ہوم > کالم > عمران خان کا بی بی سی کو دیا گیا مکمل انٹرویو (ترجمہ) – صوفی نعمان ریاض

عمران خان کا بی بی سی کو دیا گیا مکمل انٹرویو (ترجمہ) – صوفی نعمان ریاض

مترجم: صوفی نعمان ریاض

میزبان (زینب بداوی): آپ کو یہ یقین کیونکر ہے کہ آپ کے پاس وہ مہارت اور تجربہ موجود ہے جس کے ہوتے ہوئے آپ پاکستان جیسے بڑے ملک کا پیچیدہ اور متغیر نظام چلا سکتے ہیں؟
عمران خان: پاکستان کے ساتھ جو مسئلہ ہے وہ دراصل بالکل وہی مسئلہ جو دنیا کے تقریباً تمام ترقی پذیر ممالک کو درپیش ہے، اور وہ مسئلہ ہے اچھی گورننس کا۔ اچھی گورننس نہ ہونے کی وجہ سے ہی ہم لوگ ابھی تک ناکام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ادارے کمزور ہیں اور کمزور ریاستی اداروں کی وجہ سے ہی ہم لوگ ملکی سطح پر اتنا ریونیو اکٹھا نہیں کر پاتے کہ ہم اپنے لوگوں کو ترقی یافتہ بنا سکیں، مختصراً دو بڑے مسئلے ہیں۔ ایک تو ریاستی اداروں کی بحالی اور دوسرا ریونیو اکٹھا کرنا تاکہ ہم اپنے لوگوں پر، ان کی تعلیم، صحت اور صاف پانی وغیرہ پر پیسہ خرچ کر سکیں۔

میزبان: آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ آپ ایک درست آدمی ہیں جو یہ تمام تبدیلیاں پاکستان میں لاسکتے ہیں اور وہ مسائل حل کرسکتے ہیں جن کے بارے میں ہر بندہ جانتا ہے کہ وہ پاکستان کو لاحق ہیں؟

عمران خان: اچھا، اس لیے کہ جو دوسری دو سیاسی جماعتیں ہیں جو پچھلی دہائیوں سے اقتدار میں آنے کی باریاں لگا رہی ہیں وہ ناکام ہو گئیں۔ ان کی حکومتوں میں پاکستانی ادارے کمزور ہوئے، پاکستان کی اعلیٰ عدالت میں ہمارے سابق وزیر اعظم پر کیس چلتا رہا، چیف جسٹس نے عدالت میں کہا کہ پاکستانی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔

میزبان: آپ بات کر رہے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی جس کے چیئرمین اس وقت بلاول زرداری ہیں اور مسلم لیگ ن کی جو کہ حکمران جماعت تھی۔ دیکھیں ہو سکتا ہے کہ اُن کی آپ کی نظر میں کوئی وقعت نہ ہو، آپ ان سے مطمئن نہ ہوں لیکن اس کا مطلب ہم یہ نہیں لے سکتے کہ آپ بہرحال پاکستان میں اچھی گورننس کے لیے ایک موزوں انسان ہیں، کیونکہ ایک مصدقہ عوامی گیلپ سروے کے مطابق آپ کی جماعت تحریک انصاف کی مقبولیت اور محنت کے حق میں لوگوں نے 24 فیصد ووٹ دیے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے 36فیصد ووٹ دیے۔ لہٰذا آپ نے دیکھا؟ کہ ایک بہت بڑا پہاڑ ہے آپ کے آگے جو آپ کو طے کرنا ہے۔

عمران خان: دیکھیں یہ گمراہ کن سروے ہیں، ان پر نہ جائیں، اگر آپ انگلینڈ میں ڈیوڈ کیمرون کا الیکشن دیکھیں تو آپ کو یاد ہوگا کہ اس وقت یہ سوچا جا رہا تھا کہ کنزرویٹو پارٹی اور لیبر پارٹی دونوں ایک جتنے ووٹ لیں گے لیکن پھر آپ نے دیکھا کہ کیمرون نے ایک لینڈ سلائیڈ فتح حاصل کی۔ تو یہ سروے وغیرہ تو بس ایویں ہی ہوتے ہیں۔۔۔ جب الیکشن آئے گا، جب الیکشن میں جماعتیں اپنے منشور اور لوگوں کے ساتھ سامنے آتی ہیں تو اس وقت پتہ چلتا ہے کہ حالات کا کیا رُخ ہے۔ اور مجھے (پچھلی بار کی طرح) اس بار بھی یقین ہے کہ میری پارٹی جیتے گی اور اسی لینڈ سلائیڈ وکٹری سے جیتے گی۔

میزبان: لیکن دیکھیں، مجھے یہ بات واضح کرنے دیں کہ آپ یہ عوامی سروے وغیرہ کو تو غلط کہہ سکتے ہیں، لیکن آپ کو معلوم ہے کہ پنجاب میں اگر اکثریت حاصل نہ کر پائے تو آپ قومی الیکشن نہیں جیت سکتے، پاکستان کی آدھی آبادی تو ہے ہی وہاں پر اور پاکستان کا اہم ترین صوبہ بھی یہی ہے۔ ذرا یہ بتائیں کہ ابھی چند ماہ پہلے فروری میں، وہاں ضمنی انتخابات میں آپ کی پارٹی بری طرح ہاری ہے، زیادہ پرانی بات نہیں ابھی یہ گزشتہ فروری میں، خان صاحب! یہ آپ کے لیے اچھی بات نہیں۔

عمران خان: دیکھیں، اگر آپ کو ہماری، یعنی پاکستان کی تاریخ کا پتہ ہو تو آپ دیکھیں گی کہ پاکستان میں ضمنی انتخاب ہمیشہ وہ جماعت جیتتی ہے جو اقتدار میں ہو۔ جب ن لیگ اپوزیشن میں تھی 2002سے 2007 کے درمیان تو وہ بھی مسلم لیگ ق سے سارے ضمنی انتخابات میں ہاری تھی لیکن عام انتخاب میں جیت گئی اور یہی سب پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ہوا۔ اس لیے، اب عوامی سرویز کے بعد، ضمنی انتخاب بھی کوئی اچھا معیار نہیں ہے کسی جماعت کی مقبولیت پرکھنے کا، ہاں! لیکن ضمنی انتخاب ایک پارٹی کے ابھرنے کی طرف اشارہ کر سکتا ہے، آپ ذرا یہ دیکھیں کہ کچھ عرصہ پہلے کے سرویز کا نتیجہ دیکھا جائے تو تحریک انصاف بہت نیچے تھی لیکن اگر ابھی آپ دوبارہ کوئی سروے کروا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ ن کی سطح پر ہے۔

میزبان: اچھا، ویسے ابھی تک آپ نے خود کو “بارلا” یعنی باہر کا بندہ بنا کر پیش کیا ہے، یعنی جیسے کوئی اوپر سے اُڑ کر آتی ہے اور وہ ایک گندے اور کرپٹ نظام کے خلاف لڑتی ہے، آپ ایک نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں لیکن آپ کی اپنی سوچ، ارادوں، پالیسیوں میں ایسا کیا مختلف ہے؟ وہ تو سب کچھ پہلے جیسا لگتا ہے، یہ سب باتیں تو بالکل وہی پہلےنعروں روٹی کپڑا اور مکان جیسی ہیں۔

عمران خان: دیکھیں جو پہلے والی دو جماعتیں ہیں ان کی پالیسیز اور منصوبوں نے امیروں کو امیر اور غریبوں کو غریب کیا ہے، اس لیے امیروں اور غریبوں کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس امیروں کا ایک چھوٹا سا جزیرہ اور غریبوں کا ایک بہت بڑا سمندر ہے۔ اور یہ فرق مزید بڑھ رہا ہے صرف ان دونوں جماعتوں کی پالیسیز کی وجہ سے۔ اب ہم کیوں مختلف ہیں؟ تو میں وہی بات دوبارہ کروں گا کہ ہم واحد جماعت ہیں جو سیاسی ادارے بناسکتے ہیں۔ سب سے زیادہ مشکل کام پولیس کے ادارے کو بحال کرنا ہے۔ لیکن کے پی میں، یعنی پختونخواہ، یہ پختونخواہ وہ صوبہ ہے جس میں ہماری جماعت پانچ سال بر سر اقتدار رہی۔ یہ وہ صوبہ ہے کہ جس کے بارے میں ہر عوامی سروے کہتا ہے کہ سب سے اچھی پولیس خیبر پختونخواہ کی ہے۔ وجہ یہی ہے کہ ہم نے اسے غیر سیاسی کردیا، میرٹ پر نوکریاں دیں۔ اب یہ ایک بہترین ادارہ ہے، 2013 تک پولیس کا ادارہ ویسے ہی طالبان نے دہشتگردی نے تباہ کر دیا تھا سب سے زیادہ یہ ادارہ نشانہ بنا، لیکن اب یہ بہترین ادارہ ہے۔ جو جماعتیں ادارے تباہ کردیتی ہیں وہ کبھی دوبارہ وہ ادارے نہیں بنا سکتیں۔

میزبان: آپ اپنے صوبے خیبر پختونخواہ کے ریکارڈ کی بات کرتے ہیں، خورشید شاہ (قائدحزب اختلاف) کہتے ہیں کہ عمران خان کے پاس ایک نادر موقع تھا کہ اپنا ایجنڈا مکمل طور پر خیبر پختونخواہ میں متعارف کرواتا لیکن عمران خان ناکام رہا۔ خان کہتا ہے کہ وہ 1 کروڑ نوکریاں دے گا لیکن وہ 5 ہزار نوکریاں بھی نہیں دے سکتا۔ بات تو صحیح ہے۔

عمران خان: ایک بات ہے بس، خیبر پختونخواہ پاکستان کے سب صوبوں میں واحد صوبہ ہے جو کسی جماعت کو دوسری بار موقع نہیں دیتا، وہ صرف ایک بار موقع دیتا ہے، جیسے ایم ایم اے کو ایک بار 2002 میں موقع ملا لیکن بعد میں فارغ ہو گئی۔

میزبان (بات کاٹتے ہوئے) : میرا پوائنٹ یہ ہے کہ آپ کے پاس اپنا ایجنڈا ثابت کرنے کا بہترین موقع تھا، آپ نے نہیں کیا۔ یہ بتائیں کہ کیوں نہیں؟

عمران خان: میں، میں وہی کوشش کررہا ہوں، اسی طرف آ رہا ہوں، عوامی نیشنل پارٹی کو بھی ایک موقع ملا، فارغ ہو گئی، اب آج، سارے سروے اب آپ دیکھیں کہ۔۔۔ (اینکر نے پھربات کاٹ دی)
میزبان: خان صاحب! آپ نے کتنی ملازمتیں پیدا کیں اپنے صوبے میں؟ کیا آپ نے نئی یونیورسٹی بنائی وہاں؟ کیا آپ نے نیا ہسپتال بنایا وہاں؟ یہ بتائیں بس!

عمران خان: سب سے پہلے تو آپ اگر سارے سروے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ تحریک انصاف کے ووٹ آج ڈبل ہو گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے منشور کے وعدے پورے کیے ورنہ لوگ کیوں کہیں گے کہ وہ دوبارہ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے؟ تو یہ ہے وہ معیار بجائے اس کے کہ آپ دیکھیں اپوزیشن کیا کہہ رہی ہے۔ پختونخواہ تمام انسانی ترقیاتی شعبوں میں سب سے آگے ہے، حالیہ گیرالڈ سروے کے مطابق پختونخواہ صحت میں سب سے آگے ہے۔ قانونی ادارے بہتر ہیں، پولیس نمبر ون ہے، ماحول، ماحول کی تو بات ہی نہ کریں، پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں کسی صوبے نے ایک ارب درخت لگائے ہیں۔

میزبان: اچھا، لیکن کیا آپ نے نئی یونیورسٹی بنائی خیبر پختونخواہ میں؟ کیا آپ نے نیاہسپتال بنایا خیبر پختونخواہ میں؟ کیا آپ نے جابز پیدا کیں وہاں جو آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ پاکستان میں پیدا کریں گے؟

عمران خان: خیبر پختونخواہ میں غربت آدھی رہ گئی ہے۔ سب سے پہلے آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کے پی وہ صوبہ تھا جس پر دہشتگردی کے خلاف جنگ کا سب سے زیادہ اور برا اثر پڑا۔ یہ تباہ ہو چکا تھا۔ 70فیصد انڈسٹری اس کی بند ہو چکی تھی۔ باقی سارے صوبوں میں کل ملا کر 99 دہشتگردانہ حملے ہوئے تھے جبکہ کے پی میں 200 حملے ہوئے، صرف ایک اکیلے کے پی میں، کے پی تباہ ہو چکا تھا۔

میزبان: مجھے کنفیوز کر دیا ہے آپ نے خان جی، میں پوچھ کچھ رہی ہو آپ سیکورٹی صورتحال لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ دیکھیں میں آپ سے سماجی پالیسی کے بارے میں بات کرنا چاہ رہی ہو ں۔ آپ نے غربت اور عدم مساوات پر بہت باتیں کی ہیں نا؟ اب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ اپنے طور پر اپنی الیکشن کمپین میں تو یہ بات بہت کہتے ہیں کہ “ایک مہذب معاشرہ اونچے اور خوبصورت گھروں سے نہیں بنتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ چھوٹے چھوٹے ٹوٹے پھوٹے گھروں میں کیسے رہتے ہیں؟ جبکہ خود آپ ایک خوبصورت ولا نما محل، یا محل نما ولا میں رہتے ہیں جو پہاڑیوں میں اسلام آباد کے پاس ہے اور اس کی قیمت کئی ملین ڈالرز تک ہوسکتی ہے۔ اور یہ بات آپ کی عوامی اور سیاسی صورت کے بالکل منافی ہے، کیا نہیں ہے ایسا؟

عمران خان: دیکھیں، میں کسی بھی گھر میں رہتا ہوں۔ اگر وہ گھر میں نے قانونی طریقے سے ٹیکس ادا شدہ پیسوں سے بنایا ہے اور مجھے پسند ہے وہاں رہنا تو وہ میرا مسئلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرے دل میں لوگوں کی محبت نہیں، میں نے جو کیا ہے وہ سنیں، میں پاکستان کا سب سے بڑا سخی ہوں۔ میں نے پاکستان کا سب سے بڑا خیراتی ہسپتال بنایا جہاں 75فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، میں نے دوسرا بڑا خیراتی کینسر ہسپتال بنایا۔

(اینکر نے دوبارہ بات کاٹ دی) میزبان: خان صاحب آپ کو بات نہیں سمجھ آئی؟ آپ کو پتہ ہے مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہےکہ آپ لاکھوں کروڑوں کے بنگلے میں رہتے ہیں اور آپ جھونپڑیوں میں رہنے والے غریبوں کے بارے میں تبلیغ کرتے ہیں۔

عمران خان: یہ گھر میں نے اپنے لندن فلیٹ کو بیچ کر بنایا تھا جو میں نے اپنے کرکٹ کھیلنے والے دور میں بنایا تھا۔ یہ گھر اس فلیٹ سے مہنگا نہیں ہے جو میں نے Kensington میں بیچا تھا۔ اور میں یہ بھی بتا دوں کہ میں نے سپریم کورٹ میں، اچھا مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو پتہ ہے یا نہیں کہ مجھے بھی سپریم کورٹ میں یہ بتانا پڑا تھا کہ میرے پاس اس گھر کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟ کیونکہ اس وقت وزیر اعظم سے یہ پوچھا جا رہا تھا۔

میزبان: اچھا آپ کی ذاتی رہائش گاہ کا پیچھا چھوڑتے ہیں۔

عمران خان: دیکھیں اس بنی گالہ والے گھر کی قیمت کل ملا کر اس ایک فلیٹ جتنی۔۔۔۔

میزبان: اوکے اوکے، ہوسکتا ہے آپ غلط نہ ہوں۔ اچھا اب سیکورٹی اور مسلح فورسز وغیرہ کے بارے میں بات کرتے ہیں، ایک بات جو ایک الزام مسلسل آپ پر لگایا جاتا ہے، جیسا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اکثر آپ کے بارےمیں کہتی ہیں کہ آپ پاکستانی آرمی کی ایک کٹھ پتلی ہیں، فوج کا ایک مہرہ ہیں۔ کیا آپ واقعی ہیں؟

عمران خان: یہ بات کی نا مریم نے واہ جی واہ، اس کے اپنے پاپا کو ضیاء الحق نے سب کچھ بنایا تھا۔ ضیاء الحق کی آمریت نے بنایا تھا۔

میزبان: لیکن دیکھیں مجھے یہ بھی پوچھنا ہے کہ جب 1999ء میں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تو آپ نے اسے خوش آئند کہا۔ ظاہر ہے آپ نے اس کے خلاف اتنی لمبی کمپین چلائی، حتیٰ کہ اس وقت آپ نے یہ تک کہا کہ آپ کو اگر جنرل مشرف حکومت میں شمولیت کی دعوت دیں تو آپ قبول کریں گے۔

عمران خان: نہیں، نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے ایسا نہیں کیا، نہ کہا حالانکہ آفر تھی مجھے لیکن میں واحد سیاسی راہنما تھا جس نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ اسی جنرل پرویز مشرف نے مجھے جیل میں ڈال دیا تھا اور (مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے) میں واحد سیاسی لیڈر ہوں جسے جنرل پرویز مشرف نے جیل میں ڈالا تھا۔

میزبان: اچھا ٹھیک ہے، لیکن ابھی کچھ اور باتیں ایسی ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت حساس باتیں ہیں مثال کے طور پر آپ کے بارے میں یہ جو کچھ کہا جاتا ہے کہ آپ پاکستان آرمی کی کٹھ پتلی ہیں، اسکا تعلق انسانی حقوق سے بھی ہے مثال کے طور پر ایمنسٹی انٹرنیشنل 2017-2018 رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز انسانی حقوق کی خلاف ورزی مثال کے طور پر تشدد، ماورائے عدالت قتل، حبس بے جا، افراد کو لاپتہ کر دینا وغیرہ کی جاتی رہیں۔ کیا آپ کو ان معاملات پر روشنی نہیں ڈالنی چاہیے؟ کیا آپ کو ان باتوں کا دھیان نہیں کرنا چاہیے؟ بجائے اس کے کہ آپ ہُوہا کرتے رہے ہیں اور کہتے رہیں کہ ہم نے کے پی میں سیکورٹی فورسز کو بحال کر دیا ہے اور وغیرہ وغیرہ

عمران خان: اچھا میں ایک پوائنٹ ذرا کلیئر کر دوں۔ آپ نے کہا کہ مریم نے کہا ہے کہ مجھے فوج لائی ہے، اوہ میرے پیچھے 22سالوں کی کوشش ہے۔ اس کے والد کو کوئی نہیں جانتا تھا، انہیں فوج نے اٹھایا اور وزیر اعظم وزیر اعلیٰ بنا دیا، میں تو 22 سال سے کوشش کر رہا ہوں اور اگر کوئی آپ کو بتائے کہ 29 اپریل کو پاکستان میں ایک بہت بڑی ریلی نکلی، تاریخی ریلی جس میں کوئی پانچ لاکھ لوگ نکل آئے، جب آپ کے ساتھ لوگ ہوتے ہیں تو آپ کو کسی بیساکھی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جیسا کہ نواز شریف کو آرمی لیکر آئی تھی، لوگ نہیں لائے۔ اچھا ایک تو یہ بات، دوسری بات یہ کہ آرمی اپنے چیف پر انحصار کرتی ہے، جنرل ضیاء کی آرمی اور تھی، مشرف کی آرمی اور تھی، اب باجوہ کی آرمی اور ہے۔ لہٰذا میں مشرف کی آرمی کی مخالفت کرتا ہوں کیونکہ قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کا حامی نہیں تھا۔
میزبان: اچھا اب آپ موجودہ آرمی چیف پر آگئے ہیں اور آپ نے ان کے حوالے سے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ اب میں ایک اور بات۔۔۔۔

عمران خان: (بات کاٹتے ہوئے) لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ جنرل باجوہ کیوں بہتر ہے۔

میزبان: دیکھیں میں جنرل باجوہ کے حوالے سے کوئی تنقید نہیں کرنے والی میں بس یہ چاہتی ہو ں کہ آپ مزید کچھ بولیں ان گندے انڈوں کے بارے میں اور ان کی حرکتوں کے بارے میں جن پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو تحفظات ہیں۔

عمران خان: دیکھیں میں نے پاکستانی آرمی کو قبائلی علاقوں میں بھیجنے کی مخالفت کی، کیوں؟ کیونکہ جب بھی آپ رہائشی اور آباد علاقوں میں فوج بھیجتے ہیں تو وہاں ہمیشہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کیونکہ آرمی وہاں کسی اور آرمی سے لڑنے نہیں جا رہی وہ گاؤں ہیں، وہاں لوگ رہتے ہیں، میں جنرل باجوہ کو اچھا کیوں کہہ رہا ہوں؟ کیونکہ وہ پاکستانی تاریخ میں پہلا فوجی سربراہ ہے جو جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کرتا ہے۔ اور وہ، وہ سارا گند صاف کرنا چاہتا ہے جو جنرل مشرف کے قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کی وجہ سے پیدا ہوا۔

میزبان: اچھا ٹھیک ہے، اب ایک اور بات جو بلاول بھٹو نے آپ کے بارے میں کی آپ دراصل طالبان کے ہی بیگانے بھائی ہیں۔ کیا آپ پاکستانی طالبان کو کسی بھی شکل میں قبول کرتے ہیں؟ یا ان کی تعریف کرتےہیں؟

عمران خان: دیکھیں بلاول کو معاف کیا جاسکتا ہے، چھوڑیں اسے، اسے پتہ ہی نہیں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ وہ پاکستانی سیاست میں پیرا شوٹ سے آیا ہے، میں نے پاکستانی فوج کی قبائلی علاقوں میں جانے پر مذمت کی۔ اس وجہ سے مجھے طالبان کا حامی سمجھا گیا۔ یہ دراصل جارج بش قسم کی چیز تھی کہ یا تو آپ ایک طرف ہوتے ہیں یا دوسری طرف، یعنی اگر آپ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شامل نہیں تو آپ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔ تو یہ عجیب سی بات ہے۔

میزبان: اچھا تو پھر یہ بتائیں کہ طالبان آپ کے نزدیک کیا ہیں؟ کیونکہ جون 2002 میں آپ نے ورکرز کنوینشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ طالبان کے نظام انصاف سے بہت متاثر اور مطمئن ہیں اور آپ طاقت میں آنے کے بعد ملک میں طالبان والا نظام انصاف ہی رائج کریں گے۔

عمران خان: مجھے بتانے دیں کہ طالبان کا نظام انصاف کیسا ہے؟ کیا ہے؟ یہ وہ نظام تھا جو کہ پشتون کے قبائلی علاقوں میں تھا اور یہ کیا ہے؟ ہر علاقے کی ایک ہر گاؤں کی ایک جیوری ہوتی ہے، وہ معاملات کو سنتی ہے، لوگوں کو مفت انصاف ملتا ہے۔ غریب کو انصاف تک رسائی ملتی ہے، کچھ دیر کے لیے طالبان کو بھول جائیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے اس دہشتگردی کے خلاف جنگ سے پہلے تک سب سے زیادہ پر امن علاقے تھے۔ وجہ کیا تھی؟ انصاف تک رسائی کہ جیوری ہر گاؤں کی ہوتی تھی، وہ دونوں فریقین کو سنتی تھی اور انصاف کرتی تھی اور وہ علاقے جرائم سے پاک تھے۔

میزبان: کیا آپ نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا ہے عمران؟ کیونکہ یہ بات آپ نے 2002 میں کی، جبکہ 2014 میں انہی پاکستانی طالبان نے پشاور میں قریباً 145 لوگوں کو جن میں تقریباً سب بچے ہی تھے انہیں شہید کیا۔ ملالہ پر بھی پاکستانی طالبان نے حملہ کیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو اپنا نمائندہ بننے کا بھی بولا لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ آپ کو پسند کرتے ہیں۔

عمران خان: زینب! 2002ء میں کوئی پاکستانی طالبان نہیں تھے اور جب میں نے وہ بات کی تھی وہ افغان طالبان کے بارے میں تھی۔ پاکستانی طالبان 2006ء میں بنے، اور میں ایک بار پھر بتاتا چلوں کہ آج ہمارے پاس پختونخواہ میں وہی پولیس کا نظام ہے، جس میں ایک جیوری ہوتی ہے اور لوگ انصاف تک رسائی رکھتے ہیں۔

میزبان: کیا آپ پاکستانی طالبان سے اب بات کرتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ان کے ساتھ معاملات طے کر سکتے ہیں؟

عمران خان: وزیر ستان آپریشن کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ طالبان کو افغانستان میں دھکیلا جا چکا ہے۔ اب پاکستان میں مشکل سے جنگجو موجود ہیں۔ ہمیں دراصل اب داعش سے اصل مسئلہ ہےکیونکہ یہ افغانستان میں پاکستانی سرحدوں پر موجود ہے اور مستقبل میں زیادہ خطرہ داعش سے ہے۔

میزبان: اچھا اب دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میں امریکہ کو لیکر کچھ بات کرنا چاہوں گی کیونکہ آپ کی جماعت کی جانب سے امریکہ مخالف جذبات کافی دکھائی دیتے ہیں۔ جیسا کہ شیریں مزاری نے پچھلے دنوں کہا کہ جو بھی امریکہ کا دوست ہے وہ غدارہے۔ امریکہ نے پاکستا ن کو 60 سالوں میں تقریباً 67 بلین ڈالرز دیے اور یہ مانا جاتا ہے کہ زیادہ تر جنگی امداد کی مد میں دیے گئے۔ ظاہر ہے امریکہ آپ کے لیے بہت سخی ثابت ہوا ہے تو آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے۔ کیا آپ امریکہ مخالف ہیں؟

عمران خان: پہلی بات تو یہ کہ شیریں مزاری کے اپنے نظریات اور سوچ ہیں اور ہر سیاسی جماعت میں یہ سب ہوتا ہے، متضاد سوچیں ہوتی ہیں۔ لیکن مجھے اسے واضح کرنے دیں کہ پاکستان اور امریکہ کو دوست بننا ہوگا، امریکہ سپر پاور ہے، لیکن جو بات ہمیں دکھ دیتی ہے وہ یہ ہے کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ افغان معاملات کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے۔ جبکہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے امریکہ کی جنگ میں اپنے 70ہزار سے زائد لوگ شہید کروائے، ہماری معیشت کو 100ارب ڈالرز سے زیادہ کا نقصان پہنچا کیونکہ جنرل مشرف نے ہمیں ایک ایسی جنگ میں الجھا دیا جو ہماری جنگ نہیں تھی اور میں نے اس کی مخالفت کی، اور آخر میں ہمیں پھر ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔

میزبان: کیا اب آپ امریکہ مخالف ہیں؟

عمران خان: اگر میں پاکستانی حکومت کی پالیسیز کی مخالفت کرتا ہوں تو کیا میں پاکستان مخالف ہوں؟ اگر آپ امریکہ میں حکومت کی کسی پالیسی کی مخالفت کرتی ہیں تو کیا آپ اینٹی امریکہ ہیں؟

میزبان: اچھا تو اب آخر کار میں آپ کے سامنے یہ بات لے آئی ہوں آپ کی ذاتی زندگی نے گزشتہ کچھ عرصہ میں بہت سے لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ جیسا کہ آپ کی تین شادیاں، جمائمہ، ریحام اور پنکی سے شادی، کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ حرکتیں آپ کے پیروکاروں میں آپ کا جو ایک بڑا متقی و پرہیزگار ٹائپ امیج ہوتا ہے وہ خراب کر دیں گی؟

عمران خان: نہیں دیکھیں، ذاتی زندگیوں میں بہت سے مسائل ہوتے ہیں، بہت سی چیزیں ہمیں متاثر کرتی ہیں۔ میں بھی اسی قسم کے حالات میں رہا ہوں۔ میرا نہیں خیال کہ لوگوں کو اس چیز سے کوئی تکلیف ہونی چاہیے۔

میزبان: عمران خان آپ کا بے حد شکریہ۔

عمران خان: شکریہ۔
……………….
بشکریہ/دلیل

یہ بھی دیکھیں

اتنا مہنگا کمر بند ، پاگل ہے کیا ؟ وسعت اللہ خان

گذشتہ برس مئی کی بات ہے۔کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں ایک فلیٹ کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *