Friday , December 14 2018
ہوم > انٹرنیشنل > تحریک ایذا رسانی ۔۔۔ دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک میں اکیلی جاتی مسلمان خواتین کے خلاف خوفناک مہم زور پکڑنے لگی ، خوفناک انکشافات پر مبنی یہ خبر پڑھیے

تحریک ایذا رسانی ۔۔۔ دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک میں اکیلی جاتی مسلمان خواتین کے خلاف خوفناک مہم زور پکڑنے لگی ، خوفناک انکشافات پر مبنی یہ خبر پڑھیے

لاہور (ویب ڈیسک) حال ہی میں لندن کے مئیرمحترم صادق خان نے امریکی صدر ٹرمپ سے مسلمان مخالف گروہ کی سرپرستی کرنے کیلئے مسلمانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بد قسمتی سے اسوقت یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کےخلاف ایک نفرت انگیز مہم چل رہی ہے۔اس مہم کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو ختم کرنا ہے۔

معروف کالم نگار سکندر خان بلوچ لکھتے ہیں ۔۔۔صلیبی جنگیں تو عیسائیوں اور مسلمانوں کی عرصہ دراز سے چل رہی ہیں مگر مسلمانوں کو ختم کرنیوالی تحریک صلیبی جنگ کی نئی شکل ہے۔ 3اپریل کو پورے یورپ اور امریکہ میں Punish A Muslim Day منایا گیا اور اس دن اکیلی چلتی ہوئی مسلمان خواتین یا مسلمان مردوں کی مختلف طریقوں کی ایذار سانی کی گئی۔ یہ تحریک تا وقت بہت محدود پیمانے پر ہے لیکن خبریں یہ ہیں کہ اس میں مسلسل وسعت اور شدت آرہی ہے۔

مسلمانوں کو ختم کرنا تو امریکہ یا اہل یورپ کے بس میں نہیں ہوگا کیونکہ خدا کا نام لینے والوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن مسلمانوں کو کمزور اور بے بس ضرور کیا جا سکتا ہے۔یہاں مسلمانوں کو سوچنا ہو گا کہ اہل مغرب کی شر انگیزیوں سے اپنی سلامتی کی حفاظت کیسے کی جا سکتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ اہل مغرب کی طرف سے مسلمانوں کےخلاف صلیبی جنگ کبھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی ہے۔یورپ میں جب نشاة ِ ثانیہ کا دور شروع ہوا تو یورپی اقوام نے سب سے پہلے مسلمان ممالک پر حملہ کیا۔مسلمان ممالک کو زیر کیا۔

انہیں غلام بنایا اور انکے وسائل استعمال کر کے خود خوب ترقی کی۔ مسلمان ممالک کی ترقی روکنے کیلئے کئی حربے استعمال کئے گئے۔سب سے زیادہ علماءکرام استعمال ہوئے (آج کے علما ءسے معذرت) ۔یورپین اقوام کو پتہ تھا کہ مسلمان اپنے علماءکی باتوں پر پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہیںاس لئے علما ءکے ذریعے نفرت کا بیج بویا گیا۔ فرقے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کےلئے بے قرار ہیں۔ ہر فرقے نے اپنی اپنی علیحٰدہ مساجد بنالی ہیں اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک پڑھنے کے روا دارنہیں۔ حالانکہ حضور کریم کا حکم ہے کہ تمام مسلمان ایک ہی جسم کی مانند ہیں۔ مسلمانوں کو دوسرا بڑا نقصان یہ پہنچا کہ کچھ علماءکرام نے سائنسی ترقی اور غیر ملکی تعلیم یا غیر ملکی زبان کفر کے مترادف قرار دے دی۔ مسلمان دشمنوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان سائنس اور جدید تعلیم کی طرف جائیں ہی نہ۔حالانکہ سائنس اور ہر قسم کی تعلیم مسلمانوں کی ابدی میراث تھی۔ حضو ر کریم نے تو یہاں تک حکم فرما دیا تھا کہ اگر علم کےلئے چین بھی جانا پڑے تو جائیں اور ظاہر ہے چین میں اسلامی تعلیم تو نہ تھی۔اگر ہمارے علما ءکرام مسلمانوں کو سائنس اور علم کے ذریعے ترقی کی راہ پر ڈالتے تو آج مسلمان امریکہ اور اہل یورپ کے ہم پلہ ہوتے۔

کسی کو مسلمانوں کو دبانے کی جرا¿ت نہ ہوتی۔ مسلمانوں کے اسوقت دنیا میں کم و بیش 57ممالک ہیں ۔آبادی بھی لگ بھگ ڈیڑھ ارب ہے لیکن کوئی بھی ملک اس قابل نہیں جو امریکہ یا یورپی ممالک کے سامنے کھڑا ہو سکے۔کوئی بھی ملک اسلحہ میں خود کفیل نہیں ہے۔سائنسی ترقی اور ریسرچ کے لحاظ سے بھی دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ جس کا دل چاہتا ہے مسلمانوں کو دھمکیاں دیتا ہے اور ہم انہی ممالک کی چاپلوسی کرنے پر مجبور ہیں۔یہ نہیں کہ ہم کند ذہن یا نا لائق ہیں لیکن ہماری بد قسمتی کہ ہم علم اور سائنسی ترقی کو اہم نہیں سمجھتے۔ جب امریکی خلا باز چاند پر اترے تھے تو ہمارے کچھ علما ءنے اسے دھوکہ،فراڈ اور کفر قرار دیا تھا ۔ہماری زبوں حالی اور پسماندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کُل عالمِ اسلام میں پاکستان واحد ایٹمی طاقت ہے لیکن ہماری انڈسٹریل ترقی کا یہ عالم ہے کہ سوئی اور پیپر پن تک ہم چین سے منگواتے ہیں ۔مکمل سائیکل تک نہیں بنا سکتے۔کہنے کو زرعی ملک ہیں لیکن سبزیاں اپنے دشمن بھارت سے منگوانی پڑتی ہیں۔ اگر ہم نے ترقی کی ہے تو صرف کرپشن میں۔

ہماری تعلیم کی یہ حالت ہے کہ ایم اے پاس درخواست نہیں لکھ سکتا۔ ڈاکٹریٹ کے تھیسز بازار میں بکتے ہیں جس سے کوئی بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے سکتا ہے۔جب سے ملک معرض وجود میں آیا ہے ہمارے راہنما کشکول ہاتھ میں پکڑ کر ساری دنیا سے بھیک مانگتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے لوٹ لوٹ کر ملک کو کنگال کر دیا ہے۔قرض میں ملک کو ڈبو دیا ہے لیکن دعویٰ ہے شاندار ترقی کا۔ دوسرے مسلمان ممالک میں بھی ایسا کوئی ملک نہیں جسے معاشی طور پر یا علمی لحاظ سے ماڈل قرار دیا جائے ۔

امریکی صدر کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے یورپ میں بھیPunish a Muslim Day تحریک شروع ہوئی۔ اب یہ تحریک دیگر مذاہب میں بھی پھیل چکی ہے۔بھارتی فوج کشمیر میں اور اسرائیلی فوج فلسطین میں سات دہائیوں سے بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے۔انہیں روکنے کی بجائے دنیا انہیں شاباش دے رہی ہے۔ بھارت میں گائے ماتا کے نام پر مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔یمن میں مسلمانوں کو مسلمانوں سے مروایا جا رہا ہے۔بدھ مذہب دنیا میں پر امن ترین مذہب شمار ہوتا تھا جو کسی بھی جاندار کو مارنا گناہ سمجھتے ہیں مگر میانمار میں بدھ مذہب کے لوگوں نے روہنگیا مسلمانوں کے گاﺅں کے گاﺅں جلا دئیے۔ خواتین کا کھلے عام ریپ کیا اور نوجوان لڑکیاں اغوا کر کے لے گئے ۔نتیجتاًآج آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمان کسمپرسی کی حالت میں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔میانمار کی دیکھا دیکھی سری لنکا میں بھی بدھ مت کے پیروکاروں نے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ایسے نظر آتا ہے کہ مسلمانوں پر ہر جگہ عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ان کیلئے کہیں بھی جائے پناہ نہیں بچی۔مسلمان خون دنیا میں سب سے ارزاں ہے۔اگر اب بھی ہم نہ جاگے تو مسلمانوں کا زندہ رہنا نا ممکن ہو جائیگا۔

یہ بھی دیکھیں

گوگل کے پرستاروں کے لیے بڑی خبر : معروف سروس کو بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا

لاہور( ویب ڈیسک) دنیا بھر کا معروف سر چ انجن گوگل اپنی سوشل میڈیا سروس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *