Monday , October 22 2018
ہوم > صحت > پاکستان میں جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ سے مال بنانے والوں کی شامت آ گئی ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا حکم جاری کر دیا

پاکستان میں جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ سے مال بنانے والوں کی شامت آ گئی ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا حکم جاری کر دیا

کراچی (ویب ڈیسک)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مختلف کمپنیوں کے دودھ کی جانچ جاری رکھنے کے ساتھ میلاک دودھ اوراسکم ملک کی دوبارہ جانچ کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھول جائیں کہ کسی کی سفارش مانوں گا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی

سربراہی میں ڈبوں کے غیر معیاری دودھ کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے مختلف کمپنیوں کے دودھ کی جانچ جاری رکھنے کا حکم دیا جبکہ میلاک دودھ اور اسکم ملک کی دوبارہ جانچ کرانے کا بھی حکم دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ رپورٹ مثبت آنے پر ان کمپنیوں کے دودھ پر پابندی ختم کردی جائے، ہمارے بچوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے، کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔عدالت نے اسِکم ملک کی ڈبوں پر“دودھ نہیں ہے”درج کرنے کا بھی حکم دیا۔چیف جسٹس نے اسکم ملک کے سربراہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے سفارش بھی کرائی تھی نا؟ میرے لئے صرف اللہ کی سفارش ہے، یہ بھول جائیں کہ کسی کی سفارش مانوں گا۔یاد رہے رواں سال کے آغاز میں چیف جسٹس نے مضر صحت دودھ کی فروخت اور ٹی وائٹنر کو بطور دودھ فروخت کرنے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ملک بھر میں دودھ بڑھانے کے لیے جانوروں کو لگائے جانے والے ٹیکوں کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ ٹی وائٹنر کو دودھ بتا کر فروخت نہیں کیا جائے گا۔ واضح الفاظ میں ڈبوں پر ’یہ دودھ نہیں ہے‘ تحریر کیا جائے۔

عدالت نے 13 جنوری کو کراچی میں دستیاب دودھ کے ڈبے لیبارٹریز سے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تھا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈبوں میں فروخت ہونے والادودھ،دودھ نہیں فراڈ ہے۔جس کے بعد 27 جنوری کو چیف جسٹس نے 4 نجی کمپنیوں کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے 2 نجی کمپنیوں پر جرمانہ بھی عائد کر دیا تھا۔یاد رہے چیف جسٹس نے 4 نجی کمپنیوں کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔ چیف جسٹس نے 2 نجی کمپنیوں پر جرمانہ بھی عائد کر دیا۔تفصیلات کے مطابق کمپنیوں کے دودھ کے معیار سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہوئی۔ چیف جسٹس نے 4 کمپنیوں کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔عدالت کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں کے دودھ کی سیل، مارکیٹ اور فروخت بند کی جائے۔ دودھ کے ڈبوں پر لکھا جائے کہ یہ ٹی وائٹنر ہے دودھ نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ میں متعدد کمپنیوں کا دودھ ناقص پایا گیا ہے۔دوسری جانب نجی کمپنیوں کے وکلا نے دودھ سے متعلق رپورٹ پر اعتراض کیا ہے۔ وکلا نے استدعا کی کہ لیبارٹریز سے دوبارہ ٹیسٹ کروائے جائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ ناقص دودھ بیچ رہے ہیں، کل لاہور جا کر وہاں بھی یہ معاملہ دیکھیں گے۔ بتایا جائے کہ بھینسوں کو لگائے جانے والے کتنے ٹیکے پکڑے۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب میں پولیو کب تک ختم ہوجائے گا؟ حکومت نے ایسا دعویٰ کردیا کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے، عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے بھی انگلیاں دانتوں میں دبا لیں۔

لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ صوبے سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *