Wednesday , November 14 2018
ہوم > کالم > سما شبیر: بابا سے ملنے جیل جاتی اور وہیں پڑھائی کرتی

سما شبیر: بابا سے ملنے جیل جاتی اور وہیں پڑھائی کرتی

سما شبیر عام کشمیری لڑکیوں سے محض اس لیے مختلف نہیں ہیں کہ انھوں نے انڈیا بھر میں منعقدہ بارہویں جماعت کے وفاقی امتحانات میں کشمیر سے ٹاپ کیا۔

وہ اس لیے بھی مختلف ہیں کہ ان کے والد شبیر احمد شاہ سینیئر علیحدگی پسند رہنما ہیں جنھوں نے کُل ملا کر اب تک 31 سال مختلف جیلوں میں گزارے ہیں۔

بارہویں جماعت میں داخلہ لیتے ہی سما کے والد شبیر شاہ کو قانون نافذ کرنے والے سرکاری ادارے (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) نے خفیہ ذرائع سے رقوم لے کر مسلح شورش کو فنڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔

امتحانات کی تیاری کے دوران جب سما دلی کی تہاڑ جیل میں والد سے ملنے جاتیں تو انھیں پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑتا، لیکن وہ یہ وقت جیل کے باہر پڑھائی میں صرف کرتی تھیں۔ سما کہتی ہیں: ’ویسے بھی کشمیر میں اگر آپ کے ساتھ کچھ نہیں ہوا پھر بھی حالات کا اثر آپ کے دل و دماغ پر پڑتا ہے، لیکن میں ذاتی طور پریشان تھی، میرے بابا جیل میں تھے اور ملاقات اس قدر مشکل تھی کہ ایک دن جیل کے باہر انتظار کرنا پڑتا تھا، لیکن میں کتابیں ساتھ لے جاتی تھی اور انتظار کے دوران جیل کے باہر پڑھتی تھی۔‘

سما کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد سے متاثر ہوئیں کہ وہ سالہاسال سے قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود اپنے مقصد کے لیے کوشاں ہیں، اس لیے انھوں نے بھی طے کر لیا کہ وہ اُن کے لیے فخر کا باعث بن کر دکھائیں گی۔

سما شاہ کی والدہ سرکاری ہسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر ہیں اور وہ خود انصاف کی لڑائی لڑنے کے لیے وکالت کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہیں۔یہ پوچھنے پر کہ اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مظاہروں میں حصہ لیتے ہیں لیکن انھوں نے سارا وقت امتحان کی تیاری میں صرف کیا۔ سما کہتی ہیں کہ انھوں نے بچپن سے اپنوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کا طویل سلسلہ دیکھا ہے۔

’میری لڑائی قانونی ہو گی، اسی لیے میں نے ڈاکٹر یا انجنیئر بننا نہیں چاہا، میں وکیل بنوں گی، اور کشمیر ہو یا کوئی اور جگہ میں ناانصافیوں کے خلاف اپنی تعلیم اور اپنا ہنر بھرپور استعمال کروں گی۔سما کی والدہ ڈاکٹر بلقیس کہتی ہیں کہ خاوند کے جیل میں قید ہونے کے بعد انھوں نے بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ لیا، کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ’جیل کے اندر شبیر شاہ کا سر فخر سے اونچا ہو۔‘

سما کو دکھ ہے کہ وہ اپنی شاندار کامیابی کی خبر سب سے پہلے اپنے والد کو نہیں سنا پائیں۔

’انھوں نے اخبار میں پڑھا ہوگا، لیکن میں انہیں اس اہم موقع پر دیکھنا چاہتی تھی، وہ بہت خوش ہو جاتے۔ ہمیں تو جیل میں بھی انہیں شیشے کی آڑ سے دیکھنا ہوتا ہے اور بات بھی مائیکرو فون کے ذریعے ہوتی ہے۔‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اکثر علیحدگی پسند رہنماؤں کے بچوں نے تعلیم کے میدان میں اہم کارنامے کیے ہیں۔

سید علی گیلانی کے ایک فرزند ڈاکٹر اور چھوٹے بیٹے زرعی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، مسلح رہنما سید صلاح الدین کے چھوٹے بیٹے بھی ڈاکڑ ہیں، آسیہ انداربی کے فرزند ملیشیا میں اعلیٰ تعلیم میں مصروف ہیں۔ البتہ سید گیلانی کے دست راست اشرف صحرائی کے بیٹے جنید خان حالیہ دنوں تعلیم ادھوری چھوڑ کر مسلح گروپ حزب المجاہدین میں شریک ہوگئے۔

علیحدگی پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نوجوان خود اپنا راستہ چنتے ہیں۔
بشکریہ/ ریاض مسرور بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،سری نگر

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *