Monday , October 22 2018
ہوم > کالم > ’ایک ہی چیز بار بار ہو تو لوگ جینا سیکھ لیتے ہیں‘

’ایک ہی چیز بار بار ہو تو لوگ جینا سیکھ لیتے ہیں‘

پاکستان کا سب سے زیادہ غریب صوبہ، بلوچستان اکثر غلط وجوہات کی وجہ سے خبروں میں رہتا ہے۔ بی بی سی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی جو تشدد کی فضا میں ایک معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بینک منیجر کی خفیہ زندگی

یاسر ایک راک بینڈ ملہار کے مرکزی گلوکار ہیں۔ وہ دن میں ایک بینک مینیجر کے طور پر کام کرتے ہیں اور رات کو ایک راک سٹار بن جاتے ہیں۔ انھیں اپنا یہ شوق چھپا کر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ جس سوسائٹی سے ان کا تعلق ہے وہاں گانا بجانا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

وہ ہر شام اپنے دوستوں کے ساتھ ایک تہہ خانے میں جمع ہوتے ہیں اور راک موسیقی بجاتے ہیں یا پھر بالی وڈ کے گانے بھی گاتے ہیں۔ اس گروپ میں زیادہ تر طلبا ہیں جنھوں نے اپنا جیب خرچ بچا کر آلاتِ موسیقی خریدے ہیں۔

یاسر کا کہنا ہے کہ ’بینک میں میرے صارفین کو یہ پسند نہیں آئے گا. لہٰذا میں اپنی موسیقی سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کرتا، کیونکہ ڈر ہے کہ میرے گاہک ناراض نہ ہو جائیں۔‘

گٹار پر عاطف اسلم کے ایک گانے کی دھن بجاتے ہوئے یاسر کا کہنا تھا کہ انھیں موسیقی سے عشق ہے۔انھوں نے کہا: ’ہمارا معاشرہ تشدد سے بری طرح زخمی ہو چکا ہے، موسیقی بجانے سے ہمارا مقصد لوگوں کو تفریح فراہم کرنا ہے۔‘

ملہار پرفارم کرنے کے لیے کوئی عوامی جگہ نہیں ہے۔ انھیں ماضی میں کئی یونیورسٹیوں کی جانب سے مدعو کیا جاتا رہا ہے لیکن دائیں بازو کے گروپ ان کی پرفارمنس میں خلل ڈال دیتے اور اس کا اختتام آخرکار لڑائی جھگڑے پر ہوتا۔

یاسر نے کہا، ’نوجوانوں کے لیے ماحول اچھا نہیں ہے۔ انہیں اپنے کپڑوں تک کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ مغربی لباس پہننا اور داڑھی کا نہ ہونا ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔‘

انھیں معلوم ہے کہ یہاں موسیقاروں کے لیے تو کوئی مواقعے نہیں لیکن وہ تہہ خانے میں اپنے خوابوں میں جی رہے ہیں۔

’ہم بس لوگوں کو خوش رکھنا چاہتے ہیں۔‘اپنے ہی ہاتھوں میں زندگی اور موت

کوئٹہ کے سول ہسپتال کے باہر اگست 2016 میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد ڈاکٹر شہلا سمیع کاکڑ وہ پہلی ڈاکٹر تھیں جو دھماکے کے مقام کی جانب نکل پڑیں۔

اس دھماکے کے نتیجے میں 70 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر وکلا تھے۔

شہلا نے اس دن کے بارے میں بتایا: ’ہر طرف خون ہی خون تھا، سیاہ کوٹ اور سفید قمیص پہنے درجنوں افراد زمین پر پڑے تھے۔‘

گائناکالوجسٹ کا کہنا ہے کہ انھیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کریں۔

شہلا اب کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس میں کام کرتی ہیں لیکن اس حملے کے بعد سے اب تک صدمے میں ہیں۔

ڈاکٹر شہلا کے مطابق ان کے مذہبی عقائد نے انھیں اس سب سے نکلنے میں مدد دی۔

’ہمیں اسی معاشرے میں رہنا ہے، ہم ہر روز اس امید میں زندگی بسر کرتے ہیں کہ یہ ایک معمول کا دن ہوگا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف کوئٹہ بلکہ پاکستان کے تمام بڑے شہر تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔

ڈاکٹر شہلا کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ باہر سے دیکھیں تو ایسا لگے گا کہ ہم بہت ہی مشکل زندگی گزار رہے ہیں، لیکن میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ اس شہر میں قبائلی سوچ اور نظم و ضبط کی کمی وہ چیزیں ہیں جو مجھے سب سے زیادہ پریشان کیے ہوئے ہیں۔‘

ان کے مطابق بلوچستان میں خواتین میں تعلیم اور آزادی کی کمی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ان تمام پابندیوں سے مکمل طور آگاہ ہوں جو مرد خواتین پر لگاتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے طبی معائنے پر بھی۔ خواتین کو کچھ کہنے کی مکمل آزادی نہیں۔‘

لیکن ان تمام پابندیوں اور مشکلات کے باوجود، بلوچستان کا کثیر النسلی نظام انھیں زیادہ چیلنج کرتا ہے۔

’یہاں کوئٹہ میں ہزارہ، بلوچ، پستون، پنجابی، اردو اور فارسی بولنے والی برادریاں موجود ہیں۔‘

ڈاکٹر شہلا کا کہنا ہے کہ ’ان سب کی مختلف اقدار اور روایات ہیں، اس لیے مجھے ان کا علاج کرتے ہوئے ان کی ثقافت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔‘صحافی جسے خاموش نہیں کیا جا سکتا

خلیل احمد بلوچستان یونین آف جرنالسٹ کے صدر ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب میں ان کے دفتر کے گرد خار دار تاریں لگائی گئی ہیں اور مسلح محافظ تعینات ہیں۔

وہ خطرات کے بارے میں دو ٹوک اور صاف صاف بات کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہاں اغوا کرنے کا رواج نہیں ہے، آپ کو ٹارگٹ کر کے مار کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔‘

گذشتہ ایک دہائی کے دوران بلوچستان میں 38 صحافی مارے جا چکے ہیں۔

ان صحافیوں کو طالبان، القاعدہ، بلوچ علیحدگی پسندوں اور فرقہ وارانہ تنظیموں کی جانب سے ٹارگٹ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت اور فوج پر رپورٹرز کے ماورائے عدالت قتل کے الزامات ہیں جنھیں حکام مسترد کرتے ہیں۔

خلیل کا کہنا ہے کہ ’آپ صرف چند ہی مخصوص الفاظ کا استعمال کر سکتے ہیں اور اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار نہیں کر سکتے۔‘

خلیل صحن میں کھڑے تھے جس کے باہر طالبعلم مظاہرے کر رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ریاست کی مخالفت کرنے والے بلوچ علیحدگی پسندوں کے خیالات کی عکاسی بھی آپ کو مشکل میںں گرفتار کر سکتی ہے۔

صوبے میں 18 صحافیوں پر اس قسم کے نقطہ نظر کو شائع کرنے کی پاداش میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمات چل رہے ہیں اور حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود ان کیسز کو ختم نہیں کیا گیا۔

خلیل نے بتایا کہ علیحدگی پسند اور جنگجو ہمیں کہتے ہیں کہ ان کے پاس ہمارے بچوں کے بارے میں تمام معلومات ہیں اور وہ ہمیں کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

وہ گذشتہ 18 سالوں سے ایک صحافی ہے اور انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔

’یہ ہمارا کام ہے۔ جو رات قبر میں آنی ہے وہ بدل نہیں سکتی پھر اس کے بارے میں پریشانی کیسی؟‘

موت کے سائے میں زندگینسیم جاوید کو ایک مخصوص کمیونٹی میں رہنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک ہزارہ اور شیعہ کے طور پر، وہ اقلیت ہیں۔ حملوں اور خودکش حملوں نے اس کمیونٹی کے بہت سے لوگوں کی زندگی ضائع کردی ہے۔.

وہ نقل مکانی کر کے مری آباد کی رہائشی علاقوں میں رہ رہے ہیں۔ وہاں داخل ہونے کا ایک ہی راستہ ہے جہاں سکیورٹی اہلکار مامور ہیں لیکن اس کے باوجود ہزارہ برادری کا قتل روکا نہیں جا سکا۔

نسیم کہتے ہیں کہ سنیما گھر تباہ ہوگئے ہیں اور بازار بند ہیں، اس ماحول میں سانس لینا بھی دشوار ہے۔‘

نسیم جاوید اپنے بزرگوں سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قبرستان شہدا کے قریب تمام لوگ مرد جمع جہاں وہ اپنا روایتی کھیل کھیلیں گے۔ جس کا نام ہے سنگ گراںگ۔

اس میں فارسی زبان میں ایک شخص مذہبی نظم پرھتا ہے اور باقی سب غروب ہوتے ہوئے سورج کے سائے میں اسے سنتے ہیں۔

ابھی نسیم اس قسم کے اجتماعات میں جانے کے لیے کم عمر ہیں لیکن وہ پھر بھی وہاں جاتے ہیں۔

نسیم کہتے ہیں کہ ہم موت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

جو لوگ یہاں جا سکتے تھے پہلے ہی چلے گئے تھے۔ نوجوان محسوس کرتے ہیں کہ مستقبل غیر یقینی ہے اور ان ایک ہی خواب ہے کہ وہ اس جگہ سے بھاگ جائیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جب تشدد کی لہر میں کمی آتی ہے تو ان کی ہمت اور امید مسلسل بڑھتی ہے لیکن پھر سے سب ختم ہو جاتا ہے۔

’لوگ سوچتے ہیں کہ شاید سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن جب ٹارگٹ کلنگ کا کوئی اور واقعہ ہو جاتا ہے تو وہ پھر مایوس ہو جاتے ہیں۔‘

ایک طالب علم کی امید23 سالہ شہنیلا منظور صحافت کی طالبہ ہیں۔ وہ بہت پراعتماد اور صاف گو ہیں جو وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی۔

وہ کہتی ہیں کہ’چیزیں بہتر ہو رہی ہیں. اگر میں یہاں بیٹھی ہوں اور میرےساتھی دوستوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انھیں نوکریاں مل رہی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تبدیلی آرہی ہے۔‘

یقیناً شہنیلا جو کہ بلوچستان یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں خطرات سے آگاہ ہیں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنے راستے میں آنے کی اجازت نہیں دیتی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہی جیسی چیز بار بار ہوتی ہے تو لوگ ایسی صورتحال میں جینا سیکھ لیتے ہیں۔

وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں رہنا اپنے کرئیر کے لیے نقصان دہ ہے۔

’جب ہم اپنا موازنہ دیگر صوبوں کے طلباو طالبات کے ساتھ تو وہ ایسے مقام پر ہیں جہاں ہمارے لیکن نوکری کے مواقع کے حوالے سے ان سے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔

لیکن شہنیلا سمجھتی ہیں کہ قدامت پسند قبائلی سوچ خواتین کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اگرچہ ہو خود اب بھی پرامید ہیں لکین وہ کہتی ہیں کہ نوجوان طبقہ بلوچستان کو چھوڑ کر جا رہا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان ٹیلنٹ ضائع ہو جائے گا۔

’یہاں پاک چین راہ داری منصوبہ ہے، نئے کاروبار کھولے جا رہے ہیں بہت زیادہ تعمیراتی کام جاری ہے اور نیا تعلیمی نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔

وہ پرامید ہیں کہ اس سے فائدہ ہوگا اور تعمیر نو ہو گی اور یہ لوگوں کے یہاں رہنے میں معاون ہو گا۔

عصمت شاید اب یہاں نہ رہیںکوئٹہ کے پرانے علاقے میں عصمت اللہ خان جوتوں کی دکان چلا رہا ہے۔ یہ دکان سنہ 1982 سے اس کے خاندان کی ملکیت ہے۔ والد کی وفات کے بعد عصمت اللہ نے اسے سھنبال لیا تھا۔

لیڈیز سینڈل کو پالش کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کم ہی گاہک آتے ہیں اور کاروبار کی صورتحال بہت خراب ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پہلے دکاندار اور گاہک خوف کا شکار نہیں ہوتے تھے۔

کوئٹہ کی ہاشمی مارکیٹ پنجاب اور سندھ سے آنے والے سیاحوں اور کوئٹہ میں تعینات فوجی افسران کے خاندان کا شاپنگ کے لیے پسندیدہ مقام ہوتا تھا۔

لیکن تشدد کے واقعات بڑھنے کی وجہ سے ایک دہائی سے زائد عرصہ ہوا سیاحوں کی آمد بھی کم ہوئی ہے اور فوجی خاندان بھی چھاؤنیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پہلے ہم روزانہ 90 ہزار روپے کما لیتے تھے لیکن اب یہ گھٹ کر 10 ہزار یومیہ ہو گئی ہے۔عصمت اللہ کہتے ہیں کہ اب دھماکوں کی تعداد کم ہو گئی ہے لیکن لوگوں کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

ہر روز جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو میری ماں قرآنی آیات کا ورد کرتی ہیں کہ میں گھر محفوظ لوٹ آؤں۔

وہ کہتے ہیں کہ مستقبل بہت غیر یقینی ہے۔

میں اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ معیار زندگی بہت تیزی سے نیچے گرا ہے۔

’اگر چیزیں بہتر نہ ہوئیں تو میں یہ چھوڑ کر دوبئی چلا جاؤں گا کیونکہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘
بشکریہ/شمائلہ جعفری بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *