Sunday , August 19 2018
ہوم > کالم > آنٹی سی این این اور بھابی بی بی سی – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

آنٹی سی این این اور بھابی بی بی سی – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ہماری سٹریٹ میں ایک آنٹی ہوتی تھیں جنہیں آنٹی سی این این کہا جاتا تھا۔ وہ بھی ہر گھر کے ہر کردار کو اپنے رکھے نک نیم سے یاد کیا کرتیں اور مزے کی بات یہ کہ جس سے بات کر رہی ہوتیں، بس اسے ہی پتا نہ چلتا کہ ان تمام ناموں میں سے اس کا نام کب آیا۔ خبر ہر گھر کی رکھتی تھیں۔ اڑتی چڑیا کے پر گننے والا محاورہ ایسوں کے لیے ہی بنا ہے۔ کس گھر کے مطبخ سے حلیم کی مہک آ رہی اور کدھر قورمہ چڑھا ہے، اور آج کس بہو کی ہنڈیا لگ گئی، ایسی چھوٹی موٹی اطلاعات تو گھر کی بالکنی میں بیٹھے بٹھائے، بہتی ہوا ان کے نتھنوں میں پھونک جایا کرتی۔ پسندیدہ سالن کی خوشبو کی درست سمت کا تعین البتہ ان کی اضافی خوبی تھی۔ ایسی خواتین کے گھر میں داخلے کے ساتھ ہی سمجھدار میزبان خواتین اپنی بہو بیٹیوں کو آنکھ کے اشارے سے گھر سمیٹنے اور ادھر ادھر ہو جانے کا کہہ دیا کرتی ہیں کہ ایسیوں کی لگائی بجھائی سے کوئی گھر محفوظ نہیں رہ پاتا ہے اور ان کی نکتہ رسی سے کسی کی بھی گھرداری کبھی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ عموما ان خواتین کے گھر میں داخلے سے لے کر اخراج تک کا وقت میزبانوں پر کڑا گزرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پرانا خراب سالن کھا لینے کے بعد طبیعت مالش کرتی رہتی ہے اور سنبھلتی تبھی ہے جب جراثیم کسی نہ کسی طور خارج ہوتے ہیں۔ لیکن آنٹی سی این این کی چٹخارے دار باتوں کا چسکا برا بھی بہت تھا۔ سو ہر گھر میں خوش آمدید کہی جاتیں۔گویا چھٹتی نہیں ہے یہ ظالم منہ سے لگی ہوئی۔ریٹائرڈ شوہر کو لہسن چھیلنے پر لگا کر بےروزگار بیٹے کو دہی کے لیے بازار دوڑاتیں اور خود محلے بھر کی خبر گیری کے لیے نکل پڑتیں۔ اے بی بی، اے بہو، اے بہن، اے میاں کہتے کسی بھی گھر میں جا دھمکتیں۔ جتنا مصالحہ مل جائے سمیٹ سنبھال کر اگلے گھر سدھارتیں۔ الغرض دوپہر کی ہنڈیا روٹی تیار کرتے کرتے ایک نئے زاویے کی چسکے دار شوں شوں ابلتی کہانی تیار کر چکتیں۔ جس سے اگلے کئی روز کہانی گھر گھر کی کھیلا جا سکتا۔ تیرے میرے گھر میں لڑائی ڈلوا، فساد کروا اپنا وقت اچھا پاس کر لیتیں۔ وقت گزاری کا کچھ بہانہ تو بہرطور چاہیے۔ ذاتی اہمیت بھی بڑھتی اور تازہ خبر کی شوقین یا ادلے بدلے کے سوچے ہوئے کرارے جواب مدمقابل کو بھجوانے کی منتظر پڑوسنیں انھیں ہاتھوں ہاتھ لیتیں۔ لذت کام و دہن کے ساتھ ساتھ ذہنی مشق بھی خوب رہتی۔

فرصت کے دنوں میں جب کوئی نیا پھڈا نہ چل رہا ہوتا تو کبھی کبھار اپنی جوانی کے قصے چھیڑ بیٹھتیں۔ ابتدا ان کے من پسند جملے سے ہوتی “ہمارے زمانے اچھے تھے”، جب تو یہ موئے حرام جانور کی چربی سے بنے میک اپ کا نام بھی نہ کسی نے سن رکھا تھا۔ کپڑا رنگنے کا لال رنگ ذرا سے مکھن میں ملایا اور گلابی لبوں کو دوآتشہ بنا لیا۔ اب چاہے سننے والے کی طبیعت پگھلتے سرخ مکھن کا ذائقہ منہ میں گھلتا محسوس کرے اور برے برے منہ بنائے، وہ اپنے فائیو منٹ کرافٹ پر بلاشبہ ناز کرتی پائی جاتیں۔ کبھی کسی پڑوسن کے تازہ ہیئر کلر پر بات کرتیں تو یاد کرتیں کہ ہمارے بال آملے ریٹھے اور خالص سرسوں کے تیل کے باقاعدہ استعمال سے نہ کبھی گرے نہ کبھی جھڑے اور تادیر سیاہ رہے۔ کبھی بازو والے پڑوسی کی بیٹی کا قصہ چھیڑ دیتیں کہ نخرہ دیکھو بڑی ریما بنتی ہے، جبکہ ہے نری سپاٹا۔ لڑکیوں جیسے کپڑے نہ پہنے تو پتا بھی نہ چلے کہ مرد ہے یا عورت۔ لو بی بی! یہ آج کل کی نگوڑ ماریاں بیٹھے بیٹھے جگالی کر کر بھینسیں بنتی جاتی ہیں۔ میں اپنے زمانے میں رج کے کھاتی تھی لیکن اتنا کام کرتی تھی کہ بھوکی کتی کے پیٹ کی مانند پیٹ کمر کے ساتھ لگا ہوتا تھا۔ بس یہ قصہ محلے بھر میں خوب مشہور ہوا اور آنٹی سی این این کا نیا حوالہ ان کا پیٹ بن گیا جو واقعتا اس عمررسیدگی میں بھی کمر کے ساتھ ہی لگا ہوا تھا۔

خدا جانے دنیا جہان کے قصے ڈکار کے بھی اسے اپھارہ کیوں نہیں ہوتا تھا۔ مرنجاں مرنج شوہر کی پینشن پر مکمل اختیار رکھتیں تھیں، اور میاں بیچارے سعادت مند اولاد کی مانند تمام پیسے لا کر زوجہ ماجدہ کے ہاتھ پر دھر دیتے اور پھر سے چھری سنبھال لہسن چھیلنے لگتے۔ کبھی جب انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو شکر کرتے پائے جاتے کہ اب فارمی لہسن موٹے جوئے والا آنے لگا ہے، چھیلنے میں آسانی رہتی ہے۔ دیسی لہسن کی باریک تریاں چھیلنے میں بہت وقت لگتا تھا، اور ہاتھ بھی کٹ جاتے تھے۔ خیر رہتے بستے جب محلے والے ان کی لگائی بجھائی، جاسوسی اور کن سوئیوں کی عادت سے واقف ہوئے تو محتاط بھی ہو گئے اور آنٹی سی این این کے مالک مکان سے بات کر کے بی بی کو اپنے محلے سے دیس نکالا دلوا دیا ۔ آنٹی بھی سدا کی مہاجر پرانے محلے کے گھسے پٹے لطیفوں سے تھک چکی تھیں اور موسم کے بدلے تیور بھی بھانپ چکی تھیں سو نیویں نیویں ہو کر نئے دیس پدھاریں، جہاں نئے قصے ان کے منتظر تھے۔ اصیل خون تھیں سو پرانے محلے کے قصے اگلے لوگوں سے کبھی نہ کہے۔ سو کبھی پرانے محلے میں چکر لگتا تو کوئی چائے پانی پلائے بنا جانے نہ دیتا کہ دنیا داری کا لحاظ ہر دو طرف باقی تھا۔

قصہ تو آنے والی کتاب کی لکھاری کی مدح میں چھیڑا، لیکن بات وہی کہ قلم اپنا رخ خود طے کر لیتا ہے، کچھ کردار اپنا آپ خود لکھوا منوا کر دم لیتے ہیں، اور جو منوا نہیں پاتے، وہ ریحام بی بی کی مانند زبردستی منوانے پر تل جاتے ہیں۔ کیا ہوتا کہ بی بی سی کی رپورٹر بیوی بننے کے بعد اپنا انویسٹیگیٹو جرنلسٹ کا لبادہ پرانے محلے میں دفن کر آتیں اور بیگم صاحب بننے کے مزے لوٹتیں، لیکن جی جو عادت نشہ بن جائے وہ کب چھوڑی جاتی ہے۔ سلیبریٹی کی بیگم بننے کے بجائے خود سلیبریٹی بننے کی خواہش بیدار ہوئی تو میان تنگ پڑ گئی۔ ایک تلوار ہی کافی تھی، دو کی گنجائش تھی نہ ضرورت، سو ایک تلوار کو روانہ کرتے ہی بنی۔ خیر صحافی اور وہ بھی خاتون صحافی اپنی فطرت میں پکی رہیں۔ نہ کوئی راز چھوڑا نہ کوئی شریک راز۔ چلتی ہوا کے جھونکے بھی بنی گالا محل کی فرنچ ونڈوز پر پڑے دبیز پردوں سے گزر کر ان کے کانوں میں راز پھونک جایا کرتے، بالکل آنٹی سی این این کی قوت شامہ کی طرح بھابی بی بی سی نے غیر معمولی قوت متخیلہ پائی ہے۔ کردار دیکھ کر کہانی یہ خود مکمل کر لیا کرتی ہیں۔ بس کوئی سامع میسر ہونا چاہیے۔ بات ہانڈی روٹی تک رہتی تو گاڑی چلتی رہتی، یہ تو کھچڑی پکانے لگیں جو کپتان کو پسند نہیں، سو پہلی فرصت میں چلتا کیا۔ اگر آنٹی سی این این جیسی سمجھدار ہوتیں تو پچھلے گھر کے راز اگلے گھر میں نہ کھولتیں کہ چائے پانی کا بھرم قائم رہے، لیکن بھئی پانچ انگلیاں برابر تو نہیں نہ ہوتیں۔ ہمیں نہیں کھلاتے تو تم بھی نہیں کھیل سکتے والے بھی تو ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے سیاست ہو یا کاروبار، بہتر مواقع کے لیے ٹیم کوئی بھی کبھی بھی تبدیل کر سکتا ہے، لیکن وسل بلور whistle blower کو کہیں بھی، کبھی بھی قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ اسے چسکے کے لیے یا حریف کے راز اگلوانے یا اسے نیچا دکھانے کے لیے تو استعمال کرتے ہیں، لیکن قابل اعتباد ساتھی نہیں مانتے اور کچھ عرصے بعد اس وسل بلوور میں ان کی دلچسپی بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔

یہیں ایک ہٹ کی پکی ضدی بچی کا قصہ یاد آ گیا، گھر کی سیڑھی پر بیٹھی مخصوص ہٹ دھرم ضد میں اونچے سروں میں روئے گائے چلی جا رہی تھی، جب کافی دیر کسی نے کان نہ دھرے تو رونے میں بریک لگا کر آواز دی “ارے کوئی تو سن لو، میں رو رہی ہوں” اور پھر رونا شروع۔ یہ کتاب بھی کچھ ایسا “رن رونا” ہی لگتی ہے کہ کوئی تو سن لو، میں رو رہی ہوں۔

یہ بھی دیکھیں

زندہ دلوں کے شہرسے جنت نماوادیوں تک۔۔۔۔خوبصورت سفرنامہ “دعاخان”کے نوک قلم کاشاہکار

ہم سفراپنے ہوں اورمنزل کوئی جنت نماہوتوپھرلمحے ناقابل فراموش بن جاتے ہیں،ایساہی کچھ ہواہے میرے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *