Friday , October 19 2018
ہوم > کالم > بس میں پردہ نہیں کر سکتی – ام الھدیٰ

بس میں پردہ نہیں کر سکتی – ام الھدیٰ

بس کوئی چیز تھی جو اماں کے ساتھ اس کلاس میں جانے سے روکتی تھی، اور روکے ہی چلی جاتی تھی۔ اماں روز ظہر کے بعد کلاس میں جایا کرتی تھیں اور افطاری سے کچھ دیر قبل گھر لوٹ آیا کرتی تھیں۔ اب ان کی تو عمر بھی ایسی ہی تھی کہ اللہ اللہ کرتیں۔ اللہ کے احکامات سیکھ کر ان پر عمل کرتیں۔ سب بزرگوں کو یہی کرنا چاہیے۔ اصول بھی یہی ہے۔ لیکن اس کی عمر تو ابھی زندگی کو انجوائے کرنے کی تھی۔ ابھی تو زندگی کی اصل بہاروں کی طرف پیش رفت جاری تھی۔ ابھی تو اڑانیں بھرنا باقی تھیں۔ ایسے میں بھلا کیسے قرآن کے احکامات کا طوق گردن میں لٹکا کر بیٹھ رہتی۔اماں کا بھی دل نہیں بھرتا تھا۔ روز ہی کسی نا کسی بہانے سے کہنے آ جاتی تھیں کہ آج والی سورت پڑھ لو، بہت اہم ہے، آگے پھر نہ پڑھنا بیشک۔ اور وہ یہ کہہ کر ہمیشہ ٹال دیا کرتی کہ میں نے قرآن کو پڑھ تو لیا ہے ترجمے کے ساتھ، بس کافی ہے میرے لیے، آپ سیکھ آئیں۔!

پھر ایک دن رمضان کے وسط میں اماں اسے کہنے لگیں کہ میری اچھی والی بیٹی، صرف دو دن کی بات ہے۔ مدرسہ نے اتنے لوگوں کو دعوت دینے کی خود درخواست کی ہے، تو تم بس دو دن کے لیے میرے ساتھ چلو، اور وہ پھر وہی بحث لے کر بیٹھ گئی۔
“اماں دیکھیں! میں اپنی عمر کی اتنی لڑکیوں سے بہتر ہوں۔ میں نماز بھی وقت پر ادا کرتی ہوں، روزے بھی سارے رکھتی ہوں، تو اب اور آپ کو کیا چاہیے مجھ سے۔؟”
اور اماں پھر پیار سے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں کہ ان دو دنوں کے بدلے میں میں تم سے تمھاری کوئی ایک پسندیدہ چیز لے کر دینے کا وعدہ کر رہی ہوں، بس تم آ جاؤ۔ اور پھر وہ اسی طرح کافی دیر اسے سمجھانے کی کوشش کرتی رہیں کہ صرف یہ دو سورتوں کا سبق پڑھ لو، سورۃ نور اور سورۃ احزاب۔

اور وہ ایک دم پھر سے بھڑک اٹھی۔ اچھا یہ وہی دو سورتیں ہیں نا جن میں مائیاں بن کر پھرنے کا حکم ہے۔ جو شاید اتنا سخت نہیں ہے جتنا ہمارے ان دین کے ٹھیکیداروں نے بنا دیا ہے۔
اماں آپ کو ایک بات بتاؤں؟ ان سورتوں میں کہیں بھی حکم نہیں ہے اتنے سخت پردے کا جیسا آپ کرتی ہیں۔ آج کل اس موضوع پر اتنی بحث ہوتی ہے۔ یہ بلا وجہ کا کلچر بس ہمارے برصغیر میں ہی رائج ہے۔ باقی مسلم ممالک میں حجاب کا تصور ہے صرف۔ لیکن وہ بھی مرضی پر منحصر ہے۔ خالی دوپٹہ سینے پر ڈال لینا کافی ہی تو ہوتا ہے۔
اور اماں پھر قدرے متانت سے بولیں۔ “اچھا تم ایک بار چل کر خود پڑھ لو پھر فیصلہ کر لینا۔”اور پھر ایک خیال ذہن میں آتے ہی اس نے ساتھ چلنے کی حامی بھر لی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ مدرسہ کو اپنے لاجواب counter arguments (جوابی دلائل) سے ہی غلط ثابت کر دے گی۔ ہاں! لیکن وہ دل سے اور پوری توجہ سے ان کے دلائل سننے کے لیے بھی تیار تھی۔
دل میں بہرحال ابھی سختی نہیں اتری تھی۔ ابھی زمین قلب پر گرانی کا غبار نہیں چھایا تھا۔ ابھی اس دل پر قرآن سے لگاؤ موجود تھا۔ لیکن بس کچھ تحفظات سے تھے۔ کچھ خدشات سے تھے۔

اور بس دل میں وہ ان مباحثوں کو دہراتی ہوئی اماں کے ساتھ کلاس میں جا پہنچی۔ وہ مباحثے جو آئے روز اس کے سکول میں اس موضوع پر ہوتے ہی رہتے تھے۔ کبھی صرف طلبہ و طالبات کے درمیان اور کبھی اساتذہ بھی درمیان میں شامل ہو جایا کرتے تھے۔
خیر کلاس شروع ہوئی اور مختلف احکامات سے ہوتے ہوئے سورۃ نور میں زینت ظاہر کرنےسے متعلق احکامات کا تذکرہ شروع ہوا۔ پھر کچھ آگے بڑھ کر اللہ نے مؤمنات کو دوپٹہ اوڑھنے کاصحیح طریقہء جیسے ہاتھ پکڑ کر ہی سکھا دیا تھا۔ اور اس کے چہرے کی مسکراہٹ ان احکامات کے دوران برقرار رہی۔ ہاں تو دوپٹہ اوڑھنا ہی سکھایا ہے نا۔ کہاں ہے چہرے کا پردہ؟
اور پھر سورۃ احزاب شروع ہو گئی۔ جنگی تبصروں اور احکامات کے بعد پھر معاشرے کے چند اصول سکھائے گئے تھے۔ اور پھر آیت 59 پر پہنچ کر مدرسہ نے بات کا رخ واپس سورۃ نور کی تفسیر میں بیان ہونے والے واقعہ اِفک کے ایک پہلو کی طرف موڑ دیا۔
واقعہ افک۔۔۔ بھلا اس کا کیا تعلق؟ اس میں تو الزام کی بات تھی؟ وہ ابھی اس ان بن میں تھی کہ مدرسہ کہنے لگیں:
“اماں عایشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے امت کی مؤمنات پر واقعہ افک سناتے ہوئے دو باتیں کہہ کر بہت بہت بہت بڑا احسان کر دیا۔”
وہ اب مکمل متوجہ تھی۔
“وہ فرماتی ہیں کہ صفوان بن معطل نے مجھے اس لیے پہچان لیا کہ انہوں نے مجھے پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے دیکھ رکھا تھا۔ اور ان کے اناللہ پڑھنے سے جو میری آنکھ کھلی تو وہ دوسری طرف منہ کر کے بیٹھ گئے اور پھر میں نے جلدی سے خود کو پھر لپیٹ لیا۔ یعنی منہ چھپا لیا بالکل پردہ کر لیا۔ اگر وہ یہ بات نہ کہتیں، تو کہاں سے کہاں تک جواز گھڑے جاتے۔”
اب ذہن پر مکمل خاموشی چھانے لگی تھی۔۔۔
“یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ۔۔”
“اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں..”
اوڑھی ہوئی چادر کا پلو کہاں لٹکانا ہے؟ اوپر؟ تو پھر یہ تو منہ پر ہی آئے گا۔ اوہ!! یہی تو مراد لی تھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سے۔!!! غبار چھٹ رہا تھا۔ سب مباحثے دھواں ہو رہے تھے۔ لیکن، لیکن یہ بہت مشکل ہے۔! اور پھر کلاس کے اختتام پر وہ مدرسہ کے قریب پہنچ گئی۔ اور نظریں جھکائے کھڑی تھی۔ انہوں نے سیاہ دوپٹا اوڑھے اس لڑکی کو گم سم دیکھا تو خود ہی بلایا۔ بیٹا کوئی پریشانی ہے؟
“آنٹی! میں سب کچھ کر سکتی ہوں۔ مجھے اللہ نے بولنے کی صلاحیت بھی دی ہے۔ میں دین کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ میں اپنے فرائض بھی پورے کرتی ہوں۔ میں سب کچھ کرنے کے لیے تیار بھی ہوں۔ سب کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ لیکن۔۔۔”
“کیا ہوا؟” انہوں نے پیار سے پوچھا.
“لیکن آنٹی میں بس پردہ نہیں کر سکتی۔ یہ نہیں ہو گا مجھ سے۔ مجھے یہ حکم بہت مشکل لگتا ہے بس!!”
“تو آپ کو یہ تو سمجھ آگئی نا کہ یہ فرض ہے؟”
“جی آنٹی آگئی ہے۔ مان بھی رہی ہوں۔ لیکن یہ بہت مشکل سا فرض ہے۔ میں نہیں کر سکوں گی۔۔”
مدرسہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ “آپ کو پتہ ہے کہ آپ کو اس سے کون روکتا ہے؟ شیطان، آپ کا دل بھی مانتا ہے، اور آپ کا ذہن اس کو قبول بھی کرتا ہے، مگر شیطان آپ کو اس پیارے سےحکم سے جو آپ کو قواریر کا status دینا چاہتا ہے، ڈرا رہا ہےم وہ نہیں چاہتا کہ آپ کو وہ status ملے۔!”
“تو پھر آنٹی میں کیا کروں؟ مجھ سے نہیں ہوگا۔۔۔!”
ان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ “آپ ایسا کریں، کہ آپ اپنی گزشتہ زندگی کے دنوں پر اللہ سے توبہ کریںم ڈھیروں استغفار کریں بس۔ اور مجھے یقین ہے کہ جس دن آپ کی توبہ قبول ہوگئی، اس دن یہ حکم آپ کو اعزاز لگے گا اور آپ کے چہرے پر نقاب خود بہ خود آجائے گا۔!”

اس کی آنکھوں میں یہ بات سن کر موتی سےتیرنے لگے اور وہ وہیں جیسے جم کر رہ گئی!!

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *