Sunday , November 18 2018
ہوم > کالم > ہم سے دنیا والے کیوں نہ جلیں ؟ وسعت اللہ خان

ہم سے دنیا والے کیوں نہ جلیں ؟ وسعت اللہ خان

مجھے رونا آتا ہے ان لوگوں پر جن کا ناشکرا پن ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ہر وقت کا رونا دھونا۔یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے ، کیسا ملک ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس، اوپر والا نیچے والے کی تاک میں ہے اور نیچے والا اپنے سے نیچے والے کی۔یہ سماج ہے کہ کوئی بے ہنگم ہجوم ، لپاڈکی کی حکمرانی ہے ، ہمسایہ ہمسائے سے تنگ ، شک در شک۔یہی معلوم نہیں پڑتا کہ سامنے والا کوئی آدمی ہے یا پیاز ، ایک کے بعد ایک پرت اترتی ہی چلی جا رہی ہے ، آدمی کے اندر سے آدمی ہی غائب ہے۔ہم نے تو پاکستان بنایا تھا پھر یہ چیستان کیسے ہو گیا؟ کسی قوم کا کردار دیکھنا ہو تو مقدس تہواروں اور مہینوں میں دیکھ لو۔کم ذات کے ہوں گے تو ایک دوسرے کو اللہ کے نام پر لوٹ کھائیں گے۔اعلی ذات کے ہوں گے تو اللہ تعالی کی نعمتوں میں دوسروں کو بھی براہِ راست یا بلا واسطہ شریک کریں گے۔سڑک پر رمضان کی دوپہر میں کسی مریض کو پانی پیتا دیکھ کر کوٹ دیں گے اور پھر اسی شام کو یہی لوگ کسی عبادت گاہ کو بھی مسمار کرنے کا ثواب لوٹنے سے بھی نہیں چوکیں گے۔

میں کن لوگوں میں رہنا چاہتا تھا
یہ کن لوگوں میں رہنا پڑ رہا ہے

بے شک ہم ناشکرے ہیں۔ہم دن رات اپنی دھرتی کو اور سامنے والے کو کوستے رہتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ ہم سب نے مل کے اس خطے کو ایسا ملک بنا دیا ہے جس سے پوری دنیا حسد کرتی ہے۔اور کیوں نہ کرے۔ہم جیسا کوئی اور ہے بھی تو نہیں۔

چاہیں تو ٹیکس دیں چاہیں نہ دیں۔اپنے نورچشم کو کسی خیراتی اسکول میں داخل کروائیں کہ کانونٹ میں یا کہیں داخل نہ کرائیں۔بینک سے قرضہ لیں یا نہ لیں۔ واپس کریں کہ نہ کریں۔چاہیں تو بجلی کا بل میٹر کے حساب سے ادا کریں، نہ چاہیں تو گھر کے سامنے سے گذرتی سرکاری تار یا کھمبے میں کنڈہ لگا کے براہ راست بجلی کھینچ لیں۔چاہیں تو رشوت لیں نہ دل چاہے تو نہ لیں۔ مرضی ہے کہ زید کو ووٹ دیں یا بکر کو یا کسی کو نہ دیں۔

گوشت ، سبزی ، دال اور ضروریاتِ زندگی کی سب اشیا بھلے کسی دام خرید کر کسی بھی دام بیچیں یا نہ بیچیں۔ خالص بیچیں کہ ملاوٹ کرکے۔جعلی بیچیں کہ اصلی۔ کم تول کے بیچیں کہ پلڑے برابر رکھ کے۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔ دوا اوریجنل خریدیں کہ دو نمبر۔قسم کھا کے بیچیں کہ بلا قسم۔ قتل کرکے چھوٹ جائیں یا بغیر قتل کے قاتل بن جائیں۔ اپنی خامیوں پر پہلے نگاہ ڈالیں کہ دوسروں کی خامیاں گننے میں عمر گذار دیں۔ون وے کو صرف جانے کا راستہ سمجھیں کہ آنے جانے کا۔سگنل توڑیں کہ سبز بتی کا انتظار کریں۔ گاڑی کا لائسنس جیب میں رکھیں یا کرنسی نوٹ ہی پولیس کانسٹیبل کو بطور لائسنس دکھلا دیں۔

کسی سے دھوکا کھالیں کہ خود ہی کو دھوکا دے لیں۔ اپنے ایمان کی پہلے فکر کریں یا دوسرے کی بے ایمانی پر مسلسل نگاہ رکھیں۔کسی کی تخلیق کو اپنے نام سے چھاپ دیں کہ اپنی تخلیق کسی دوسرے کے نام سے بیچ دیں۔ قانون بنا کے توڑیں یا توڑ کے بنائیں ، ضابطوں پر کلی عمل کریں کہ جزوی یا بالکل ہی نہیں۔انصاف کے حصول کے لیے کوئی اچھا سا وکیل کرلیں یا پھر جج یا خود ہی منصف بن جائیں۔ مقدمہ جیت جائیں تو عدالت کو مانیں نہ جیتیں تو عوام کی عدالت میں مقدمہ لے جائیں۔

وعدہ کرکے مکر جائیں یا مکرنے کے بعد وعدہ کر لیں۔ پڑھ لکھ کے نورتن ہو جائیں کہ بنا پڑھے لکھے اکبرِ اعظم۔ گالیاں دے لیں کہ کھا لیں۔بھکاری بن کے کما لیں کہ کمائی لٹا کربھکاری ہو جائیں۔کسی کو لوٹ لیں کہ خود لٹ جائیں۔ دل چرالیں کہ مال و اسباب۔دروازہ کھٹکھٹا لیں کہ دیوار کود جائیں۔نہتے رہیں کہ اسلحے کا گودام بنا لیں۔تجارت کریں کہ اسمگلنگ بطور تجارت۔

جمہوریت میں جمہورے ہوجائیں کہ آمریت میں آمر جیسے۔آدھے آمر اور آدھے ڈیموکریٹ بن جائیں یا پھر ڈیمو کریٹک آمر۔پورا سچ بولیں کہ آدھا۔اصول پسندی کی سولی پر لٹکتے رہیں کہ بے اصولی کی گنگا میں نہاتے ہوئے بھی خشک رہیں۔اپنے کو نصیحت کریں کہ دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہیں۔سفید جھوٹ بولیں کہ کالا سچ۔رو لیں کہ ہنس لیں۔ ادھار کو آمدنی سمجھیں کہ آمدنی کو ادھار اتارنے کا ذریعہ۔

اپنے عقیدے کو افضل جانیں کہ دوسرے کے عقائد کا بھی احترام کریں۔نفرت کا نشانہ بنیں یا بنائیں۔ مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں یا ظالم اور مظلوم دونوں کا ساتھ دیں۔ جہالت کو علم سمجھیں یا علم کو جہالت کا اندھیرا دور کرنے والی شمع گردانیں۔شرافت کو اوڑھیں یا شریفانہ لباس سے کمینگی چھپائیں۔کم علموں کی لا علمی کو منافع بنائیں یا انھیں اپنے علم کے منافع میں شریک کریں۔زبانی جمع خرچ میں زندگی گذار دیں کہ اپنے حصے کا حقِ خدمت خاموشی سے ادا کر جائیں۔

خرد کا نام جنوں رکھ چھوڑیں کہ جنوں کا خرد۔میں کو ہم سمجھیں یا ہم بطور میں استعمال کرلیں۔ دولت کے نشے میں دوسروں کو نہ بھول جائیں کہ دوسروں کے خواب سستے داموں خرید کر دولت مند ہوجائیں۔لڑیں کہ لڑوائیں۔بولیں کہ چپ رہیں۔باہر خوشی تلاش کریں کہ اپنے اندر ہی خوشیوں کا باغ لگا لیں۔ ناک سے آگے کچھ نہ دیکھیں کہ دوسروں کی ناک نیچی نہ کروائیں۔دین پھیلائیں کہ دین فروش بن جائیں۔خود بھی جہاد کریں کہ دوسروں کو ہی جہاد پر روانہ کرتے رہیں۔

حقیقت ثابت ہوجائے تو کھلے دل سے قبول کرلیں یا جو آپ کا دل کہتا ہے اسے ہی حقیقت جانیں۔زندگی بھر مخلص دوست ہی تلاش کرتے رہیں کہ خود بھی کسی کے مخلص دوست بننے کی کوشش کریں۔ہنر پر سانپ بن کے بیٹھ جائیں کہ ہنر پر بیٹھے سانپ کو ہٹا کر ہنر کا خزانہ دوسروں کے لیے کھول دیں۔خود کو ہی مسلمان سمجھتے رہیں یا اپنے سے مختلف سوچ رکھنے والوں کو بھی دین کے دائرے میں شامل سمجھیں۔نماز نماز کی طرح پڑھیں یا ٹکریں مارنے کو ہی ذریعہِ ثواب جانیں۔غریبوں اور لاچاروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیں یا خود ان کے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں۔

تعجب ہے کہ ایسے ملک میں جہاں آپ سب کچھ پوری آزادی اور اطمینان کے ساتھ کر سکتے ہیں وہاں اتنا واویلا کاہے کو؟ کوئی ایسی آزادی ابھی باقی ہے جسے ہم مادر پدر آزاد نہیں کر پائے؟

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *