Sunday , November 18 2018
ہوم > پاکستان > اداکارہ شبنم کے ساتھ زیادتی کا کیس : فاروق بندیال اور اسکے شریک جرم واردات کے بعد باآسانی فرار ہو گئے تھے مگر کچھ روز بعد ایک اور طوائف کی وجہ سے کیسے گرفتار ہو گئے ؟ دھماکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

اداکارہ شبنم کے ساتھ زیادتی کا کیس : فاروق بندیال اور اسکے شریک جرم واردات کے بعد باآسانی فرار ہو گئے تھے مگر کچھ روز بعد ایک اور طوائف کی وجہ سے کیسے گرفتار ہو گئے ؟ دھماکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور(ویب ڈیسک)تحریک انصاف نے مجرمانہ ریکارڈ ثابت ہونے پر فاروق بندیال کو پارٹی سے نکال دیا جس پر اداکارہ شبنم نے عمران خان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھاہے کہ “میں جنسی زیادتی کے ایک مجرم کو پارٹی سے نکالنے پر عمران خان کے عمل کو سراہتی ہوں ساتھ ہی میں پاکستانی عوام کی بھی مشکور ہوں

صف اول کی تزخیہ نگارطیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں۔۔۔ ایک ریپسٹ کے خلاف کھڑے ہوئے، جیتے رہیں۔شبنم جی نے ان درندوں کو معاف کر دیا تھا ورنہ سزائے موت ہو چکی تھی۔فاروق بندیال کی تحریک انصاف میں شمولیت اور پھر سوشل میڈیا پر اس ایکشن کے خلاف پر زور ری ایکشن نظروں سے گزرا لیکن کالم کا موضوع بنانے کو جی نہ چاہا۔ عمران خان نے پارٹی کے احتجاج پر بدنام زمانہ مجرم کو پارٹی سے بے دخل کر دیا تب بھی اس کہانی کو کالم کی زینت بنانے کو دل نہ چاہا لیکن جب اداکارہ شبنم کی جانب سے “شکریہ” کا ٹویٹ پڑھا تو شرمساری سے آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس خاتون کے دل پر کیا گزری ہوگی۔اس شخص کی تصویر اور نام کی بازگشت سے ماضی کے زخم ہرے ہوگئے ہوں گے۔پھر وہی کر بناک اور شرمناک واقعہ فلم کی طرح شبنم صاحبہ کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ہو گا۔عمران خان کی غفلت اور بے نیازی سے عوام تو حیران پریشان ہیں ہی لیکن جو دکھ مظلوم شبنم صاحبہ کو پہنچا اس کا اندازہ ان کے تشکر سے ہو سکتا ہے۔ جرم کبھی ماضی نہیں ہوتا۔ ظلم بچے جنتا رہتا ہے۔ مجرم خواہ شرافت کا لبادہ اوڑھ لے یا سچی توبہ کیوں نہ کر لے سیاست کی دنیا اسے برہنہ کر کے چھوڑتی ہے۔ فاروق بندیال کی مثال سے ثابت ہو گیا کہ دولت سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے لیکن عزت نہیں خریدی جا سکتی۔

پاکستان سے محبت کرنے والی مقبول اداکارہ شبنم جی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ عمران خان کی مہربانی سے اس شخص کو ایک مرتبہ پھر رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ چند دنوں قبل فاروق بندیال نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئی تھیں جس پر ٹوئٹر پر صارفین نے فاروق بندیال کے بارے میں بتایا کہ 1970ء کے عشرے میں وہ ماضی کی معروف اداکارہ شبنم کے گھر ڈکیتی اور ان سے زیادتی کے واقعے میں ملوث تھا۔سوشل میڈیا پرعوام کی جانب سے شدید تنقید کے بعد عمران خان نے نعیم الحق کو معاملے کی چھان بین کے احکامات دیئے اور فاروق بندیال کے جرم کی تصدیق کے بعد عمران خان نے انہیں فوری طور پر پارٹی سے نکال دیا۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ ’شبنم ڈکیتی‘ کیس کے نام سے بہت مقبول ہوا تھا۔اس ضمن میں سوشل میڈیا پر اکتوبر 1979ءکے ایک اخبار کا تراشا بھی زیر گردش ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فوجی عدالت نے شبنم ڈکیتی کیس کے پانچ مجرموں کو سزائے موت سنائی تھی۔ ان مجرموں میں فاروق بندیال، یعقوب بٹ، عابد، تنویر اور جمشید اکبر شامل تھے۔

اس کے علاوہ ایک مجرم کو 10 سال قید اور ساتواں مجرم مفرور قرار دیا گیا تھا، ان مجرموں کو کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا تھا۔یہ دل دہلا دینے والا واقع جنرل ضیاءدور میں 1980 میں پیش آیا۔سوشل میڈیا صارفین نے فاروق بندیال کا ماضی کھنگال ڈالا جس کے مطابق اس شخص پر معروف اداکارہ شبنم سے اجتماعی زیادتی کا الزام ہے۔ فاروق بندیال پر الزام تھا کہ ا نہوں نے اداکارہ کے شوہر اور بیٹے کے سامنے اداکارہ سے زیادتی کی۔ فاروق بندیال نے اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر مختلف پاکستانی اداکاراو¿ں کے ساتھ گینگ ریپ کی وارداتیں کی تھیں جن میں اداکارہ زمرد اور شبنم کا نام نمایاں ہے۔ جس وقت اداکارہ شبنم کے ساتھ یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا ان کا بیٹا روفی پاکستان آیا ہوا تھا، واضح رہے کہ ان کا بیٹا لندن میں زیرتعلیم تھا۔ ان لوگوں نے شبنم کے خاوند موسیقار روبن گھوش، بیٹے روفی اور شبنم کے سیکرٹری خالد کو کرسیوں کے ساتھ باندھ کر ان کے سامنے شبنم کی آبروریزی کی تھی، اس افسوسناک عمل کے بعد وہ لوگ اداکارہ شبنم کے گھر سے مال و دولت لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔ چند دنوں بعد ان افراد نے بازار حسن میں چندا نامی طوائف کے کوٹھے پر مجرہ دیکھتے ہوئے طلائی زیورات نچھاور کیے یہ زیورات انہوں نے اداکارہ زمرد کے گھر سے چرائے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

’’ کس طریقے سے سوال کیا ہے؟‘‘ تقریب کے دوران جب صحافی نے زُلفی بخاری سے سوال پوچھا تو انہوں نے کیا کِیا؟ جان کر آپ ہکا بکا رہ جائیں گے

’’ کس طریقے سے سوال کیا ہے؟‘‘ تقریب کے دوران جب صحافی نے زُلفی بخاری …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *