Sunday , September 23 2018
ہوم > کالم > رگ و بے میں فلسطین۔۔۔تحریر:محمدسعیدرفیق

رگ و بے میں فلسطین۔۔۔تحریر:محمدسعیدرفیق

جب سے سن شعورکوپہنچافلسطین رگوں میں لہو کی طرح گر دش کر رہا ہے،صابرہ اور شتیلہ کے کیمپوں کا نام سن سن کر جوان ہو ا، تحریک انتفا ضہ کے دنوں میں پتھر جیسے ”سنگین ہتھیار“ سے مسلح بچوں اور جوانوں کوجدید ترین اسلحہ کے سامنے سینہ سپر دیکھا، ایک عرصہ چشم تصور میں حماس کی پیش قدمی کے ساتھ گزرا توایسا لگا کہ دل کے تار کہیں وادی بقا و عمیق کے سبزے سے لپٹی چوٹیوںسے جڑ گئے ہیں یا پھر یہ دل بے پرواہ نابلوس،بیت لحم یا بیت المقدس میں کہیں گم ہوچکا ہے ،طاقت ور اسرائیلیوں کا بہیمانہ تشدد سہہ کر بھی کر نہتے فلسطینیوں کی بھر پور مزاحمت کے دوران شہادت کی مراد پانےوالے جوان لاشوں کوٹی وی سکرینوں پر دیکھ کر ہر بار ان کی خوش قسمتی پر جی بھرکر نازاںہوا کہ قبلہ اول کی حرمت پر جاں نچھاور کرنے والے یہ شہید یقیناًاللہ کے مہمان اور جنت کے باسی ہیں،، مگر گزشتہ چندہفتوں سے جو کچھ غزہ کی پٹی پر سرحد کے اس پار سے ہور ہا ہے اس نے ہم جیسے قلم کو کمان بنا کرکمیں گاہوں میں چھپ جانے والے بزدلوں کے اعصاب شل کردیئے ہیں، کئی بار سوچا کہ دنیا میں سب سے زیادہ لاچار اور اپنی ہی زمین پر بے گھر بنا دیئے جانے والے فلسطینیوں میں کتنا حوصلہ ہے کہ تاک کر نشانہ لگانے والے ماہر اسنائپرز کے سامنے اپنے معصوم بچوں اور گھر کی عورتوں کو بھی لے آئے،تو جواب میں ہمیشہ ہی بے اختیار منہ سے ایک مصرع اداہوا،” جب خون کے دریا میں ٹہرا ہو سفر کرنا تو موت سے کیا ڈرنا“۔ واقعی ایسا ہے دنیا اور اسرائیل نے ملکر فلسطینیوں کو سوائے لہو کے دریا میںچپو چلانے کے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ 14مئی کو امریکی سفارتخانے کے سنگ بنیاد کی تقریب پر 40ہزار فلسطینیوں کے احتجاج پر اسرائیلی فوجوں کی فائرنگ اور شیلنگ نے 60 جانیں لے لیں جبکہ بہیمانہ تشدد سے چوبیس سوسے زیادہ مظاہرین زخمی ہو ئے،مگراسرائیلی فوجی فلسطینیوں کے جذبہ آ زادی کو کچلنے میں ناکام ر ہے ۔ جب انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبر دار امریکہ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے القدس میں ایمبیسی کا افتتاح کیا عین اسی دوران غزہ کی گلیوں میں آزادی کے متوالوں نے لہو کی بازی کھیل اسرائیلیوں کو ہلکان کر رکھا تھا ،اسی لئے نتن یاہو کو تقریب کے ”پرامن “ انعقاد پر اپنی مسلح فوجوں کا شکریہ کرنا پڑا۔

واپسی مارچ کے عروج کے دنوں میں متواتر7جمعوں میں ہونے والے احتجاج میں 53 شہادتوں اور 5ہزار سے زائد زخمیوں کا تحفہ بے جگر فلسطینیوں کیلئے کوئی نئی بات نہیں۔چند سال قبل جب میںمقامی اخبار میں مانیٹرنگ ڈیسک پر تھا تو ماہ رمضان میں اسرائیلی وحشیانہ بمباری سے غزہ میں 2500سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں ایک بڑی تعدادکم سن اور شیر خوار بچوں کی تھی ،اس وقت بھی چشم حیراں سے اپنے بچوں کے لاشے اٹھا نے والوں کے عزم صمیم کو دیکھا ،گزشتہ سال وقفے وقفے سے وحشی اسرائیلی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ سے درجنوں غیر مسلح نوجوانوں کا بہادری کیساتھ کامرانی کی موت کو گلے لگالینااور اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے کے جرم میںسوسالہ احد تمیمی کوآٹھ ماہ قیدکی سزا سنا ئے جانے پر باعزم لڑکی کا حوصلہ و جرات کمال رہا ،اسی دوران معذور فلسطینی کی بہیمانہ فائرنگ کے سامنے سینہ سپر شہادت بھی ایک عظیم منظر کی طرح آنکھو میں بسی ہے ۔ یہ سب کچھ اور اس سے بھی بڑھ کر بہت کچھ گزشتہ 70(ستر)سالوں سے فلسطینی عزیمت سے سہہ رہے ہیں ۔ان کیلئے شہادت کا راستہ نیا نہیں ہے ۔ارض فلسطین میں تقریباً سوسال سے مسلمانوں کی نسل کشی جا ری ہے۔1948( انیس سو اڑتالیس )سے لیکر ابتک70 (ستر )سالوںمیں 52 (باون )لاکھ فلسطینیوں کو شہیداور تقریبا ً اتنے ہی گھروں سے بے دخل کئے گئے ہیں ۔ اعداد وشمار کے مطابق 1947( انیس سو سنتالیس میں فلسطین کی کل آباد ی1.9( ایک اعشاریہ نو )ملین تھی جن میں 58.5(اٹھاون اعشاریہ پانچ )فیصد مسلمان ، 33.2(تینتیس اعشاریہ دو )فیصد یہودی،7.8(سات اعشاریہ آٹھ ) فیصد عیسائی اور .( چوراسی )84فیصد دیگر مذاہب پر مشتمل تھے ،آج 2018( دو ہزاراٹھارہ ) میں یہ تناسب کم و بیش کچھ یوں ہے کہ ار ض مقدس کی دوسری بڑی اکثریت یہودی( پچھتر اعشاریہ آٹھ )75.8فیصد کے ساتھ آبادی کا سب سے بڑا حصہ قرار پا چکے ہیںجبکہ مسلمان سکڑ کر 16.5( سولہ اعشاریہ پانچ )عیسا ئی 1.7( ایک اعشاریہ سات) اور دیگر مذاہب کے لوگ غیر معمولی اضافے کے بعد5.6( پانچ اعشاریہ چھ )فیصد ہوچکے ہیں۔مکمل تبدیل شدہ تناسب آبادی کا وجہ کیا ہے ؟ تبدیل شدہ پالیسیوں کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کی نسل کشی کی پالیسیاں ہیں جن کے سبب پچاس لاکھ سے زا ئد فلسطینی ہلاک اور تقریباً اتنے ہی بے گھری کا شکار دنیا بھر کے ممالک کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔اسرائیلی بہیمانہ کا رروا ئیوں کا اندازہ 1948( انیس سو اڑتالیس )میں اسرائیل فلسطین جنگ میں لاکھوں شہا دتوں کے علاوہ 85 ( پچاسی فیصد )فیصد مسلم آبادی کوبےدخلی سے بھی کیا جاسکتا ہے۔مگر اس کے باجودآج آزادی وطن کا مطالبہ آج پہلے سے زیادہ شدید ہے۔ سوسال قبل معاہدہ باالفورسے یہودی ریاست کے ناجائز قیام کی کوششوں کو قانونی قرار دینے کا آغاز ہوا۔ارض مقدس کی قدیم آبادی کو بے دخل کرکے خودساختہ حقائق کی بنیادپردنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر آباد کیا گیاجوایک عظیم اکثریت کے ساتھ تاریخ کا سنگین مذاق تھا جس کے نتیجے میں فلسطینی بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ اپنی زمینوں اور مکانوں سے بھی محروم ہو گئے، نتیجة آج ایک بہت بڑی اکثریت دنیا کے مختلف ملکوں میںدربدر ی کی زندگی گزار رہی ہے جبکہ 52( باون لاکھ )لاکھ اسرائیلی وحشیانہ پن کی نظر ہوچکے ہیں۔زمینوں اور گھروں سے محروم کئے جانے والوں کی تیسری نسل آج میدان میں ہے اورجدوجہد کا سفر بھی جاری ہے۔ ارض مقدس پراسرائیل کے ناجا ئز قبضے اورمظالم کی حقیقت ایک دنیا پر آشکار ہو چکی ہے۔ لاکھوں جانوں کی بے دریغ قربانیوں نے اسرائیلیوں پرعالمی اور مقامی دبا و ¿ میں بے پناہ اضافہ کیا ہے ۔گزشتہ سال ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس سفارتخانہ منتقل کرنے کے ا علان کے بعد امریکا کو جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔یہی نہیںمسئلہ فلسطین پر ناموافق اور مبنی بر حق پالیسیاں اختیار نہ کرنے پرامریکی معاشرے میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا یاجارہا ہے ۔ گوکہ اسرائیلی شہ پر امریکی ہٹ دھرمی نہ صرف برقرار ہے بلکہ صیہونی ریاست کے ناجائز قیام کی 70 ویں سالگرہ پر14مئی کو مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کا سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جسے دنیا بھر سے سوائے چند ایک ممالک کے کو ئی پذیرا ئی حاصل نہیں ہو سکی۔ سازشیں ، تشدد ،استبدادی کارروا ئیاں ،غاصبانہ فکر وعمل کے باوجود فلسطینیوں کی پیش قدمی جار ی ہے جس کا اظہار اکثر وبیشتر یہود ی کاسہ لیس مغرب کے ذرائع ابلاغ اکثر وبیشتر کر ڈالتے ہیں گزشتہ دنوں برطانوی اخبار گارجین کے مطابق اسرائیلی سر حد پر نوریٹرن مارچ میں شریک شریک65( پینسٹھ سالہ ) سالہ خاتون فاطمہ نصیر نے کہا کہ وہ اور اپنے سات بیروزگاربچوں سمیت مارچ میں شریک ہیں۔خاتون کا کہنا تھاکہ وقار سے مرنا ذلت سے بھرپورپر آسا ئش زندگی سے لاکھ بہتر ہے۔ مظاہرے میں شریک 18( اٹھارہ )سالہ نوجوان محمد یونس نے جذ بات سے بھرپور اور کھنکتی آواز میں کہا کہ ہم دنیا کو بتا نا چاہتے ہیں کہ اہل غزہ وقار کے ساتھ جی سکتے ہیں۔ یونس نے کہا کہ کو ئی ہمارے بارے میں فکر مند نہ ہو اور نہ سوچے ہم یہاں روز آئیں گے جب تک دنیا کے مشکل ترین قضیہ کا حل نہیں نکل آتا۔ وادی بقا و عمیق کے سبزے سے لپٹی چوٹیوں سے جڑے میرے د ل کے تار بھی ایسی کچھ خبریں دے رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے بد نصیبی سے عبارت 14( چودہ ) مئی کو فلسطینی ایک نئی تاریخ رقم کر نے کے موڈ میں ہیں۔ عزیمت وشہادت کے مسافروں کا واپسی کا یہ مارچ رائیگا ں نہیں جا ئے گا۔فلسطینی انشااللہ با مراد ہوں گے،غاصبوں کو خبر ہو نے چاہئے کہ امریکی سفارتخانے کی رکھی جانے والی پہلی اینٹ آزادی فلسطین کا سنگ بنیاد بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *