ہوم > کالم > یہ جعلی نام- عبدالقادر حسن

یہ جعلی نام- عبدالقادر حسن

دنیانے بڑے بڑے نامی گرامی لوگ پیدا کیے جنہوں نے اس دنیا میں نام پیدا کیا اور ان کے جانے کے بعد بھی لوگ ان کی انسانی خدمات کو یاد کرتے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ کوئی انسان ناگزیر نہیں ہوتا اور یہ بھی درست ہے کہ بڑے بڑے ناگزیر لوگوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں ۔ دنیا کی حقیقت کے بارے میں انسان جانتے بوجھتے بھی اس حقیقت سے نظریں چراتا ہے کہ یہ فانی دنیا ہے اور اس میں ہمارا قیام عارضی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ہم اس عارضی دنیا میں اپنے آپ کو اس طرح سے پیش کرتے ہیں جیسے ہم نے ہمیشہ اسی دنیا میںیہیں رہنا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب نے چلے جانا ہے اور صرف اللہ کا نام باقی رہے گا۔

اس لیے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا سے جانے والوں کو دنیا میں رہ جانے والے کس طرح اور کن الفاظ سے یاد کرتے ہیں یا دوسری صورت میں انھیںبالکل ہی بھول جاتے ہیں اور اکثر یہی ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا انسان بھی جب دنیاسے چلا جاتا ہے تو لوگ رفتہ رفتہ اس کو بھول جاتے ہیں اگر اس نے کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہوتا ہے تو لوگ بس اس حوالے سے اس کو یاد کر لیتے ہیں ۔ دنیا کی یہ ریت چلی آرہی ہے کہ وہ اپنے بڑے لوگوں کے نام پر کسی شہر کی کوئی سڑک، آبادی یا عمارت وغیرہ کو منسوب کر دیتے ہیں تا کہ وہ آنے والے لوگوں کو یاد رہیں لیکن ایک وقت وہ بھی آجاتا ہے جب کسی نام سے منسوب عمارت یا سڑک وغیرہ کو پکارا جاتا ہے لیکن اس کا ماضی کسی کے علم میں نہیں ہوتا کہ اسے کیوں یہ نام دیا گیا ہے اور نئی نسل تو اس قسم کی معلومات سے بالکل ہی ناآشنا ہوتی ہے ۔

میں جس علاقے کا رہنے والاہوں اس کی اپنی کچھ زندہ روایات ہیں جن کو میرے علاقے کے لوگ یاد رکھتے ہیں۔ بارانی علاقے کے رہنے والے ہی پانی کی اہمیت کا صحیح ادراک رکھتے ہیں، پانی سے ہی ان کی زندگی چلتی ہے اور بارانی علاقے میں پانی کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ قدم قدم پر ضروری اور نایاب حیثیت رکھتا ہے، پانی کے حصول کے لیے دوردراز کا مشکل سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔ دیہات کی خواتین کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ گھر کے استعمال کے لیے پانی جمع کریں اور اس کا بندو بست کریں۔

پہلے وقتوںمیں کنویں تھے جن سے پانی گھڑوں میں بھرکر لایا جاتا تھا اور خواتین پانی کے لیے سر پر دو گھڑے اور بغل میں ایک گھڑا اٹھا کر کنویں سے گھر تک کا صبر آزما سفر کرتیں اور یہ مشقت دن میں کم از کم دوبار صبح اور شام کاایک معمول تھی جس میں پانی کے گھڑوں سمیت کئی پھیرے شامل تھے ۔ ایک اور بات بھی یاد آگئی کہ ہمارے علاقے کی یہ روایت بھی اب تک چلی آرہی ہے کہ نئی دلہن گھر کے کام کاج کا آغاز سب سے پہلے پانی بھر کرکیا کرتی ہے یعنی اس کو یہ باور کرا دیا جاتا ہے کہ تمہاری پہلی ذمے داری پانی بھر کر لانا ہے اور انسانی زندگی کے لیے یہ سامان جمع رکھنا ہے۔

کالم شروع کیا تھا کہ اس دنیا سے کئی نامی گرامی لوگ چلے گئے مگر ان کے کاموں کی وجہ سے ان کا نام رہ گیا، اس کی مثال میں یہ بھی دوں گا کہ میرے گاؤں اور وادی کے دوسرے کئی دیہات میں ایک مخیرہندو شام داس نے پاکستان بننے سے پہلے پانی کی کمی اور وادی کے باسیوں کی مشکلات کے پیش نظر مختلف علاقوں میں رفاعہ عامہ کے لیے کنویں کھدوائے جو آج بھی موجود ہیں اور لوگ ابھی تک ان کے میٹھے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں لیکن کسی نے کبھی یہ جرات نہیں کی کہ ان کنوؤں کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرے یا ان کو اپنے آپ سے منسوب کر دے۔ یہ کنویں آج بھی شام داس والے کنویں کہلاتے ہیں اور خلق خدا ان سے فیض یاب ہو رہی ہے۔

بات کرنا چاہ رہا ہوں کہ نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ کسی اور کے نام کی جگہ اپنے نام کی تختی لگانا معیوب اور بھونڈی حرکت ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ آپ کوئی ایسا نیا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچائیں جس پر فخریہ طور پر آپ اپنے نام کی تختی لگا سکیں نا کہ دوسروں کی تختیاں اتار کر ان کی جگہ اپنی تختیاں لگائی جائیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ لاہور میں مشہور گنگا رام اسپتال کا نام بدلنے کی ایک تحریک چلی ، مال روڈ پر گنگا رام اسپتال کا نام بدلنے کے حق میں مظاہر ہ ہوا، مظاہرین مشتعل ہو گئے جن پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور لاٹھی چارج کے زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے گنگا رام اسپتال ہی منتقل کیا گیا۔

یہ تحریک ان زخمیوں کے علاج کے ساتھ ہی دم توڑگئی لیکن گنگا رام اسپتال سے آج بھی لاہور کے باسی شفا پا رہے ہیں ۔ اسی طرح کی کئی اور مثالیں ہمارے ارد گرد بکھری پڑی ہیں۔ لاہور میں مختلف سڑکوں کو مسلمانوں کی تاریخ کی نامور ہستیوں سے منسوب کر دیا گیا لیکن یہ سڑکیں آج بھی اپنے معماروں انگریزوں کے دیے گئے ناموں سے ہی پکاری جاتی ہیں البتہ سرکاری کاغذوں میں ان کے نام مختلف ہیں لیکن عوام نے ان ناموں کو قبول نہیں کیا ۔لاہور کی سب سے معروف شاہراہ مال روڈ کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سے شاہراہ قائد اعظم کا نام دیا گیا ہے لیکن اس سڑک کو بھی لاہوریئے آج تک مال روڈ کے نام سے ہی پکارتے ہیں ۔

قائد اعظم کے پاکستان میں بجائے اس کے کہ نئے منصوبے شروع کیے جاتے جن کو اپنی مرضی سے جس نام سے بھی ہم چاہتے منسوب کر دیتے لیکن ہم نے تو پرانے منصوبوں کو جھاڑ پونچھ کر اور ان کی نئی شکل بنا کر اس پر اپنے نام کی تختی لگانے کا وطیرہ بنا لیا ہے ۔ ابھی حال ہی میں اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ کا افتتاح کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم بتا رہے تھے کہ اس منصوبے کو پرویز مشرف کی حکومت نے شروع کیا، زرداری کی حکومت نے آگے بڑھایا، پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے اس کو مکمل کیا ۔

اب اس بات پر بیانات شایع ہو رہے ہیں کہ اس نئے ہوائی اڈے کا نام کیا ہونا چاہیے چونکہ پرانے ہوائی اڈے کانام بینظیر بھٹو ایئر پورٹ تھا، اس لیے پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ وہی نام رہنا چاہیے لیکن حکومت اس کے لیے آمادہ نظر نہیں آتی اور اپنی مرضی سے اس ایئر پورٹ کو کوئی نیا نام دینا چاہتی ہے ۔ نام جو بھی ہو بات وہیں پہ آ کے ٹکتی ہے کہ نئے منصوبے بنائیں اور اپنی مرضی سے ان کو منسوب کریں جیسا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کا منصوبہ ہے ۔ آپ کے کام بولنے چاہئیں جب کام بولیں گے تو نام خود بخودبولے گا اور گونجے گا۔ عوام کی آواز بنے گا ۔ عوام کی اسی آواز کونقارہ خداکہا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نواز شریف ہندوؤں کے بھگوان ہو گئے – مستنصر حسین تارڑ

میں اپنے گزشتہ کالم ’’الحمرا کی کہانیاں اور اندلس میں اجنبی‘‘ کے تسلسل میں گارسیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *