Friday , December 14 2018
ہوم > پاکستان > خواجہ آصف چپ نہ بیٹھے ۔۔۔اپنی نا اہلی کے خلاف ایسا قدم اٹھا لیا کہ پی ٹی آئی والے دیکھتے رہ گئے

خواجہ آصف چپ نہ بیٹھے ۔۔۔اپنی نا اہلی کے خلاف ایسا قدم اٹھا لیا کہ پی ٹی آئی والے دیکھتے رہ گئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف اپنی نااہلی کا فیصلہ آج سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ خواجہ آصف اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گے جس میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی
استدعا کی جائے گی۔ رہنما (ن) لیگ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ سے انصاف کا طلب گار ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں اقامہ پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ سے نااہلی کے بعد جیو نیوز سے وابستہ صحافی حامد میر سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ جب سے سیاست میں آئے انہوں نے تب سے اپنے اکاؤنٹس اور اقامہ ظاہر کیا ہوا تھا جو انہوں نے الیکشن کمیشن میں بھی ظاہر کیا، جس اقامے کی تصویر دکھائی جارہی ہے وہ خود الیکشن کمیشن کو دیا ہے۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میری نااہلی میں کسی نے کوئی کمال نہیں کیا، انہوں نے اپنا اقامہ چھپایا ہی نہیں، اگر چھپائی ہوئی چیز باہر آتی تو کمال ہوتا۔یاد رہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے پی ٹی آئی رہنما کی درخواست پر سماعت کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ نے خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔35 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہوگئی۔فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت محنت کی طرف سے لیبر کیٹیگری کا شناختی کارڈ جاری ہوا اور ملازمت کی وجہ سے ہی انہیں اقامہ بھی جاری ہوا۔عدالتی فیصلے کے مطابق 2013 کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت یہ ملازمت ہی خواجہ آصف کا بنیادی پیشہ تھا۔فیصلے کے مطابق کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت خواجہ آصف کا ملازمت کا معاہدہ موجود تھا، جس کی تصدیق یو اے ای کی حکومت نے بھی کی اور معاہدے کے تحت خواجہ آصف کمپنی معاملات کو خفیہ رکھنے کے پابند تھے۔تحریری فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کے معاہدے کے تحت 1 سال میں مسلسل 7 روز غیرحاضری پر خواجہ آصف کی ملازمت ختم ہوسکتی تھی جبکہ معاہدے کے تحت انہیں ہر ماہ تنخواہ ملتی رہی اور خواجہ آصف نے اسے تسلیم بھی کیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملازمت ظاہر کرنے سے خواجہ آصف کے لیے مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ اٹھایا جاسکتا تھا، یہی وجہ ہے کہ کاغذات نامزدگی کے کالم 8 میں انہوں نے لفظ ‘کاروبار’ لکھا تھا۔فیصلے میں خواجہ آصف کی ملازمت سے متعلق 3 کنٹریکٹ بھی منسلک کیے گئے ہیں

یہ بھی دیکھیں

شہباز شریف کو اے پی سی کا چیئرمین بنانے کی پیشکش ۔۔۔۔ سابق وزیر اعلیٰ کا موقف بھی سامنے آ گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) شہباز شریف کا کہنا ہے حکومتی آفر کا خیرمقدم کرتے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *