Monday , August 20 2018
ہوم > کالم > ایک روپے کا مسئلہ- سلیم صافی

ایک روپے کا مسئلہ- سلیم صافی

ریاست سوات پر والئی سوات میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب کی حکمرانی کو آج بھی وہاں کے لوگ نہیں بھولے۔ بزرگ انکے دور کے حسن انتظام اور عوامی خدمات کا تذکرہ آج بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ ایک سخت گیر لیکن عوام میں انتہائی مقبول حکمراں سمجھے جاتے تھے ۔عمران خان صاحب انکے دور میں ہوتے تو جیل میں ہوتے کیوں کہ انکے دور میں گالی دینے پر سخت پابندی عائد تھی اور جھگڑے کے موقع پر تو کیا گپ شپ کے دوران بھی گالی دینا قابل تعزیز جرم تھا۔ پوری ریاست میں یہ قانون سختی سے نافذ تھا کہ کسی بھی قسم کی گالی دینے والے کو ایک روپیہ جرمانہ کیا جاتا تھا اور ظاہر ہے کہ اس وقت کے ایک روپیہ کی بڑی قدرتھی ۔ دوسری طرف قوم بھی پٹھان تھی جولڑائی جھگڑوں سے باز آسکتی ہے اورنہ اپنے جذبات پر قابورکھ سکتی ہے۔

چنانچہ جب دو بندوں کی لڑائی ہوجاتی اور غصہ حد سے بڑھ جاتاتو ایک دوسرے کو مخاطب کرکے وہ دانت پھیستے ہوئے کہتے کہ ہو تو تم وہی لیکن افسوس میرے پاس ایک روپیہ نہیں ۔ یوں وہ غصہ بھی نکال لیتا ۔ دوسرے کو غصہ بھی پہنچ جاتا اور دوسرا وہی ردعمل بھی دکھاتا جو گالی کھانے کی صورت میں دکھایا جاتا ہے لیکن وہ جرمانے سے بچ جاتے ۔

اس وقت پاکستان میں ہم اہل صحافت کی حالت بھی والئی سوات کے دور کے شہریوں کی سی ہوگئی ہے ۔ہم بہت کچھ کہنا اور لکھنا چاہتے

ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے پاس جرمانے کا ایک روپیہ نہیں ہے ۔ میرے نزدیک اس وقت قومی سلامتی کے محاذ پر سنگین چیلنجز اور خطرات درپیش ہیں ۔اس حوالے سے بہت کچھ دل میں ہے اور بہت کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے لیکن افسوس کہ ایک روپیہ نہیں ۔

اسی طرح اس وقت پاکستان کی مغربی پٹی میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے نتیجے میں وہاں کے باسیوں اور ریاست پاکستان کیلئے گزشتہ دس سال کے عذاب سے بڑا عذاب آتا ہوا نظر آرہا ہے لیکن تفصیل نہیں لکھ سکتا کیوں کہ ایک روپیہ نہیں ۔ افغانستان ایسی بھیانک تباہی کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے کہ خاکم بدہن ہم ماضی کی تباہیوں کو بھول جائیں گے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی خراب سے خراب تر ہورہے ہیں لیکن تفصیل نہیں بتاسکتا کیونکہ ایک روپیہ نہیں ۔ میڈیا کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ، ماضی میں وہ کبھی نہیں ہوا لیکن تفصیل نہیں بتاسکتا کیوںکہ ایک روپیہ نہیں ۔

عدالت کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوتا نظر آرہا ہے جو میڈیا کے ساتھ ہوگیا لیکن افسوس کہ تجزیہ نہیں کرسکتا کیوں کہ ایک روپیہ نہیں۔ بلوچ، سندھی ، مہاجر ، پختون اور سرائیکی کے بعد اب پنجابی بھی باغیانہ قسم کی باتیں کرنےلگےہیں لیکن تفصیل میں جانا ممکن نہیں کیونکہ بدترین غربت ہے اور جرمانے کا ایک روپیہ ادا نہیں کرسکتا۔ ریاستی اداروں کی آپس میں چپقلش اور پھر اداروں کے اندر مختلف اداروں کی چپقلش تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے لیکن تفصیل کیسے بتائوں جو ایک روپیہ نہیں ۔یہ جو لوگ پارٹیوں سے نکالے جارہے ہیں اور مخصوص پارٹیوں میں لے جائے جارہے ہیں ، ان سے متعلق ایسی ایسی تفصیلات ہیں کہ سیاست توکیا انسانیت بھی سن کر شرماجائے لیکن ظاہر ہے تفصیل نہیں بتاسکتا کیوں کہ مسئلہ ایک روپے کا ہے ۔

میرے لئے یہ کوئی ایشو ہی نہیں کہ نوازشریف وزیراعظم ہوں، آصف زرداری یا عمران خان ۔ میں ان تینوں کو ایک ہی سکے کے مختلف رخ سمجھتا ہوں ۔ میرا یقین ہے اور اپنے پاس دلائل بھی رکھتا ہوں کہ ان میں سے ایک حکمراںرہے یا دوسرا یا تیسرا ، اس ملک اور میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ لیکن ان لوگوں کو آگے پیچھے کرنے کیلئے جو کچھ ہورہاہے وہ بہت تشویشنا ک ہے کیوں کہ جو کچھ ہورہا ہے اس کے نتیجے میں کسی پارٹی یا لیڈر کا نہیں بلکہ ملک کا نقصان ہورہا ہے ۔ ایسا ناقابل تلافی نقصان کہ اس کا جب محافظین کو ادراک ہوگا تو وقت گزر گیا ہوگا ۔

اس کے نتیجے میںسیاست مزید بے وقعت ہورہی ہے ۔ نفرتیں جنم لے رہی ہیں ۔ملک اور اداروں پر اعتماد اٹھ رہا ہے ۔ قوم کو متحد رکھنے والی اور چترال سے کراچی تک بانڈ ز کی حیثیت رکھنے والی جماعتوں کی جگہ علاقائی اور لسانی جماعتیں لے رہی ہیں یا پھر ان بنیادوں تحریکیں جنم لے رہی ہیں ۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ سیاست ، سیاستدانوں کے ہاتھ میں نہیں رہی ۔

کہیں سیاست کو نیا باپ (BAP)مل رہا ہے تو کہیں نئی ماں(MMA) ۔ بلوچستا ن عوامی پارٹی (باپ) کا باپ معلوم ہے لیکن تفصیل نہیں بتائی جاسکتی کیونکہ ایک روپیہ کا مسئلہ ہے ۔ ہاں البتہ ماں (ایم ایم اے) کا باپ اس مرتبہ معلوم نہیں اور یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ وہ کس کی تخلیق ہے۔ پچھلی مرتبہ ماں (ایم ایم اے) کی حیثیت باپ(بلوچستان عوامی پارٹی) جیسی تھی لیکن اب کے بار ماں (ایم ایم اے ) کا کام پی ٹی آئی اور باپ وغیرہ سے لیا جارہا ہے اسلئے سردست اس کا والی وارث معلوم نہیں اور یہ بھی امکان ہے کہ وہ سیاست کے باپ کے مخالف کیمپ میں چلاجائے ۔

پاکستان کے باپ سیاست اور صحافت کے بھی باپ بن گئے ہیں ۔ ان کی نیت پر شک نہیں ۔ وہ پورے خلوص کے ساتھ پاکستان کی خدمت سمجھ کر اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کرچکے ہیں ۔

پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر جو سنگین خطرات درپیش ہیں، وہ اس کے تناظر میں ضروری سمجھتے ہیں کہ سیاست اور صحافت کو اس کی فطری رخ پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ اسلئے پورے خلوص کے ساتھ اورقومی فریضہ سمجھ کر اس کو کنٹرول کیا جارہا ہے ۔ اس مینجمنٹ اور کنٹرول کی بہت ساری تفصیلات ہیں لیکن بیان نہیں کی جاسکتیں کیوں کہ ایک روپے کا مسئلہ ہے ۔

ملک کا درپیش چیلنجز کا مقابلہ تبھی ممکن تھا کہ ملک کی جینوئن (جعلی نہیں) سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے ادارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مقابلہ کرتے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا ۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن تفصیلات بیان نہیں کرسکتا کیونکہ ایک روپیہ نہیں، والا معاملہ ہے۔

احتساب کے ذریعے سیاست کو ڈائریکٹ کیا جارہا ہے اس لئے احتساب سیلیکٹیو ہے حالانکہ احتساب کی روح یہ ہے کہ وہ سب اداروں اور سب افراد کا یکساں احاطہ کرتا ہے ۔ احتساب کو کیسے سیاست کے مینجمنٹ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ، اس کی بھی بہت ساری مثالیں ہیں لیکن بیان نہیں کرسکتا کیونکہ روپیہ راہ میں حائل ہے سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ عوام جس کوووٹ دے رہے ہیں ، ان کا راستہ روکا جارہا ہے اور جو شخص وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہا ہے ، اس کو ووٹ نہیں پڑسکتے ۔

اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص وزیراعظم کے منصب کے لئے پاگل ہورہا ہے ، اس کے اگلے الیکشن میں وزیراعظم بننے کا اتنا ہی کوئی امکان نہیں جتناکہ میاں نوازشریف کا نہیں ۔ ان کی پارٹی جیت بھی جائے تو وزیراعظم وہ نہیں ہونگے ۔ لیکن وہ دن رات وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور انہیں دکھائے بھی جارہے ہیں ۔ ظاہر ہے ان کا یہ خواب اس مرحلے پر توڑ دیا جائے تو پھر وہ پوری قوت سے لڑیں گے اور نہ اشاروں پر ناچیں گے ۔ان کے وزارت عظمیٰ کے چانسز نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے دو سب سے اہم ترین دوست ان کو کسی صورت پاکستان کا وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتے ۔

اس سے بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک مغربی ملک ان کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے اورپاکستان کاایک خاص دوست ملک ان کو اس مغربی ملک کا آدمی سمجھتا ہے ۔ دوست ممالک کیوں ان کو وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتے اور مغربی ممالک ان کو کیوں وزیراعظم بنانے پر تلے ہوئے ہیں، ان سوالوں کا جواب بھی جانتا ہوں اور وجوہات بھی لیکن لکھ نہیں سکتا کیوں کہ مسئلہ ایک روپے کا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *