Sunday , November 18 2018
ہوم > انٹرنیشنل > فیفا ورلڈکپ: بوسہ لینے کی کوشش پر خاتون صحافی برہم

فیفا ورلڈکپ: بوسہ لینے کی کوشش پر خاتون صحافی برہم

ایک برازیلی سپورٹس رپورٹر کو لائیو کوریج کے دوران اس وقت ایک شخص سے لڑنا پڑا جب اس نے ان کا بوسہ لینے کی کوشش کی۔

یہ واقعہ روس میں جاری فٹبال ورلڈ کپ میں جاپان اور سینیگال کے درمیان ہونے والے میچ کے دوران پیش آیا۔

جولیا غیمارائس اتوار کو جاپان اور سینیگال کے میچ کی براہ راہست رپوٹنگ کر رہی تھیں جب ایک شخص ان کی جانب بڑھا اور ان کو بوسہ دینے کی کوشش کی۔

خاتون صحافی اس شخص کی اس حرکت سے خود کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہیں اور اس کی سخت الفاظ میں مزمت کی۔

انھوں نے اسے کہا کہ ‘ایسا پھر کبھی مت کرنا۔ کبھی نہیں۔ میں نے تمھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی مہذب۔ عورتوں کی عزت کرنا سیکھو’۔

اس شخص کو ویڈیو میں معافی مانگتے سنا جا سکتا ہے۔
ٹی وی گلوبو اور سپورٹ ٹی وی کے لیے کام کرنے والی جولیا غیمارائس نے کہا کہ ان کے ساتھ برازیل میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ لیکن روس میں ان کے ساتھ ایسا دو بار ہوچکا ہے۔

اس واقعے کے بعد انھوں نے گلوبل سپورٹے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوفناک واقعہ تھا اور وہ بے بس اور کمزور محسوس کر رہی تھیں۔

‘میں نے تو اس بار اس شخص کو جواب دے دیا لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ لوگ ایسی حرکت کرنا ٹھیک کیوں سمجھتے ہیں’

یاد رہے کہ مارچ میں برازیل سے تعلق رکھنے والی متعدد خاتون سپورٹس رپوٹروں نے ایک ویڈیو بنائی تھی جو انھیں ہراساں کیے جانے کے مسئلے کے بارے میں تھی۔

یہ ویڈیو DeixaElaTrabalhar # نامی مہم کا حصہ تھی اور اس کا مطلب ہے ‘اسے کام کرنے دو’۔

گذشتہ ہفتے کولمبیا سے تعلق رکھنے والی نامہ نگار جولیتھ گونزیلز تھریان جرمن ٹیلی ویژن ایسپینل کے لیے ماسکو میں ٹی وی کیمرے کے سامنے کھڑی تھیں جب ایک شخص نے زبردستی انھیں دبوچ کر بوسہ لیا۔

وہ خاتون صحافی اپنی نشریات کے دوران شائقین کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے مسئلے پر بات کر رہی تھیں۔

یہ بھی دیکھیں

18 سال سے کم عمر افراد یہ لنک نہ کھولیں : جمال خشوگی کے قتل کی تصاویر جاری ۔۔۔۔۔ قاتل کی اصل تصویر اور طریقہ واردات دیکھ کر آپ کا سانس خشک ہو جائے گا

انقرہ ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ترکی میں قتل ہونے والے صحافی جما ل خشوقجی کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *