Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > پاکستان کو لیڈر چاہیے یا مینیجر؟ – محمد عامر خاکوانی

پاکستان کو لیڈر چاہیے یا مینیجر؟ – محمد عامر خاکوانی

عمران خان کی تقریر پر تبصرے و تجزیے ابھی چل رہے ہیں۔ سیاسی مخالفوں نے اپنے انداز میں گرہ لگائی، میاں نواز شریف نے تو لاہوری سٹائل کی ہلکی پھلکی جگت لگائی البتہ رانا ثنااللہ اور عابد شیرعلی نے ناشائستگی اور بدتہذیبی کی انتہا کر دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب، میاں شہباز شریف نے اپنے صوبائی وزیر کی بدزبانی کی معذرت کی ، مگر سچی بات ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ میاں نوازشریف کی ایک خوبی خاص طور سے بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے سیاست میں ارتقائی سفر طے کیا اور اگرچہ نوّے کے عشرے میں وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ذاتی نوعیت کے سخت جملے کہہ ڈالتے ، مگر اب کئی برسوں سے وہ ایسا نہیں کرتے اور شائستگی سے مخالفوں کا نام لیتے ہیں۔ یہ بات بظاہر درست ہے اورمیاں صاحب کے سیاسی معاصرین کواپنے اندر یہ صفت لانی چاہیے ۔ یہ مگر اپنی جگہ حقیقت ہے کہ میاں صاحب نے اپنی جماعت کے بعض اہم اور نمایاں لیڈروں کو بدزبانی سے قطعی نہیں روکا۔ رانا ثنااللہ اور عابد شیرعلی تو خیر اس میں ید طولیٰ رکھتے ہیں، خواجہ سعد رفیق بھی” ٹاسک“ ملنے پر مایوس نہیں کرتے ۔ مریم بی بی کے میڈیا سیل کے حوالے سے اپوزیشن کے خلاف تند وتیز حملے کرنے میں طلال چودھری، دانیال عزیزنمایاں ہوئے ہیں ، شیخوپورہ کے جاوید لطیف نے بھی اس ”صف ِبدنامی“ میں شمولیت کی اپنی سی کوشش کی۔

صاف بات ہے کہ اگر میاں نواز شریف صاحب پابندی لگائیں اور خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیں تو ان کی پارٹی کے کس رہنما کی جرات ہے کہ وہ اپنے طور پر ایسا ”ایڈونچر“ کرے؟ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ جب ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں مفاہمت سیاسی ضرورت بنے ، تب خبریں شائع ہوتی ہیں کہ رانا ثنااللہ کو باقاعدہ طور پر زرداری صاحب کے خلاف بیان دینے سے روک دیا گیا ہے۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ن لیگ کی قیادت خود ”اچھا بچہ “بننا چاہتی ہے اوراپنے مخالفوں کی بھد اڑانے یا ان کی تذلیل کے لیے الگ سے لوگ مقرر ہیں۔ ضرورت پڑے تو ان کی زبان بندی کراد ی، ورنہ انہیں کھل کر حملے کرنے کا اشارہ کر دیا۔ عمران خان کو البتہ یہ کام خود کرنا پڑتا رہا، اس لیے وہ زیادہ بدنام ہوئے۔ اگرچہ اب کپتان نے بھی سیاسی طور طریقے سیکھ لیے اور بدزبانی کے مقابلے کے لیے” شہسوار“ بھرتی کیے جا چکے۔

ہماری سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے اپنے افسوسناک طرز عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔ جمہوریت ایک پیکیج ڈیل ہے، اس میں دیگر چیزوں کے ساتھ سیاسی اخلاقیات اور مثبت جمہوری کلچر کی بڑی اہمیت ہے ۔ ماضی میں ہماری مذہبی جماعتیں اس حوالے سے بہت محتاط تھیں ۔ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد ہوں، سید منور حسن یا پھر سراج الحق، ان میں سے کسی پر یہ الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اسلامی کا عمومی کلچر بہت بہتر ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان میں نورانی میاں کی شیریں زبانی مشہور تھی، ان کے صاحبزادگان کو زیادہ سننے کا اتفاق نہیں ہوا، امید ہے وہ بھی بہتر ہوں گے۔ نئے دور کی مذہبی سیاست کے مولوی خادم رضوی البتہ بدنام ہوئے ہیں، ان کی گالیوں نے توسوشل میڈیا پر ضرب المثل کی سی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ کاش مفتی منیب الرحمٰن کی علمی شائستگی اور تہذیب کا عکس تحریک لبیک کے رہنماؤں پر بھی پڑے ۔
اگلے روز صحافتی حلقوں سے دو دلچسپ نکات سامنے آئے ہیں۔ ایک صحافی دوست نے لکھا کہ پاکستان کو ایک لیڈر کی ضرورت ہے نہ کہ کسی مینیجر(ناظم)کی۔ یہ بات عمران خان کی مینار پاکستان کی تقریر کے پس منظر میں کی گئی ۔ اس تحریر میں کئی اور بھی دلچسپ مباحث بھی چھیڑے ہیں، ان پر بات کرتے ہیں، مگر پہلے دوسرے نکتہ طرازمعروف لکھاری کی بات کر لیں۔ انہوں نے دلچسپ سوال اٹھایا ہے کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں جن گیارہ نکات کی بات کی، ان میں سے نو تو صوبائی حکومت کے دائرے میں آتے ہیں۔ اعتراض ان کا یہ تھا کہ عمران خان الیکشن جیت گئے تو کیاوفاقی حکومت میں بیٹھ کر صوبوں میں مداخلت کریں گے؟جواز تلاش کرنے کے لیے کیا وہ اٹھارویں ترمیم ختم کر دیں گے ، مگر کیسے؟ اس سوال کے بعد خود ہی جواب دیا گیا کہ قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ملنا بہت مشکل ہے، اگر مل گئی تو سینیٹ میں تو اکثریت نہیں، وہاں کیا کریں گے؟ فرض کریں کہ وہاں بھی دو تہائی اکثریت ہوگئی تو کیا قوم پرست جماعتیں اٹھارویں ترمیم ختم ہونے دیں گی ، وغیرہ وغیرہ۔ تان یہاں پر توڑی گئی کہ چونکہ یہ سب ممکن نہیں، اس لیے براہ کرم عمران خان عوام کو بے وقوف بنانا چھوڑ دیں۔ یہ پڑھ کر مجھے حیرت ہورہی تھی کہ اتنی سادہ اور آسان بات ہمارے سینئر ساتھی کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ عمران خان نے کب اپنی تقریر میں ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ مجھے قومی اسمبلی کے لیے ووٹ دو اور صوبائی اسمبلی کے لیے ووٹ نہ دو؟جو انہیں قومی اسمبلی کے لیے ووٹ دے گا، وہ صوبائی کا بھی دے ڈالے گا۔ ظاہر ہے کہ عمران خان اگر سو ا سو، ڈیڑھ سو نشستیں لے کر وزیراعظم بنا تو صوبائی اسمبلیوں میں بھی اسے نشستیں ملیں گی اور کم از کم دو صوبوں پنجاب، خیبر پختون خوا میں تو اس کی صوبائی حکومت بن جائے گی۔ ایسی صورت میں اسے مداخلت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے گی؟

اب پہلے سوال کو لیتے ہیں کہ پاکستان کو لیڈر چاہیے یا مینیجر؟ ہمارے نزدیک تو یہ سوال ہی درست نہیں، کیا یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی متضاد ہیں؟ مہاتیر محمد اچھا لیڈر تھا تو کیا وہ اچھا مینیجر نہیں تھا؟کیا اچھا لیڈر مینیجر نہیں ہوسکتایا کسی اچھے مینیجر میں لیڈر کی خصوصیات نہیں ہوسکتیں؟ اصل میں پاکستان کو ایک اہل اور دیانت دار شخص چاہیے ۔ ایسا جوچیزیں ٹھیک کرنے کی سچی کمٹمنٹ رکھتا ہو۔ عشروں سے سیاسی اثرورسوخ کا شکار، نااہل، کرپشن میں گردن گردن پھنسی پولیس فورس میں اصلاحات لانا آسان ہے کیا؟اگر کوئی فیصلہ کر لے اور اس پر عمل درآمد شروع کر دے تو بہتری کا اسی لمحے سے آغاز ہوجاتا ہے۔ چیزیں ٹھیک ہونے لگ جاتی ہیں۔ اہم ترین معاملہ تقرریوں کا ہے۔ جس نے محکمے بہتر بنانے ہیں، وہ میرٹ پر اہل ، دیانت دار افسروں کی تعیناتی کرے گا اور پھر انہیں معاملات ٹھیک کرنے کا مکمل مینڈیٹ دے گا۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ کسی محکمے کا اچھا سربراہ آگیا تو چند ماہ میں بہت کچھ سنور گیا۔ سٹرکچرل اصلاحات ہوں تو یہ بہتری دیرپا ہوجاتی ہے۔
ویسے تو یہ بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ تعلیم کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کرنے کی خواہش یا ٹیکس نیٹ وسیع کر کے معمول سے دو گنے محصولات وصول کرنے کا عزم رکھناکیاکسی لیڈر کا کام نہیں؟دفاع کے شعبے میں اس بار ہم نے گیارہ سو ارب مختص کیے، مگر کوئی غیر جانبدار تجزیہ کار یہ بات کیسے نظرانداز کر سکتا ہے کہ اسی بجٹ میں ہم نے سولہ سو ارب روپے قرضوں کی ادائیگی کے لیے رکھے ہیں، جو صریحاً ظلم ہے۔ یہ قرضے ہماری نالائقی اور بیڈ گورننس سے بڑھے ہیں، ورنہ چند سال پہلے ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے بھی نکل چکے تھے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا۔ عمران خان نے اپنی تقریر میںکہا ہے کہ 2008 ءسے پہلے ملک پر چھ ہزار ارب کا قرضہ تھا، زرداری حکومت کے پانچ برسوں میں یہ قرض تیرہ ہزار ارب ہوگیا اور اب مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس قرض کو تیرہ سے ستائیس ہزار ارب تک پہنچا دیا ہے۔ یہ بات اگر درست ہے تو اس سے زیادہ سنگین اور خطرناک اور کیا ہوسکتا ہے؟ قرضوں کے بوجھ میں یہ خوفناک اضافہ صرف بری کارکردگی کی وجہ سے ہوا۔ ایک اچھا مینیجر ملکی صورتحال میں بہتری لا کر نئے قرضوں سے ملک کو بچا سکتا ہے ، ایک نام نہاد لیڈر مگر بیڈ مینیجر ان قرضوں کو ستائیس ہزار ارب سے بڑھا کر چالیس ہزار تک لے جائے گا، تب اندازہ لگا لیں کہ بجٹ کا کتنا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوگا؟ اس خطے کے حالات دیکھتے ہوئے دفاع کے بجٹ میں کمی کرنا تو ممکن نہیں، مگر ہم ٹیکس نیٹ کو بڑھا کر ریونیو بڑھا سکتے ہیں جبکہ متوازی معیشت ختم کر کے ہی قومی معیشت کو مضبوط اور مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ یہ سادہ بات بھی ہمارے دانشوروں کو سمجھنی چاہیے کہ یک طرفہ طور پر ہم بڑے ریاستی فیصلے نہیں کر سکتے ۔ سکیورٹی خطرات کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ پراکسی وارز پر تلے پڑوسی ممالک کو ہم یک طرفہ طور پر دوست کس طرح بنا سکتے ہیں؟ خاص طور پر جب کوئی سپر پاور ان کے اس رویے کے پیچھے موجود ہو۔ ہر خطے کی اپنی حرکیات ہیں، چاہتے بھی بہت کچھ نہیں کیا جاسکتا اور نہ چاہتے ہوئے بھی خاصاکچھ کرنا پڑجاتا ہے۔ کوئی ملک اپنے طور پر سب کچھ کیسے بدل سکتا ہے؟

اچھی حکمرانی کے لیے مطالعہ اور تجربہ سے بھی زیادہ ایک اور شے کی ضرورت پڑتی ہے، وہ ہے دیانت داری اورسچا عزم ۔ ایک امریکی صحافی نے لکھا تھا کہ دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک چالاک، ہوشیار، ذہین، تجربہ کار پروفیشنل مل جاتے ہیں ، حکمران انہیں ہائر کر سکتے ہیں، ہاں ایوان اقتدارمیں دیانت، عزم نہیں ملتے، یہ حکمران اپنے ساتھ لاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

میرا جسم، میری مرضی – خدیجہ افضل مبشرہ

سن 2011 میں فرانس سے شروع ہونے والی تنگ نظری کی وباء نے کل اسکینڈینیویا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *