Monday , December 17 2018
ہوم > کالم > وئیر یو وانٹ ٹو گو۔۔؟؟؟۔۔تحریر:۔مناظرعلی

وئیر یو وانٹ ٹو گو۔۔؟؟؟۔۔تحریر:۔مناظرعلی

حجاب میں وہ خوبصورت لگتی ہے تواس میں اس کابھلاکیاقصورہے؟اسے معلوم ہے کہ عورت اپنے جسم کوڈھانپ کربھی امورسرانجام دے سکتی ہے بلکہ احسن اندازمیں دے سکتی ہے،بچپن سے جوانی تک کاسفر،سکول،کالج اوریونیورسٹی،پھرعملی زندگی کاآغازکیاتوہرموقع پراصولوں پرسمجھوتہ نہیں کیا،عزت نفس کومجروح نہیں ہونے دیا،مردوں کے معاشرے میں سراٹھاکرکیسے چلاجاتاہے اسے کافی گرآتے ہیں مگرپھربھی وہ ایک صنف نازک ہےاس کااسے بخوبی اندازہ ہے تبھی تووہ زیادہ محتاط ہے،مردوں کے تمام ذومعنی جملوں کے معانی اورشرافت کے لبادے میں چھپے بھیڑیئے کوپہچاننے کی حس بھی اس کی خداداد صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔لڑکیاں اگرایسے ہی مضبوط ہوں اورعقل وشعورکاہتھیاراستعمال کرنے والی ہوں توپھرڈرنے کی کوئی بات نہیں،برائیوں کی بھیڑ میں بھی اچھائی کی شمع جلائے رکھناپھراتنا بھی مشکل نہیں۔۔
عالیہ(فرضی نام) نے جب بتایاکہ اسے بس سٹاپ پرمختلف افرادکی جانب سے گھورنے کاسامناہے اورکل ایک رکشے والے کم عمرلڑکے نے اسے لفٹ دینے کااصرارکیا، نہ ماننے پراس نے جاتے جاتے آنکھوں کی تعریف بھی کردی،یہ تعریف دراصل مثبت نہیں تھی بلکہ یہ ایک نشترتھاجس کااحساس اسے کافی دیربعد تک رہا۔۔اس نے بتایاکہ آگے چل کرایک تھوڑا پڑھے لکھے رکشے والے نے بھی جاتے جاتے اسے جملہ کس دیا۔۔”ویئریووانٹ توگو؟؟”۔۔۔۔حدہی نہیں ہوگئی،،ایک ہی روزاتنے جملے سننا پڑیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔میراخیال ہے کہ یہ مرض ہمارے معاشرے میں خاصاپایاجاتاہے حالانکہ مختلف ادوار میں اس حوالے سے قوانین بھی بنائے گئے مگرشایدہمارے سسٹم میں ایسی خرابی ہے کہ قوانین بن جاتے ہیں،ان پرعملدرآمدنہ ہونے کے برابرہوتاہے۔۔پہلی چیزتویہ ہے کہ جوہواسو ہوا،ہمیں اگلی نسلوں کومہذب شہری بنانے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے،سب سے پہلا کام شعورہے جسے بیدارکرنے کی ضرورت ہے۔والدین سب سے پہلی درسگاہ ہے جوکسی بھی انسان کوسنوارنے یابگاڑنے میں بنیادی کرداراداکرتے ہیں،سن شعورمیں قدم رکھتے ہی بچے کوشرم وحیاکاپیکر،تہذیب،اچھائی برائی کی تفریق اورمذہبی احکامات کاپابندبناناضروری ہے اوریہ سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہے تاکہ بچہ ذہنی طورپرتیارہوکہ اسے گھرکے اندراورباہرکس طرح سے رہنا،برتاؤ کیسے لوگوں سے کس طرح کرناہے اورخواتین کامقام اوران کی عزت کس طرح کرنی ہے۔۔گھرکے بعدتعلیمی ادارہ بچے کادوسرا گھرہوتاہے جہاں وہ گھرکے بعدزیادہ وقت گزارتاہے،اساتذہ کوتبھی والدین کادرجہ دیاجاتاہے کہ انہوں نے طلباء کودرست سمت کی طرف لے کرجاناہے،انہیں رٹے کی بجائے صحیح تعلیم دینی ہے اوراخلاقیات کابھی ایسا درس دیناہے جس پروہ عمل کرے اور پھر والدین اوراساتذہ دونوں کے لیے قابل فخر بن جائے۔۔
اگروالدین کی تربیت،اساتذہ کے اسباق کے بعدبھی کچھ کسر رہ جائے توپھرہمارے قانون میں اتنی مضبوطی ہونی چاہیے،اداروں کانظام ایساہوناچاہیے کہ کوئی خلاف ورزی کرنے کی جرات نہ کرے،سزاؤں میں کسی کوبھی رعایت نہ ہواورجیلوں میں وی آئی پی درجہ بندیاں نہ ہوں توپھرقانون شکنی کرنے سے پہلے لوگ ہزار بارسوچیں۔۔۔اگرایسا نہ ہوا توہماری بہنیں،ہماری بیٹیاں اورسب خواتین معاشرے میں ایسے ہی رکشے والوں سے جملے سنتی رہیں گی،انہیں عدم تحفظ کااحساس رہے گا،وہ خود کوکبھی محفوظ نہیں سمجھیں گی۔۔صاحبان اقتدارقوم کی بیٹیوں کواپنی بیٹی سمجھیں تومسائل جڑسے ختم ہوجائیں گے ورنہ یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے ایک دن بدترین صورتحال بھی اختیارکرسکتاہے۔۔سوچنے کی بات ہے،غوروفکرکامقام ہے اوراس برائی کیخلاف
مضبوظ آوازبلندکرنے کا وقت ہے۔۔۔
تعارف: محمدمناظرعلی کا تعلق صوبہ پاکستان کے پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ پچھلی ا یک دہائی سے زائدعرصہ سے لاہورشہرمیں قیام پذیرہیں،مختلف بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلزمیں کام کا تجربہ رکھتے ہیں،روزنامہ خبریں کے پنجابی اخباراور بھلیکھا پنجابی اخبار میں خاصاعرصہ”سانجھی پیڑ”کے نام سے کام لکھتے رہے،پنجاب ٹی وی میں انچارج نمائندگان کے فرائض سرانجام دیتے رہے، دوہزاردس سے وہ لاہورکے سٹی نیوزچینل سٹی نیوزنیٹ ورک کیساتھ وابستہ ہیں،مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پربلاگ بھی لکھتے ہیں۔۔۔صحافت کے طلباء کے لیے”کلیدصحافت” کے نام سے ایک کتاب لکھی جسے خالدبک ڈپولاہورسے شائع کیاگیا،سماجی کاموں میں پیش پیش ہوتے ہیں،صحافیوں کی فلاح وبہبودکے لیے کام کرنے والی “یونائٹڈجرنلسٹ فورم آف پاکستان”نامی تنظٰیم کے سینئرنائب صدر بھی ہیں۔۔۔ان سے نیچے دیئے گئے ای میل ایڈریس اورفیس بک آئی ڈی پررابطہ کیاجاسکتاہے

یہ بھی دیکھیں

مرغیاں اورکٹوں کاحکومتی منصوبہ۔۔نون لیگ بھی شریک گناہ ہے۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

مرغی پہلے آئی یا انڈا، یہ ایک جانا پہچانا مخمصہ ہے اور بارہا مباحث میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *