوں نہیں۔ اس کے پتے املی کے پتوں کی طرح چھوٹے اور ہلکے سبز اور پھول سنہری مائل زرد رنگ کے لچھوں میں ہوتے ہیں۔ اس کا تازہ پھل بیر کی شکل کا، گول اور خوبصورت ہوتا ہے اور اس کی چھ پھانکیں ہوتی ہیں۔ پھل کے اندر مثلث شکل کی سفید گٹھلی ہوتی ہے۔ خام آملے کا رنگ سبز ہوتا ہے اور پکنے پر زرد یا سنہری مائل زرد ہو جاتا ہے۔

آملے خشک کرنے سے ان پر جھریاں پڑ جاتی ہیں اور رنگت سیاہی مائل نیلگوں ہو جاتی ہے۔ آملہ دو قسم کا ہوتا ہے: ایک جنگلی، دوسرا پیوندی۔ جنگلی یا پہاڑی آملے چھوٹے ہوتے ہیں جن کا اوسطاً وزن چار ماشے ہوتا ہے اور پیوندی والے بڑے ہوتے ہیں جن کا وزن چھ تولے ہوتا ہے۔ پیوندی آملوں میں بنارس اور بریلی کے آملے زیادہ مشہور ہیں۔ دودھ میں بھگو کر خشک کیے ہوئے آملے کو شیر آملہ کہتے ہیں۔ اس کا اچار بھی بنایا جاتا ہے اور مربہ بھی۔ یہ وٹامن سی کا خزانہ ہے۔ وٹامن سی کی کمی والے اصحاب کو آملے کا استعمال کرنا چاہیے۔ آملے کا شوربہ پی کر اگر بعد میں پانی پیا جائے تو وہ بے حد لذید لگتا ہے۔ یہ پیٹ کو خراب نہیں ہونے دیتا تاہم کسی حد تک قابض ہے۔ اس کی یہ خامی ہم وزن ہرڑ ملا کر دور کی جا سکتی ہے۔ آملے کے تازہ پھل کی تاثیر سرد، خشک اور پیشاب آور ملین تسلیم کی گئی ہے۔ خشک پھل زیادہ قابض ہوا کرتے ہیں۔ نکسیر، ہاتھ پاؤں کی جلن اور جسمانی حدت میں آملے کا استعمال آرام دیتا ہے۔ بلڈ پریشر کے لیے مفید ہے۔ کھٹے ڈکار آتے ہوں، جی متلاتا ہو، قے آتی ہو یا بدہضمی یا اسہال ہو تو آملہ مفید ہے۔ نظر کی کمزوری، بال گرنا، قبل از وقت بال سفید ہونا اور گنجے پن میں مفید ہے۔ دماغی کمزوری اور نسیان میں اس کا استعمال فائدہ پہنچاتا ہے۔ آملوں کو پانی میں ڈال کر رات بھر پڑا رہنے دیں، پھر ان سے آنکھیں دھوئیں تو آنکھوں کی لالی، جلن اور نظرکی کمزوری کو آرام آ جاتا ہے۔ رات بھر بھیگے آملوں کے پانی سے سر دھوئیے بال ملائم اور نرم ہو جائیں گے۔ آملوں کا سفوف منجن کی طرح انگلی سے ملا جائے تو دانتوں سے خون آنا، دانتوں کا میل، دانت کا درد اور دانتوں کے ہلنے سے آرام آ جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب میں پولیو کب تک ختم ہوجائے گا؟ حکومت نے ایسا دعویٰ کردیا کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے، عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے بھی انگلیاں دانتوں میں دبا لیں۔

لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ صوبے سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *