Wednesday , November 14 2018
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > کوئی آپ سے جھوٹ بول رہا ہے یا سچ ۔۔۔؟ روز مرہ کی گفتگو میں کسی کی چوری پکڑنے کا آسان طریقہ کیا ہے ؟ یہ شاندار تحریر پڑھیے

کوئی آپ سے جھوٹ بول رہا ہے یا سچ ۔۔۔؟ روز مرہ کی گفتگو میں کسی کی چوری پکڑنے کا آسان طریقہ کیا ہے ؟ یہ شاندار تحریر پڑھیے

کوئی آپ سے جھوٹ بول رہا ہے یا سچ ۔۔۔؟ روز مرہ کی گفتگو میں کسی کی چوری پکڑنے کا آسان طریقہ کیا ہے ؟ یہ شاندار تحریر پڑھیے

لاہور (ویب ڈیسک) چند ہفتوں کی بات ہے، میرے ایک عزیز رشتہ دار کو ذہنی پرابلم ہوگئی تھی، تب مجھے ذہنی مشکلات میں پریشان لوگوں اور ساتھیوں کے بارے میں چند حقائق معلوم ہوئے اور کچھ معاشرے کے شب و روز کے واقعات ومعاملات سے بھی اندازے لگائے جاسکتے ہیں۔

صوفی محمد انوار اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ ویسے تو جھوٹ ہمارے مذہب میں گناہ کبیرہ مانا جاتا ہے اور اگر صرف اس برائی سے جان چھڑالی جائے تو زندگی کی کئی بری عادتیں بھی دور ہوجائیں گی، مگر کیا آپ واقعی ایسا کرسکتے ہیں؟ کچھ افراد اس کا اثبات میں جواب دے سکیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ روزمرہ زندگی میں ہم جن افراد سے ملتے ہیں، ان میں سے بیش تر جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں اور انہوں نے جھوٹ بولنے کو ہی اپنی منزل مقصود بنالیا ہوتا ہے، چونکہ عموماً جھوٹ بولنے والے لوگ سامنے والے شخص کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، جھوٹ بولنے والے لوگ زیادہ سبز باغ دکھاتے ہیں، وہ جھوٹ بول کر دوسروں کو مرعوب کرلیتے ہیں، میرا تعلق سیاسی شعبے سے ہے، جس میں لگ بھگ 60فیصد افراد دس منٹ کی گفتگو میں بھی جھوٹ بولنے سے نہیں کتراتے ، اوسطاً دس منٹ میں دو سے تین جھوٹ بول کر مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اچھی بات یہ ہے کہ کسی کا جھوٹ پکڑنا اتنا بھی مشکل نہیں، بس آپ کو چند علامات کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے، ایف بی آئی کے لئے رویوں کا تجزیہ کرنے والوں اور باڈی لینگوئج کے ماہرین نے کچھ ایسی علامات طے کررکھی ہیں،

جو ان کے بقول کسی فرد کے جھوٹ پکڑنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں، بس یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عام طور پر وہ شخص کس طرح کے رویے کا اظہار کرتا ہے تو ان علامات کو جاننے کی کوشش کریں، کیونکہ ان پر عمل درآمد کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ جھوٹ بولنے والے اپنے سر کی پوزیشن جلدی جلدی بدلتے ہیں، آپ اگرکسی سے براہ راست سوال پوچھیں اور اپنے سر کی پوزیشن کو اچانک بدل لیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ آپ سے کسی چیز کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہو، ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص کسی سوال کے پوچھنے پر سر پیچھے یا اوپر کی جانب اٹھائے اچانک جھکالے یاٹیڑھا کرلے تو ایسا اس وقت ہوتا ہے، جب کوئی کسی فرد کے سوال پر سچائی بیان کرنے کی بجائے کوئی جواب سوچنے کے لئے مہلت حاصل کررہا ہو۔ن کے سانس لینے کا انداز بدل جاتا ہے، جب کوئی شخص جھوٹ بولنے لگتا ہے تو اس بات کے امکانات ہوتے ہیں کہ اس کی سانس گہری یا بھاری ہوجاتی ہے اور یہ درحقیقت جسم کا رد عمل ہوتا ہے، جب کسی کے سانس لینے کا انداز تبدیل ہوتا ہے تو اس کے کندھے اٹھ جاتے ہیں اور آواز بھاری ہوسکتی ہے۔

درحقیقت سانس بھاری ہونے کی وجہ دل کی دھڑکن اور خون کے بہاؤ میں تبدیلی آنا ہوتی ہے، کیونکہ جسم میں اس قسم کی تبدیلیاں اس وقت آتی ہیں، جب آپ اعصاب زدہ اور تناؤ محسوس کررہے ہو، خاص طور پر جھوٹ بولتے وقت۔ یہ بات تو عام ہے کہ جب لوگ اعصابی کشیدگی کا شکار ہوں تو بہت زیادہ مضطرب یا حرکت کرتے رہتے ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کو ایسے افراد پر توجہ دینی چاہئے جو کسی قسم کی حرکت نہ کررہے ہوں۔یہ ابتدائی اعصابی لڑائی کی علامت ہوسکتی ہے، کیونکہ جسم اپنی پوزیشن سے خود کو ممکنہ نتائج کے لئے تیار کررہا ہوتا ہے، جب آپ کسی سے عام بات چیت میں مصروف ہوتے ہیں تو آپ کے جسم کا ہلنا فطری امر ہوتا ہے اور اکثر تو اس کا احساس تک نہیں ہوتا تو اگر آپ کسی کو بت کی طرح ایک انداز میں ساکت دیکھیں تو یہ جھوٹ بولنے کی ایک بڑی علامت ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسا اس وقت بھی ہوتا ہے، جب وہ آپ کو اور خود کو کسی چیز کے لئے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔وہ اپنے ذہن میں جھوٹ کو جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں، جس کی مثال یہ ہوسکتی ہے کہ وہ بار بار یہ کہیں نہیں مَیں نہیں کرسکتا وغیرہ۔ الفاظ یا جملوں کو بار بار دہرانا وقت حاصل کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے خیالات کو بہتر طریقے سے اکٹھا کرکے جواب دے سکیں۔

ماہرین کے مطابق ہم نے اکثر کمرہ عدالت میں ایسا دیکھا ہے، ہم نے وہاں پر یہ درست نشان دہی کی ہے کہ کب کسی نے اپنی گواہی کے ذریعے عدالت کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے، یعنی جب ہم نے انہیں اپنے ہاتھوں سے اپنے گلے کو ڈھانپتے دیکھا، کیونکہ اس علامت کو باقاعدہ اپنے منہ سے خود کو جھوٹ بولنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔یہ جھوٹ بولنے کی ایک واضح علامت ہوتی ہے، جب کوئی شخص خود کارطور پر اپنے ہاتھوں کو اس وقت منہ پر رکھ لے جب وہ کسی مسئلے کو نمٹانا یا سوال کا جواب نہ دینا چاہتا ہو، ماہرین کا کہنا ہے، جب بالغ فرد اپنے ہاتھوں کو ہونٹوں کے اوپر رکھ دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ نہیں بتا رہے اور وہ سچ بتانا نہیں چاہتا اور اس طرح کرکے وہ بات چیت کا سلسلہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ماہرین کے مطابق جھوٹ کو پکڑنے کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ ، کسی فرد کے پیروں کو دیکھ کر آپ اس کے بارے میں بہت کچھ بتاسکتے ہیں۔ جب کوئی شخص لگاتار بولتا جائے اور آپ کو بہت زیادہ معلومات فراہم کرنے لگے، جس کی آپ نے اس سے درخواست بھی نہ کی ہو،

خاص طور پر مکمل تفصیلات کے ساتھ تو اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ وہ مرد یا عورت سچ نہیں بتا رہے، جھوٹ بولنے والے افراد اکثر زیادہ بات کرتے ہیں، کیونکہ انہیں توقع ہوتی ہے کہ بات چیت سے وہ زیادہ اچھی شخصیت کے مالک نظر آئیں گے اور دیگر ان پر یقین کرنے پر مجبور ہوں گے، میرا تو بہت زیادہ تجربہ ہے، اس طرح کی باتیں سننے کا سیاسی لیڈروں کو زیادہ تر لوگ اس طرح باتیں سنا کر اپنا اعتماد بحال کرتے ہیں یا دوسروں سے منفرد مقام بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جھوٹ بولنے والے لوگ عموماً آج کل کے ماحول میں کامیاب نظر آتے ہیں، جب کسی جھوٹ بولنے والے کو مشکلات یا دفاعی پوزیشن کا سامنا ہو تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ الزامات کا رُخ آپ کی جانب کردے۔جھوٹ بولنے والا اس وقت آپ کا مخالف ہوسکتا ہے، جب وہ غصے میں ہو، جب اس کے جھوٹ سامنے آگئے ہوں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دیگر افراد کی جانب انگلیاں اٹھانا شروع کردیتا ہے۔یہ ماحول آج کل ملک میں بڑی بڑی عدالتوں میں ہورہا ہے، اگر آپ کو کسی ملزم سے تفتیش کی ویڈیو دیکھنے کا موقع ملے تو ہوسکتا ہے کہ آپ یہ نوٹ کریں کہ ان کے لئے بولنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے، ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنے کی کوشش میں خود کار اعصابی نظام خراب ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں منہ سوکھ جاتا ہے اور بولنا مشکل ہو جاتا ہے، جھوٹ بولنے والے اپنے ہونٹوں کو کاٹنا شروع کردیتے ہیں۔

ایسا عام تصور ہے کہ جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو وہ آنکھوں میںآنکھیں ڈالنے سے گریز کرتا ہے، مگر اکثر افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے جھوٹ کو سچا ثابت کرنے کے لئے بڑے پُراعتماد انداز سے آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے نہیں گھبراتے، اکثر دھوکے باز ایسا کرتے ہیں اور وہ عام لوگوں کو عام حالات کے مقابلے میں زیادہ دیر تک براہ راست گھورتے رہتے ہیں، وہ اپنی پلکیں بھی نہیں جھپکتے، دوپہر ہو یا سہ پہر لوگوں کی باتوں پر زیادہ اعتبار نہ کریں، کیونکہ یہ وقت ہوتا ہے، جب افراد کے اندر جھوٹ یا دھوکہ دینے کا جذبہ عروج پر ہوتا ہے۔ دن کا درمیانی حصہ ہوتا ہے، جب کام کی تھکن اور بار بار فیصلے کرنے کی وجہ سے لوگوں کا خود پر کنٹرول کم ہو جاتا ہے اور ان کے اندر جھوٹ یا دھوکہ دہی کا جذبہ کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں صبح کا وقت وہ ہوتا ہے، جب لوگ اخلاقی طور پر بہت زبردست پوزیشن میں ہوتے ہیں اور وہ سچ بولنے کی کوشش میں ہوتے ہیں، والدین کی جھوٹی باتیں ان کے بچوں کو دھوکے باز بنادیتی ہیں، بڑے افراد کی جھوٹ بولنے کی عادت بچوں میں منتقل ہوجاتی ہے اور بڑے ہو کر وہ بھی دھوکے باز بن جاتے ہیں، پاکستانی معاشرے کی بہت بڑی پرابلم اور مشکل یہ ہے کہ اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے ہر طرح ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے، ملک اور معاشرے اپنی آنے والی نسلوں کا خیال نہیں کرتے، صرف دھڑے بندیاں اور پار ٹی بازیاں ملک اور معاشرے کو تباہ کررہی ہیں۔کاش پاکستان کے سیاستدان، لیڈر اپنے جھوٹ کو تسلیم کریں اور پاکستانیوں سے معافی مانگ کر نئی زندگی شروع کریں، مگر بدقسمتی سے بالکل آج ملک میں جھوٹ اور سچ کا مقابلہ شروع ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حوض کوثر سے جام پینے کی طلب لیکن یہ دراصل کیسی ہے؟ دین کی روشنی میں آپ بھی جانئے

لاہور(ویب ڈیسک)ہر مسلمان مردوعورت محشر کے روزآقائے دوجہاں کے دست مبارک سے جام کوثر پینے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *