Thursday , October 18 2018
ہوم > پاکستان > حکومت کی مدت ختم ہونے میں 6 روز باقی، نگراں وزیراعظم کا انتخاب نہ ہوسکا

حکومت کی مدت ختم ہونے میں 6 روز باقی، نگراں وزیراعظم کا انتخاب نہ ہوسکا

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے میں صرف 6 روز باقی رہ گئے ہیں لیکن نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے فیصلہ اب تک نہ ہوسکا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے درمیان اس حوالے سے 5 ملاقاتیں ہوئیں، لیکن کسی نام پر اتفاق نہ ہوسکا۔
خورشید شاہ نے اس معاملے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ مزید ملاقات کرنے سے انکار کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ناموں کے معاملے پر اپنی بات سے پھر گئے ہیں، اب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے تجویز کردہ نام ایسے نہیں تھے، جن پر اتفاق ہوسکتا۔

ساتھ ہی وزیراعظم نے جمعہ (25 مئی) یا پیر (28 مئی) کو اس معاملے پر اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کا عندیہ دیااس حوالے سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی مصدق ملک کا کہنا ہے کہ حکومت کی خواہش ہے کہ کوئی ایسا نام نگراں وزیراعطم کے لیے آئے جو غیر متنازع ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے پارلیمانی کمیٹی میں جانے سے پہلے ہی نگراں وزیراعظم کے لیے کسی اور نام پر اتفاق ہوجائے۔دوسری جانب پنجاب میں نگراں سیٹ اپ کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی محمود الرشید کے درمیان ملاقات آج شام 3 بجے ماڈل ٹاؤن میں ہوگی۔

بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ کے لیے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اور اپوزیشن لیڈر رحیم زیارتوال کے درمیان مشاورت ہوئی، جس کے دوران صوبائی حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے 8 ، 8 نام پیش کردیئے گئے، جن میں غوث بخش باروزئی، پرنس احمد علی، اسلم بھوتانی اور نوابزادہ سیف اللہ مگسی سمیت دیگر نام شامل ہیں۔

موجودہ حکومت کی آئینی مدت کا اختتام اور نگراں وزیراعظم کا انتخاب

موجودہ حکومت کی آئینی مدت 31 مئی 2018 کو ختم ہو جائے گی جس کے بعد نگراں حکومت آئندہ انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں سنھالے گی۔

مروجہ طریقہ کار کے مطابق نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی طرف سے نام سامنے آتے ہیں اور کسی ایک نام پر اتفاق ہونے پر اسے نگراں وزیراعظم نامزد کردیا جاتا ہے۔

پہلے مرحلے میں کسی نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں نگراں وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جاتا ہے اور اگر کمیٹی بھی کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن تجویز کردہ ناموں میں سے کسی ایک موزوں شخص کا انتخاب بطور نگراں وزیراعظم کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

’’ میں یہ عہدہ نہیں لینا چاہتا کیونکہ۔۔۔‘‘ عمران خان کے اپنے ہی قریبی دوست نے بڑا جھٹکا دیدیا ، ایسا اعلان کر دیا کہ سن کر کپتان کو بھی یقین نہیں آئے گا

اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست صاحبزادہ امیر جہانگیر نے خصوصی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *