Friday , September 21 2018
ہوم > کالم > اصل گیم؟ حامد میر

اصل گیم؟ حامد میر

یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔ عمران خان سمجھ رہے ہیں کہ لاہور میں ایک بڑا جلسہ گیم چینجر ہے۔ گیم چینجر ان کا جلسہ نہیں بلکہ باسٹھ ون ایف ہے جس کے تحت پہلے نواز شریف اور اب خواجہ محمد آصف تاحیات نا اہل ہو گئے۔ عمران خان اپنے دھرنوں اور جلسوں سے کسی کو نہیں گرا سکے۔

اگر کوئی گرا ہے تو اپنی غلطیوں سے گرا ہے۔ عمران خان کی اصل طاقت ان کا نظریہ یا ان کے جلسے نہیں بلکہ نواز شریف کی غلطیاں ہیں۔

کیسی ستم ظریفی ہے کہ 2012ءمیں سپریم کورٹ نے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے الزام میں نا اہل قرار دیا تو نواز شریف نے خوشیاں منائی تھیں۔ پھر جب اسی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تو عمران خان خوشیاں منا رہے ہیں۔ وہ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ اسی سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو بھی نا اہل قرار دیا ہے۔

اور اگر ترین صاحب نا اہل ہو سکتے ہیں تو باسٹھ ون ایف تحریک انصاف کی اہم ترین گردن کو بھی اڑا سکتی ہے؟باسٹھ ون ایف کے بارے میں اس ناچیز کا موقف سب کو پتہ ہے۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں یہ مبہم قانون مخصوص مقاصد کے تحت آئین میں داخل کیا گیا تھا۔ سیاسی جماعتوں نے آئین میں سے اٹھاون ٹوبی کو تو نکال دیا لیکن باسٹھ ون ایف کو نہیں نکالا۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعہ اس قانون کو نکالنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہوئی تھی جو

نواز شریف نے ناکام بنائی۔ اگر نواز شریف باسٹھ ون ایف میں صرف نا اہلی کی مدت واضح کرنے پر بھی راضی ہو جاتے تو آج تاحیات نا اہلی کی تکلیف ان کے چہرے سے کوسوں دور ہوتی لیکن آج وہ اپنی تمام تکلیفوں کی ذمہ داری عدلیہ پر ڈال کر خود کو بے قصور قرار دے رہے ہیں۔ خواجہ محمد آصف نے تاحیات نا اہلی کے بعد بھی عدلیہ پر تنقید سے گریز کیا ہے۔

خواجہ محمد آصف مسلم لیگ (ن) کے ان رہنمائوں میں شامل تھے جنہوں نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد فوج اور عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی سے اختلاف کیا۔ وہ نواز شریف کے ساتھ وفادار رہے لیکن انہوں نے ببانگ دہل یہ بھی کہا کہ فوج اور عدلیہ منتخب حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہے۔

کچھ عرصہ قبل نواز شریف نے دوستانہ انداز میں خواجہ صاحب کے موقف پر ان کے سامنے سوال اٹھایا تو خواجہ صاحب نے جواب میں کہا کہ آپ نے مجھے وزیر خارجہ بنایا ہے اگر ملک کا وزیر خارجہ اپنے ہی ریاستی اداروں پر حملہ آور ہو جائے توخارجہ محاذ پر پاکستان کا مقدمہ کیسے لڑے گا؟
مارچ 2018ء میں سیالکوٹ میں ایک تقریب کے دوران خواجہ محمد آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکی گئی تو یہ واضح ہو گیا کہ فوج اور عدلیہ پر تنقید نہ کرنے کے باوجود وہ کچھ لوگوں کا ٹارگٹ ہیں۔13اپریل کو انہوں نے سیالکوٹ میں مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا ورکرز کنونشن کا اہتمام کیا جس میں مریم نواز نے خواجہ محمد آصف کی تعریفوں کے انبار لگا دئیے۔

اس کنونشن کے بعد عمران خان نے کہنا شروع کر دیا کہ مسلم لیگ (ن) کی ایک بڑی وکٹ گرنے والی ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے رہے کہ چوہدری نثار علی خان تحریک انصاف میں جانے والے ہیں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کو پتہ تھا کہ چوہدری صاحب فصلی بٹیروں کی لائن میں لگ کر اس طرف نہیں جائیں گےجہاں بٹیروں کو تھوڑا سا دانہ دنکا ڈالنے کے بعد بند کمر وں میں ان کی بے وفائیوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اور پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آ گیا۔ خواجہ محمد آصف کی وکٹ بھی گر گئی۔ خواجہ صاحب کو ایک ایسے اقامے کی آمدنی پر نا اہل قرار دیا گیا جو وہ مسلسل 27سال سے ظاہر کر رہے ہیں۔

خواجہ صاحب کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی کوئی آمدنی نہیں چھپائی۔ الیکشن کمیشن کے کاغذات نامزدگی میں جو بھی پوچھا گیا وہ بتایا گیا۔ انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے لیکن ان کے بہت سے خیر خواہوں کا خیال ہے کہ وفاقی وزیر بننے کے بعد وہ یو اے ای کے اقامے سے نجات حاصل کر لیتے تو بہتر ہوتا۔ ان کی نا اہلی کے فیصلے سے مسلم لیگ ن کے اندر کچھ لوگوں کی یہ رائے غلط ثابت ہو گئی کہ خواجہ محمد آصف کسی خاموش مفاہمت کی وجہ سے فوج اور عدلیہ پر تنقید نہیںکر رہے تھے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بڑا تفصیلی فیصلہ ہے۔

اس فیصلے میں جن قانونی نکات کی بنیاد پر نا اہلی کو جائز سمجھا گیا وہ غور طلب ہیں اور اس فیصلے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ عدالتیں باسٹھ ون ایف کا استعمال سیاسی انتقام کے لئے نہیں کر رہیں۔ جب تک باسٹھ ون ایف کو آئین سے نہیں نکالا جاتا اور جب تک سیاستدان اپنی اپنی گیم پارلیمنٹ کے ذریعہ چینج کرنے کے بجائے عدالتوں کے ذریعہ چینج کرنے میں مصروف رہیں گے تو عدالتوں کو یہ فیصلے دینے پڑیں گے۔

افسوس صد افسوس کہ کچھ سیاستدان عدالتوں میں کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ یہاں سے ان کے مخالف سیاستدان کا تابوت نکلے گا۔ وہ جو دوسروں کا تابوت نکالنے کے دعوے کرتے تھے آج کل اپنا تابوت نکلنے کاانتظار کر رہے ہیں اور اس انتظار نے ان کی زبانوں کو اچانک خاموش کر دیا ہے۔ عجیب سیاست ہے۔ سیاسی معاملات کو سیاستدان خود ہی عدالت میں لے جاتے ہیں ۔ باسٹھ ون ایف کے تحت سیاسی مخالف کو گرا کر فتح کے شادیانے بجاتے ہیں اور جب یہی باسٹھ ون ایف اپنے سر پر لٹکتی نظر آتی ہے تو خوف سے زبان بند ہو جاتی ہے ۔

دیکھتے جائیے ۔یہ باسٹھ ون ایف ایسی ایسی گردنوں پر گرے گی کہ نواز شریف کا بیانیہ آپکو خون میں لت پت شاہراہ دستور کے فٹ پاتھ پر گرا ہوا نظر آئے گا۔آج جب اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ آپ نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا تو طعنہ دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ٹھیک ہے 1999ء کے بعد کچھ ججوں نے واقعی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا لیکن جن صاحب کے جاری کردہ پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر کے سعودی عرب کون چلا گیا تھا؟پاکستان کی عدلیہ کے کردار میں 2007کی وکلاءتحریک کے بعد ایک تبدیلی آئی تھی اور یہ وکلاءتحریک صرف ایک فرد کے لئے نہیں چلی تھی۔ سپریم کورٹ کے 17میں سے 13ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ انکار کرنے والوں میں افتخار محمد چوہدری کے علاوہ رانا بھگوان داس، جاوید اقبال، سردار محمد رضا، تصدق حسین جیلانی اور ناصر الملک بھی شامل تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کے ثابت قدم ججوں میں ثاقب نثار ، آصف سعید کھوسہ ، شیخ عظمت سعید، عمر عطاءبندیال، اور اقبال حمید الرحمان شامل تھے۔ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان، جسٹس اعجاز افضل اور طارق پرویز نے بھی پی سی او کا حلف نہیں اٹھایا۔ سندھ ہائیکورٹ کے صبیح الدین، خلجی عارف حسین، گلزار احمد، مقبول باقر، فیصل عرب، سجاد علی شاہ سمیت 16ججوں نے پی سی او کا حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ بلوچستان کے تمام ججوں نے پی سی او کا حلف اٹھایا تھا اسی لئے قاضی فائز عیسیٰ کو براہ راست چیف جسٹس بنانا پڑا تھا۔

یہ وہ جج ہیں جنہوں نے پرویز مشرف کے پی سی او کا حلف اٹھانے سے انکار کیا آج ان ججوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پرویز مشرف کا احتساب نہیں کرتے جبکہ مشرف کو پاکستان واپس لانا مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشرف کے خلاف مقدمات ہماری عدلیہ کے لئے بڑا چیلنج ہیں۔ عدلیہ کو ہمارے سیاستدان اپنی گیم میں گھسیٹتے ہیں اور عدالتی فیصلوں کو اپنی سیاسی فتح قرار دیتے ہیں ۔ یہ عدالتی فیصلے جاری رہے تو صرف نواز شریف کا بیانیہ غلط ثابت نہیں ہوگا بلکہ عمران خان اور آصف زرداری کو بھی اپنی گیم ختم ہوتی نظر آئے گی۔

یہ بھی دیکھیں

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *