Monday , August 20 2018
ہوم > پاکستان > ’’ سپر پاور ہوبن گئے ہو تو ہم کیا کریں ۔۔۔۔۔۔؟‘‘ امریکہ کو آنکھیں دکھانا مہنگا پڑ گیا، پاکستان نے پہلی بار بڑی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا

’’ سپر پاور ہوبن گئے ہو تو ہم کیا کریں ۔۔۔۔۔۔؟‘‘ امریکہ کو آنکھیں دکھانا مہنگا پڑ گیا، پاکستان نے پہلی بار بڑی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا

’’ سپر پاور ہوبن گئے ہو تو ہم کیا کریں ۔۔۔۔۔۔؟‘‘ امریکہ کو آنکھیں دکھانا مہنگا پڑ گیا، پاکستان نے پہلی بار بڑی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔۔اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں پر نقل وحرکت کو محدود
کرنے کے فیصلہ کے بعد پاکستان میں بھی امریکی سفارتکاروں کی نقل وحرکت کو محدود کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی کی جانب سے خالد خراسانی سمیت کالعدم تظیم جماعت الاحرار کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی پاکستان کی تجویز مسترد کرنا بین الاقوامی برادری کی طرف سے دوہر ا معیار ہے ۔گزشتہ روز دفترخارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار پر پابندی عائد کی گئی لیکن تنظیم کے سربراہ پر بھی عالمی پابندی لگائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے خالد خراسانی کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز مسترد ہونے پر پاکستان کو مایوسی ہوئی ہے، پاکستان کی مخالفت میں ایک ملک نے مخالفت کی، تاہم کمیٹی نے اپنے فیصلے سے پاکستان کو ابھی تک آگاہ نہیں کیا۔عمر خالد خراسانی کے ہاتھ بہت سے پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کی پابندی لگانے والی کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف ہماری قربانیوں کو پیش نظر نہیں رکھا اور دہرے معیار کا مظاہرہ کیا۔ عمر خالد خراسانی کا معاملہ دوبارہ اٹھایا جائے گا تاہم اس حوالے سے فی الحال تفصیلات نہیں بتائی جاسکتیں۔ بھارت میں قائد اعظم کی تصویر
کے معاملے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ علی گڑھ یونیورسٹی کے میوزیم سے قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے سے بھارت میں بڑھتا ہوا عدم برداشت کا رویہ عالمی برادری کے سامنے آگیا ، انہوں نے بتایا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ سرسید احمد خان کی تصویر بھی ہٹا کر ان کی جگہ نریندر مودی کی تصویر لگادی گئی ہے۔محمد علی جناح اس یونیورسٹی کے تاحیات رکن تھے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی تصویر پاکستان کے میوزیم میں آویزاں ہے۔بنگلہ دیش میں ہونے والی حالیہ او، آئی، سی کے اجلاس کے بارے میں انہوںنے کہا کہ بھارت او آئی سی کی رکنیت حاصل نہیں کرسکتا، اس سے پہلے او آئی سی کی جانب سے کئی قراردادیں بھارت کے خلاف منظور کی جاچکی ہیں تو ایسے ملک کو اس تنظیم میں کس طرح شامل کیا جاسکتا ہے۔بنگلادیش میں 6 مئی کو او آئی سے وزرائے خارجہ کانفرنس میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اور جدہ میں حالیہ اجلاس کے دوران بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو دبایا نہیںجاسکتا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے،
مقبوضہ کشمیر میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس بند ہیں اور اس کے باوجود بھارت جھوٹے پروپیگنڈے سے دنیا کو گمراہ نہیں کرسکتا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق مہاجرین کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوتی اور پاکستان میں جو افغان مہاجرین ہیں وہ بھی اسی قانون کے تابع ہیں۔ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں کی نقل وحرکت کو محدود کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی سفارتکاروں کی نقل وحرکت کو محدود کرنے کے عمل پر پاکستان میں بھی امریکی سفارت کاروں کی نقل وحرکت کو محدود کیا جائیگا۔ تاہم امریکہ کے ساتھ اس معاملے میں بات چیت جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کی بحالی کیلئے مذاکرات ہورہے تاہم انکی تفصیلات نہیں بتائی جاسکتی۔

یہ بھی دیکھیں

نون نے پھربڑا اعلان کردیا

صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے ایک بار پھر 25 جولائی کو ہونے والے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *