Monday , October 22 2018
ہوم > صحت > ماہ رمضان اور متوازن غذا – عبداللہ سرفراز

ماہ رمضان اور متوازن غذا – عبداللہ سرفراز

تعریف اس خدا کی جس نے انسان کو ہدایت بخشی اور اشرف المخلوقات بنایا اور لاکھوں درود و سلام اس ذات پر جس نے لوگوں کے دلوں کو دین اسلام کی روشنی سے منور کیا۔رمضان الکریم کا بابرکت مہینہ ڈھیروں رحمتوں، برکتوں اور بخششوں کا سامان لیے ہمارے پاس بلکہ بہت قریب آن پہنچا ہے۔آئیے اس بابرکت مہینے میں اللہ کی دی ہوئی اس نعمت سے اپنے جسم کو تندرست رکھتے ہوئے اپنی روح کی پاکیزگی کا سامان کریں۔

رمضان کے روزے انسانی صحت پر بہت سے مفید اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ یہ ماہ مسلمانوں کے لیے (Window of opportunity) ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو اب یہ اختیار اس انسان کے پاس ہے کہ وہ اس ماہ بابرکت سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے؟

رمضان کے روزے دل کے امراض کے لیے بہت کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک امریکی جرنل میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق 2007 میں البیت یونیورسٹی اردن میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ رمضان کے روزے باقاعدگی سے رکھنے والے افراد میں جسم کے Body weight، Pulse rate، بلڈ پریشر، Glucose level اور Lipid profile پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور یہ تمام اشار یے نارمل Range کی طرف جاتے دکھائی دیے۔

امریکن ایسوسی ایشن آف ریسرچ ان کینسر کے مطابق روزے رکھنے والے افراد کے اندر کینسر کی شرح نمو میں واضح کمی دیکھی گئی۔۔ کینسر جو کہ ایک مرتبہ جڑ پکڑ جائے تو ناقابل علاج مرض ہے۔ اس مہلک بیماری میں متاثر ہونے والے خلیے بتدریج خرابی کی طرف جاتے ہیں۔ لیکن روزہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کچھ Physiological تبدیلیوں (Warburg effect) کے با عث کینسر زدہ خلیے انسانی جسم پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو بہت کم کردیتے ہیں۔ اس تحقیق میں مجموعی طور پر کل پانچ اقسام کے کینسرز پر تحقیق کی گئی جس میں لبلبے، پھیپھڑے اور سینے کے سرطان شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسی تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ روزے رکھنے سے کینسر زدہ افراد میں کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کی Effectiveness میں اضافہ ہوا ہے۔

ان سب تحقیقات کی روشنی میں ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ رمضان کا مہینہ ہمارے لیے روحانی علاج کے ساتھ ساتھ جسمانی علاج کے لیے بھی مفید ہے اور یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہوگا کہ روزہ نہ صرف گناہوں کے آگے ڈھال ہے بلکہ یہ روزہ ہمیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں بھی ڈھال کی طرح معاون اور مدد گار ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں مسلمان اس Window of opportunity کو روحانی اور جسمانی دونوں لحاظ سے ضائع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسے روح کی غذا عبادت ہے اور اس عبادت کے بہت سے درجے ہیں جو انسان کو اللہ کے قریب کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جسم میں غذا اگر متوازن ہوتو انسان کو تندرست اور توانا رکھنے میں معاون اور مدد گار ہوتی ہے۔

اس کے برعکس ہمارے ہاں رمضان کو پیٹ بھر کے دنیا جہاں کے غیر متوازن غذاء کھانے، تیل میں تیرتی ہوئی بلکہ نہاتی ہوئی اشیاء کھانے میں اور پھر دن بھر آرام سے سو کر گزارنے میں صَرف کر دیا جاتا ہے۔

رمضان کے دوران بہترین اور متناسب غذاء کے چند اہم نکات:
۱۔گرمیوں کے روزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے جسم میں پانی کے تناسب کو برقرار رکھنا ہے۔ جس کے لیے سکنجبین (Lemon water) سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہوسکتی۔ اس کے استعمال سے نہ صرف جسم میں پانی کا تناسب برقرار رہتا ہے بلکہ روزے کی حالت میں نمکیات کے اخراج کی وجہ سے “نمکیات اور electrolyte” کےتناسب میں ہونے والی کمی کو بھی دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

۲۔چائے اور کافی کا استعمال کم سے کم کریں۔ کیونکہ ان میں موجود caffeine ایک Diuretic (پیشاب آور) ہے جس کے پینے کے نتیجے میں زیادہ پیشاب آئے گا اور آپ جلد ہی روزہ میں Dehydrated ہو سکتے ہیں۔

۳۔ایسی اشیاء جو کہ Deep-fry کی گئی ہوں یا جن میں تیل یا گھی کا تناسب زیادہ ہو بالکل استعمال نہ کریں۔ یہ آپ کے روزے کے تمام جسمانی مثبت اثرات کو منفی اثرات میں بدلنے کے لیے کافی ہیں۔ لہٰذا اگر آپ روزے سے کوئی بھی جسمانی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ایسی تلی ہوئی اشیاء کو اپنی غذاء سے نکال باہر کریں۔

۴۔دودھ اور دہی کا استعمال: یہ دونوں اشیاء آپ کی باڈی (جسم) کو Strength فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ رمضان میں ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا مناسب ہے۔

۵۔کھجور، بادام اور خشک میوہ جات کااستعمال: یہ تمام خشک میوہ جات آپ کی صحت کے لیے بہت مفید ہیں،جس کی وجہ ان میوہ جات میں پائی جانے والے اجزاء cholesterol لیول کو کم کرتے ہیں اور دل کی بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھجور Energy booster کے طور پر کام کرتی ہے۔

۶۔افطاری سے لے کر سحری تک 2-3 لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں۔اگر آپ کو سادہ پانی پینے میں کسی قسم کی دقّت پیش آتی ہے تو آپ آجکل کے موسمی پھل مثلاً تربوز کا سہارا لے سکتے یں۔ تربوز میں 92 فیصد تک پانی پایا جاتا ہے۔ اور یہ قیمتی Vitamins، antioxidant، amino acids اور Minerals سے مالا مال بھی ہے۔

۷۔رمضان میں کوشش کریں کہ ہر قسم کی Refined food مثلاً میدہ، Baking Powder وغیرہ سےمکمل پرہیز کریں اور اس کے متبادل کے طور پر خالص (wholesome) خوراک مثلاً گندم کا آٹا، مکئی یا جو کا آٹا استعمال کریں۔

۸۔اپنی خوراک میں Junk Food کی جگہ موسمی پھلوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنائیں۔ Junk food آپ کو بیماریوں کے قریب تر لے جاسکتے ہیں جبکہ موسمی پھل آپ کو صحت بخشنے کا کام سر انجام دے سکتے ہیں۔

ان چند اہم گزارشات کے ساتھ میں امید کرتا ہوں کہ رب تعالیٰ مجھے اور آپ کو رمضان کریم کی برکتوں اور رحمتوں سے مستفید ہونے کے ساتھ اپنے جسم (جو اللہ تعالیٰ کی ہی امانت ہے) کو تندرست اور چاق وچوبند بنانے کی اہم ذمہ داری کو اپنے انجام تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب میں پولیو کب تک ختم ہوجائے گا؟ حکومت نے ایسا دعویٰ کردیا کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے، عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے بھی انگلیاں دانتوں میں دبا لیں۔

لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ صوبے سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *