Thursday , November 15 2018
ہوم > کالم > ’پاسپورٹ چاہیے تو ہندو مذہب اختیار کر لو‘

’پاسپورٹ چاہیے تو ہندو مذہب اختیار کر لو‘

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ایک ہندو خاتون اور ان کے مسلمان شوہر نے الزام عائد کیا ہے کہ لکھنؤ کے پاسپورٹ آفس کے ایک اہلکار نے ان سے کہا کہ ’اگر پاسپورٹ چاہیے تو ہندو مذہب اختیار کر لو‘۔

محمد انس صدیقی اور تنوی سیٹھ نے 11 سال قبل شادی کی تھی لیکن شادی کے بعد تنوی نے اپنا نام نہیں بدلا تھا۔

انھوں نے اپنے نئے پاسپورٹ اور اپنے شوہر کے پاسپورٹ کی مدت میں توسیع کے لیے علاقائی پاسپورٹ آفس سے رابطہ کیا لیکن جب انھیں پاسپورٹ جاری نہیں کیے گئے تو وہ بدھ کو لکھنؤ کے ریجنل پاسپورٹ آفس پہنچے جہاں مبینہ طور پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
لکھنؤ میں ایک پرس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنوی سیٹھ نے کہا کہ وکاس مشرا نامی افسر نے ان سے شاید اس لیے بدسلوکی کہ وہ ہندو ہیں اور ان کے شوہر مسلمان۔

’افسر نے کہا کہ شادی کے بعد ہر لڑکی اپنا نام بدلتی ہے، تم نے کیوں نہیں بدلا؟‘

تنوی سیٹھ نے کہا کہ ان سے پھیرے لینے اور گایتری منتر پڑھنے کے لیے کہا گیا۔

تنوی سیٹھ نے ٹوئٹر پر انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سواراج سے رابطہ کیا جس کے بعد وکاس مشرا کا تبادلہ کر دیا گیا ہے جبکہ لکھنؤ کے ریجنل پاسپورٹ افسر نے تنوی سیٹھ اور محمد انس سے معافی مانگی ہے۔

وکاس مشرا نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ضابطوں پر عمل کر رہے تھے اور یہ کہ تنوی نے انھیں ایک نکاح نامہ دکھایا تھا جس میں ان کا مسلمان نام لکھا ہوا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اپنا نام بدلا تھا لیکن پاسپورٹ اپنے پرانے نام پر حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

ریجنل پاسپورٹ افسر (آر پی او) پیوش ورما کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد کسی بھی لڑکی کے لیے اپنا نام بدلنا لازمی نہیں ہے جس کے بعد تنوی اور انس کو فوراً پاسپورٹ جاری کر دیے گئے۔

انڈیا میں گذشتہ چند برسوں میں مذہبی منافرت بڑھی ہے اور عدم رواداری کے واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔

اسی ہفتے دلی کے قریب ہی ایک مشتعل ہندو ہجوم نے دو مسلمانوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ان میں سے ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔

مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ گوکشی کے نام پر کیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسے جائے وقوع سے نہ کوئی گائے ملی اور نہ کوئی ایسی تیز دھار چیز جس سے گائے ذبع کی جا سکتی ہو۔ اس مقدمے میں دو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اسی ہفتے لکھنؤ ہی کی ایک خاتون پوجا سنگھ بھی سرخیوں میں رہیں۔ انھوں نے ٹیلی کام کمپنی ایئر ٹیل کے ایک مسلمان ملازم کی خدمات استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

لیکن سب سے زیادہ ہنگامہ ہندو لڑکیوں اور مسلمان لڑکوں کے درمیان شادیوں پر ہوا ہے جسے ہندو قوم پرست تنظیمیں ’لو جہاد‘ کا نام دیتی ہیں۔

ان کا الزام ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو پھنسا کر ان سے شادیاں کرتے ہیں اور یہ ایک وسیع تر سازش کے تحت کیا جارہا ہے۔

انڈیا کی ایک عدالت نے گذشتہ برس کیرالہ کی ایک ہندو لڑکی اور مسلمان لڑکے کی شادی کو منسوخ کردیا تھا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا جہاں اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا لیکن سپریم کورٹ کی ہی ہدایت پر قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) ’لو جہاد‘ اور اس کے پیچھے مبینہ طور پر کارفرما منظم سازش کے الزامات کی تفتفیش کر رہی ہے۔

این آئی اے عام طور پر دہشت گردی کے واقعات کی تفتیش کرتی ہے۔

انڈیا میں حزب اختلاف کا الزام ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے مذہبی منافرت کے خلاف واضح پیغام نہیں دیا ہے اور جب اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں تو وہ دانستہ طور پر خاموش رہتے ہیں۔
بشکریہ/ سہیل حلیم بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *