Friday , December 14 2018
ہوم > پاکستان > جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سے متعلق مؤقف وہی ہے جو نواز شریف کا تھا، مریم نواز

جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سے متعلق مؤقف وہی ہے جو نواز شریف کا تھا، مریم نواز

اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان قلمبند کراتے ہوئے مریم نواز کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سے متعلق میرا بھی وہی مؤقف ہے جو نواز شریف کا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں جب کہ ریفرنس میں نامزد تینوں ملزمان کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

نواز شریف نے تین سماعتوں کے دوران عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات کے جواب دیے اور آج مریم نواز بھی تحریری شکل میں لکھا گیا بیان عدالت کو پڑھ کر سنا رہی ہیں۔

مریم نواز کے بعد ریفرنس میں نامزد تیسرے ملزم کیپٹن (ر) محمد صفدر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔

مریم نواز نے اپنے بیان کے آغاز پر پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اور اس کی رپورٹ پر تنقید کی اور کہا کہ جے آئی ٹی اور جے آئی ٹی رپورٹ اس کیس میں غیر متعلقہ ہیں جب کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی افسران کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لئے بنائی گئی تھی، اس ریفرنس کے لئے نہیں اور اس کے ارکان پر تحفظات سے متعلق میرا بھی وہی مؤقف ہے جو نواز شریف کا تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ سال 2000 میں جے آئی ٹی رکن عامر عزیز بطور ڈائریکٹر بینکنگ کام کر رہے تھے جنہیں پرویز مشرف حکومت نے ڈیپوٹیشن پر نیب میں تعینات کیا۔

مریم نواز نے کہا کہ 70 سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی جے آئی ٹی پر اثر پڑا، عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہے جنہیں جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا۔
نواز شریف کی صاحبزادی نے کہا کہ ‘میری اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے جس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤ میں اضافہ ہوا’۔

مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے، انہیں آؤٹ سورس کیا گیا کیونکہ ان کی تنخواہ بھی سرکاری ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔

مریم نواز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیے کہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جا سکے، ایسے اختیارات دینا غیر مناسب اور غیر متعلقہ تھا جب کہ جے آئی ٹی کی دس والیوم پر مشتمل خود ساختہ رپورٹ غیر متعلقہ تھی۔

بیان قلمبند کراتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی کی خود ساختہ حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں نمٹانے کے لئے تھی، ان درخواستوں کو بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا اور یہ تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے جمع کردہ شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا اور یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔

مریم نواز اور جج کے درمیان دلچسپ مکالمہ

بیان ریکارڈ کرانے کے دوران مریم نواز لکھے بیان میں کومہ اور فل اسٹاپ بھی پڑھنے لگیں جس پر جج محمد بشیر نے انہیں کہا کہ آپ کامہ نہ پڑھیں جس کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ میرے وکیل نے پڑھنے کو کہا تو میں نے پڑھ دیا۔

شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔

العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے ہیں جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا ہے۔

جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شہباز شریف کو اے پی سی کا چیئرمین بنانے کی پیشکش ۔۔۔۔ سابق وزیر اعلیٰ کا موقف بھی سامنے آ گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) شہباز شریف کا کہنا ہے حکومتی آفر کا خیرمقدم کرتے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *