Sunday , October 21 2018
ہوم > پاکستان > لیاری کے مسائل اور پیپلزپارٹی کا انتخابی امتحان

لیاری کے مسائل اور پیپلزپارٹی کا انتخابی امتحان

ملک میں عام انتخابات کا دنگل لگنے کو ہے اور اس کے لیے امیدوار بھی میدان میں آگئے ہیں، انتخابی اکھاڑے میں ہر امیدوار اپنے اپنے ووٹروں کو سہانے خواب دکھا رہا ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانیاں کراتے نہیں تھک رہا۔
ملک کا معاشی حب ہونے کی حیثیت سے کراچی کو جہاں معیشت میں خاص مقام حاصل ہے وہیں شہر قائد سیاست میں بھی اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہےکہ انتخابات کے موقع پر اس بار بڑی جماعتوں کے قائدین سمیت 8 پارٹی سربراہوں نے روشنیوں کے شہر کا چناؤ کیا ہے۔
ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان جن میں عمران خان، بلاول بھٹو اور شہباز شریف شامل ہیں، انہوں ںے کراچی سے انتخاب لڑنے کے لیےکمر کس لی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے سیاسی کیرئیر کے پہلے الیکشن کے لیے پُرجوش ہیں اور اس کے لیے انہوں نے اپنی جماعت کے سیاسی قلعے لیاری کا انتخاب کیا ہے۔
کراچی بندرگاہ کے قریب آباد تنگ گلیوں پر مشتمل شہر کا قدیم ترین علاقہ لیاری پیپلزپارٹی کی تاریخ میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔

علاقے میں بلوچ، کچھی، میمن، پٹھان، مارواڑی اور اقلیتی برادری کے لوگ بھی بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں اور یہاں آج بھی انگریز دورِ حکومت کی طرز تعمیر کی عمارات علاقے کے قدیم ہونے پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہیں۔
لیاری کا علاقہ ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے اور یہاں سے پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی الیکشن میں بھاری ووٹوں سےکامیاب ہوچکی ہیں۔
بے نظیر بھٹو 1988 کے الیکشن میں لیاری سے 72 ہزار ووٹ لے کامیاب فاتح قرار پائی تھیں۔
لیاری میں پیپلزپارٹی کی طرف سے الیکشن میں کامیاب ہونے والے پہلے جیالے مرحوم ستار گبول تھے جو پی پی رہنما نبیل گبول کے چچا تھے، ستار گبول کا شمار پیپلزپارٹی کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور وہ سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی کابینہ میں بھی شامل رہے۔
لیاری میں پیپلزپارٹی کو اپنی سیاسی تاریخ میں صرف ایک بار شکست کا سامنا رہا اور 1997 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست سے اس کے امیدوار عبدالکریم جت کو (ن) لیگ کے فاروق اعوان کے ہاتھوں شکست ہوئی لیکن یہ شکست ایک سخت مقابلے کے بعد صرف 300 ووٹوں کے فرق سے تھی۔
فاروق اعوان نے اس نشست پر 7795 ووٹ لیے جب کہ عبدالکریم جت نے 7357 ووٹ حاصل کیے تھے۔
اس شکست کے بعد لیاری کے عوام نے پیپلزپارٹی کو کبھی مایوس نہیں کیا لیکن پی پی دور حکومت میں ہی فٹبال، باکسنگ، سائیکلنگ، کرکٹ اور جمناسٹک سمیت مختلف کھیلوں کی وجہ سے مشہور لیاری کئی سالوں تک سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں چلنے والے گینگ وار گروپوں کی بھینٹ چڑھا رہا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لیاری دہشت کی علامت سمجھا جانے لگا اور یہاں کے رہنے والے پُرامن شہری بھی دہشت گرد تصور کیے جانے لگے۔
آئے روز کے دنگے فساد اور قتل و غارت گری میں گھرا یہ علاقہ گزشتہ 5 سالوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گینگ وار گروپوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشنز کے باعث اب ایک پُر امن علاقہ بن چکا ہے، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے باعث یہاں ماند پڑنے والی تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہو چکی ہیں۔
لیاری کا علاقہ چیل چوک جو کبھی خوف اور دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور گینگ وار کارندوں کے درمیان اکثر فائرنگ کا تبادلہ جاری رہتا تھا وہاں پر آج زندگی رواں دواں اور کاروباری سرگرمیاں پوری طرح بحال ہیں۔
آج ملک کے دیگر شہروں اور علاقوں کی طرح لیاری میں بھی الیکشن کی گہما گہمیاں عروج پر ہیں اور پی پی کے جیالے اس بار علاقے سے اپنے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم بڑے جوش و خروش سے چلا رہے ہیں۔
حلقے میں جگہ جگہ پارٹی پرچموں اور بینرز کی بہار ہے اور انتخابات میں چند زور باقی رہنے کی وجہ سے سیاسی ٹمپریچر بھی اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے، حلقے میں جگہ جگہ عارضی طور پر قائم کیے گئے انتخابی دفاتر سے پارٹی ترانوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور جیالوں کے فلک شگاف نعرے الیکشن مہم کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔
این اے 246 سے پیپلز پارٹی کے علاوہ اس بار مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے)، پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، تحریک لبیک پاکستان، پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) اور گلوکار جواد احمد سمیت مختلف سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار انتخابات میں مدمقابل ہوں گے۔
قومی اسمبلی کے حلقے این اے 246 سے مجموعی طور پر 16 امیدوار میدان میں ہیں جس میں سے 5 امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اسی طرح این اے 246 میں آنے والے صوبائی حلقے پی ایس 107 پر 23 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں جس میں 10 امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں جب کہ پی ایس 108 پر بھی 9 آزاد امیدواروں سمیت 19 امیدوار میدان میں ہی۔
پیپلزپارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 246 پر بلاول بھٹو زرداری جب کہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پی ایس 107 پر جاوید ناگوری اور پی ایس 108 پر حاجی عبدالمجید امیدوار ہیں۔
حلقے کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے لیاری کے مختلف علاقوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے الیکشن دفاتر کے دورے کیے اور ان سے موجودہ صورت حال اور حلقے کے مسائل پر تفصیلی بات چیت بھی کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے صدر خلیل ہوت نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نئی حلقہ بندیوں کےبعد حلقے کی یونین کونسلوں میں اضافہ ہوا ہے جو اب 14 سے بڑھ کر 19 ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این اے 246 میں لیاری، چاکیواڑہ، بہار کالونی، آگرہ تاج، بنگال آئل مل، بھیم پورہ، لی مارکیٹ، جونا مسجد، نیو کلری، بغدادی، عیدو لین سمیت دیگر کے علاقے شامل ہیں جب کہ این اے 246 میں بلوچ اور کچھی آبادی کی اکثریت ہے، اس کے علاوہ سرائیکی، پنجابی اور پختون بھی یہاں آباد ہیں۔
حلقے کی آبادی 9 لاکھ 8 ہزار327 ہے جس میں سے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 36 ہزار 688 ہے جن کے لیے 242 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے اعدادو شمار کے مطابق 5 لاکھ 36 ہزار 668 ووٹر میں سے 3 لاکھ 5ہزار 940 مرد ووٹرز ہیں جب کہ 2 لاکھ 30 ہزار 478 خواتین ووٹرز ہیں۔
این اے 246 میں پیپلز پارٹی کے 250 سے زائد الیکشن آفس کا افتتاح ہو چکا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر 5 سے 6 الیکشن آفس کھل رہے ہیں، یہ سلسلہ الیکشن سے پہلے تک جاری رہے گا۔
بلاول بھٹو کی طرف سے نبیل گبول الیکشن دفاتر کا افتتاح کر رہے ہیں جو ان کی کوارڈینیشن ٹیم میں شامل ہیں جب کہ سینیٹر یوسف بلوچ مرکزی الیکشن آفس کے انچارج ہیں۔
مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ علاقے کے سابق ایم این اے نبیل گبول نے اپنے دور میں مختلف کمیونٹیز کے لیے کام کیے اور انہیں لاکھوں روپے مالیت کی 11 بسیں فراہم کیں۔
نبیل گبول نے ذوالفقار مرزا کے دور میں عزیر بلوچ کے معاملے پر اختلافات کے باعث پارٹی چھوڑی لیکن دوبارہ واپسی پر انہیں لیاری کے عوام نے دل سے خوش آمدید کہا۔
پی پی جیالوں کا کہنا ہےکہ علاقے میں گینگ وار کا اب کوئی کردار نہیں اور اس وقت پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر عزیر بلوچ کا حمایت یافتہ کوئی بھی فرد الیکشن نہیں لڑ رہا اور نہ ہی پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم میں شامل ہے۔
پی پی جنوبی کے صدر خلیل ہوت کا دعویٰ ہے کہ حلقے میں پیپلزپارٹی کا کسی جماعت سے دور دور تک کوئی مقابلہ نہیں ہے۔
لیکن اس کے برعکس علاقہ مکینوں کا کہنا ہےکہ این اے 246 پر پیپلزپارٹی کا مقابلہ متحدہ مجلس عمل سے متوقع ہے۔
پیپلز پارٹی کے کارکنان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ علاقے میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے ووٹرز کی خاموش اکثریت موجود ہے جو پیپلز پارٹی کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔
خلیل ہوت کے مطابق حلقے میں بغدادی اور کلری سے تقریباً 25 سے 30 ہزار ووٹ یقینی ہیں اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین ایک لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب ہوں گے۔
انتخابی مہم کے آغاز کے دوران لیاری میں جونا مسجد کے قریب پیش آنے والے واقعے پر خلیل ہوت نے بتایا کہ اس واقعے میں کچھ شرپسند شامل تھے، واقعے کے بعد بلاول نے اسی علاقے میں رات پھر دورہ کیا جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
خلیل ہوت کا کہنا ہےکہ کراچی بھر میں پانی کا مسئلہ ہونے کے باوجود لیاری میں روزانہ کی بنیاد پر پانی آتا ہے اور لیاری شہر کا واحد علاقہ ہے جہاں شیڈول کے علاوہ بھی پانی آتا ہے جب کہ علاقے میں سیوریج کا نظام پورے شہر میں سب سے بہتر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران علاقے میں گرلز کالج، لاء کالج، میڈیکل کالج، لیاری یونیورسٹی اور پولی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیاری میڈیکل کالج سے ہر سال لیاری سے تعلق رکھنے والے 15 طلبا ڈاکٹر بن کر نکلتے ہیں جب کہ شہید بے نطیر بھٹو یونی ورسٹی میں ایچ ای سی کے تحت گریجویشن کے نوجوانوں کو اسکالرشپ بھی دی جاتی ہیں، اس کے علاوہ پوزیشن لینے والے طلباء کو صوبائی حکومت کی طرف سے 8 ہزار روپے وظیفہ دیا بھی جاتا ہے۔
خلیل ہوت نے بتایا کہ پیپلزپارٹی نے علاقے میں دل کے امراض کا اسپتال این آئی سی وی ڈی تعمیر کرایا اور علاقے کے نوجوانوں کو سب سے زیادہ سرکاری نوکریاں بھی فراہم کیں لیکن اس کے باوجود اب بھی بیروزگاری علاقے سے بڑا مسئلہ ہے۔
پی پی کے مقامی عہدیداروں کے مطابق پیپلزپارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی شاہ جہان بلوچ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض ہیں اور آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں جو پارٹی سے غداری ہے۔
پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سال کے دوران پی پی حکومت نے علاقے میں فٹبال کا گراؤنڈ بنوایا اور لیاری میں پہلے سے موجود فٹبال گراؤنڈ کی تزئین و آرائش کی گئی، باکسنگ کے حوالے سے آصفہ بھٹو لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خود لیاری آئیں اور انہیں مختلف سازو سامان فراہم کیا، اس کے علاوہ پاک شاہین باکسنگ کلب پر بھی کام جاری ہے۔
دوسری جانب علاقے کے ووٹرز کا کہنا ہےکہ لیاری میں اسپورٹس کی سرگرمیاں نہ ہونا، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بہترین تعلیم کا نہ ہونا بنیادی مسائل ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق حلقہ بندیوں کے نتیجے میں این اے 246 یعنی لیاری کے حلقے کے زمینی حقائق بہت زیادہ تبدیل نہیں ہوئے اور یہاں سے بلاول با آسانی جیت جائیں گے۔
لیاری میں پیپلزپارٹی کے ووٹرز کا مطالبہ ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد اگر بلاول یہ نشست چھوڑتے ہیں تو نبیل گبول کی بجائے آصفہ بھٹو زرداری کو یہاں سے ٹکٹ دیا جائے۔
حلقے میں ایک طرف تو پیپلز پارٹی کو متحدہ مجلس عمل کا چیلنج درپیش ہے تو دوسری جانب پیپلز پارٹی کو اپنے ہی سابق جیالے کی مخالفت کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک متاثر ہو سکتا ہے۔
لیاری سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر یوسی ناظم اور پھر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے والے شاہ جہان بلوچ سے بھی انتخابات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ پیدائشی جیالے ہیں اور 46 سال تک پارٹی کے وفادار رہے لیکن موجودہ انتخابات میں ٹکٹ کے لیے درخواست دینے کے باوجود نظر انداز کیا گیا۔
شاہجہان بلوچ نے کہا کہ انتخابی ٹکٹ کے لیے ایسے لوگوں کو ترجیح دی گئی جن کی پارٹی میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔
سابق ممبر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان کے مرکزی پارٹی قیادت سے کوئی اختلاف نہیں لیکن کراچی کی پارٹی قیادت سے اختلافات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لیاری کے عوام پیپلز پارٹی سے ناراض ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس حلقے میں پی پی کا گراف گرا ہے۔
شاہ جہان کے بقول نبیل گبول نے لیاری سے 90 ہزار ووٹ لیے تھے جب کہ میں نے 2008 کے انتخابات میں 85 ہزار ووٹ لیے تھے۔
شاہ جہان بلوچ نے بتایا کہ وہ 15 سال تک مختلف عہدوں پر فائز رہے اور اس دوران عوام کے درمیان رہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں سے قربت ہے اور پیپلز پارٹی کا ووٹر بھی ان کے ساتھ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو ابتدا میں تو پیپپلز پارٹی کی قیادت نے انہیں نظر انداز کیا لیکن ان کے جلسے دیکھنے کے بعد اب پارٹی کے مرکزی قائدین رابطہ کر رہے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کے صوبائی امیدواروں کو کوئی خاص رد عمل نہیں مل رہا۔
ان کے مطابق علاقے میں پانی کا مسئلہ بھی موجود ہے اور آر او پلانٹس اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے، مصطفیٰ کمال کے دور میں کے تھری کے ذریعے لیاری کو پانی دینے کا پروگرام شروع کیا گیا تھا لیکن کنیکشن چوری ہونے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پانی نہیں پہنچ پاتا جس کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں۔شاہ جہان بلوچ کے مطابق علاقے میں لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ کا بڑا مسئلہ ہے، غربت بہت زیادہ ہے اور ان کے مطابق علاقے کے حالات کی ذمہ داری گزشتہ صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے جس نے لیاری کو لاوارث چھوڑ رکھا تھا۔
پی ایس 107 سے لیاری سے آزاد امیدوار نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں کھیل کی ترقی شامل ہی نہیں رہی اور لیاری کے لوگوں کو اچھے عہدوں پر نوکری کے بجائے چپڑاسی کی نوکریاں دی گئیں، علاقے میں بیروزگاری پر توجہ نہیں دی گئی۔
شاہ بلوچج کا کہنا تھا کہ لیاری میں کھیلوں کا ٹیلنٹ تو موجود ہے لیکن پرویز مشرف کے دور میں ڈپارٹمنٹل اسپورٹس ختم کر دیے گئے تھے جس کی وجہ سے کھیلوں کے فروغ کو بہت نقصان پہنچایا گیا۔
پیپلز پارٹی نے لیاری میں اسکول تو بنائے لیکن بہترین اساتذہ اور ضروری اسٹاف فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار اچھا نہیں ہے اور وہ علاقے میں موجود سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار سے مطمئن نہیں۔
شاہ بلوچ نے کہاکہ یہ بات ٹھیک ہے کہ لیاری میڈیکل کالج سے 15 مقامی بچے ڈاکٹر بنتے ہیں لیکن اتنی بڑی آبادی کے لیے یہ کوٹہ بہت کم ہے اسے 50 تک ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز ( این آئی سی وی ڈی) کے معاملات پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر دیکھتے ہیں، یہ ان کی صوابدید پر ہے کہ وہ کب تک اس ادارے کو ٹھیک سے چلاتے ہیں۔
شاہ جہان بلوچ کا کہنا ہے کہ لیاری کے بچوں کو سیاسی جماعتوں نے مفادات کے لیے استعمال کیا جس کے باعث لیاری کا شناختی کارڈ رکھنا بھی جرم بن گیا تھا، کوئی لیاری سے تعلق رکھنے والوں کو نوکری ہی نہیں دیتا تھا۔
ان کے بقول آصف زرداری کے دور میں لیاری کو 2 ارب کا پیکیج دیا گیا تھا لیکن سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے علاقے کو نظر اندار کیا اور مراد علی شاہ وقت کی کمی کے باعث یہاں کام نہیں کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ قائم علی شاہ کے دور میں لیاری سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کو بھی نوکری نہیں دی گئی جب کہ جس دور میں وہ ایم این اے تھے اس وقت (ن) لیگ کی وفاقی حکومت تھی لیکن صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کی ہونے کے باوجود کوئی مدد نہیں کی گئی۔
شاہ جہان بلوچ نے الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی کے لوگ ان کے پوسٹر اتروا رہے ہیں اور انہیں آزادانہ طریقے سے انتخابی مہم نہیں چلانے دی جا رہی۔
پیپلز پارٹی کے امیدوار جاوید ناگوری کے غنڈے ہمارے بینرز اتروا بھی رہے ہیں اور پھاڑ بھی رہے ہیں۔
شاہ بلوچ نے کہاکہ اسے لیاری کی بدقسمتی کہیں یا پیپلزپارٹی کی خوش قسمتی کہ لیاری کے لوگوں کے پاس پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی متبادل چوائس نہیں ہے لیکن میں چونکہ علاقے کا مقامی ہوں اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کے علاوہ کچھی میمن برادری کی بڑی تعداد بھی میرے ساتھ ہے اس لیے مجھے امید ہے کہ جیت ہماری ہی ہو گی۔

جیتنے کے بعد واپس پیپلز پارٹی میں جانے کے حوالے سے شاہجہان بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ بات ابھی قبل از وقت ہے، انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس حوالے سے اپنے ووٹرز اور معاونین کو ساتھ بٹھا کر فیصلہ کروں گا۔لیاری سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے سابق ممبر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ فاٹا اور قبائلی علاقوں کی طرح لیاری کو بھی آفت زدہ علاقہ قرار دے کر یہاں کے لوگوں کے مسائل حل کیے جائیں کیونکہ یہاں پر بڑی تعداد میں لوگ گینگ وار لڑائیوں، پولیس انکاؤنٹرز اور سیاسی چپقلش کی بھینٹ چڑھ گئے۔
جہاں پیپلزپارٹی لیاری سے کامیابی کا دعویٰ کرتی ہے وہیں متحدہ مجلس عمل کا بھی ماننا ہےکہ لیاری سے ہی پیپلز پارٹی کا عروج شروع ہوا تھا اور 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے اسی حلقے سے اس جماعت کا زوال شروع ہو گا۔
این اے 246 لیاری سے قومی اسمبلی کے لیے ایم ایم اے کے ٹکٹ پر قاری نور الحق بلاول بھٹو زرداری کا مقابلہ کر رہے ہیں جب کہ پی ایس 107 پر ایم ایم اے کے امیدوار فضل الرحمان میہار کا مقابلہ جاوید ناگوری اور پی ایس 108 پر سید عبدالرشید اور پیپلز پارٹی کے امیدوار حاجی عبدالمجید کے درمیان انتخابی ٹاکرا ہو گا۔
سید عبدالرشید نے جیو نیوز کو بتایا کہ لیاری میں کوئی ایک مسئلہ نہیں بلکہ مسائل کے پہاڑ ہیں اور یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لیاری کو ایماندار اور دیانت دار قیادت نہیں ملی۔
لیاری میں مسائل کے پہاڑ
ایم ایم اے امیدوار نے بتایا کہ لیاری کے عوام 15 سے 20 سال سے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، یہاں انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، سیوریج لائنیں ٹوٹی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے گلیوں میں گندا پانی موجود رہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے میں صفائی کا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں جو علاقے کے عوام کے لیے بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے لیاری سے ہی عروج حاصل کیا تھا اور یہیں سے اس کا زوال شروع ہو گا، بلاول بھٹو ہمدردی کا کچھ ووٹ حاصل تو کر لیں گے لیکن وہ یہاں سے کامیاب نہیں ہو سکیں گے، لیاری میں اس بار ایم ایم اے کی پوزیشن بہت مضبوط ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہم ہی جیتیں گے، پیپلز پارٹی کے صوبائی امیدواروں کی تو ضمانتیں بھی ضبط ہو جائیں گی۔
ان کے بقول اگر ایم ایم اے یہاں سے کامیاب ہو جاتی ہے تو لیاری میں انسانی تحفظ کے لیے کردار ادا کرے گی، چاہیں گے کہ سب سے زیادہ سرکاری وسائل نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر استعمال کیے جائیں، سرکاری اسکولوں میں ٹیکنیکل تعلیم کو لازمی کر دیا جائے، ہم یہ بھی چاہیں گے کہ لیاری میں ہنر مند نوجوان طبقہ تیار ہو تاکہ روزگار کا مسئلہ حل ہو۔
سید عبدالرشید کے مطابق پانی اور بجلی کے مسائل حل کرنا تو بنیادی طور پر بلدیاتی نمائندوں کے کام ہیں لیکن ہم قومی اور صوبائی سطح پر جو کردار ادا کر سکے کریں گے۔
ان کے بقول مجلس عمل کا پورا منشور ہی عوام دوست ہے اور ہم چاہیں گے کہ اس پر عمل ہو، لیاری کے ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچائیں گے اور اسپورٹس اینڈ کلچر پر لیاری میں خصوصی طور پر کام کریں۔
یوتھ کے ٹریننگ سینٹرز کے قیام کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور انصاف کو بنیادی ترجیح دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت میں نہ ہونے کے باوجود جماعت اسلامی گزشتہ کئی سالوں سے لیاری میں کئی پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے، ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت لیاری کے 10 ہزار شہریوں کا مفت علاج کرایا، لیاری میں جماعت اسلامی کے 4 میڈیکل سینٹرز کام کر رہے ہیں، اس کے علاوہ تین یوٹیلٹی اسٹورز اور 5 آر او پلانٹس بھی جماعت اسلامی کے تحت کام کر رہے ہیں جس سے روزانہ 7 ہزار گھروں کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے میں ایک ایجوکیشن پروٹیکشن سینٹر کے ساتھ یتیم بچوں کی کفالت کا ایک سینٹر بھی چل رہا ہے جس میں 450 سے زائد بچوں کی کفالت کی جا رہی ہے، ان سینٹر میں آنے والے بچوں کی پہلی جماعت سے 12 ویں تک کے تعلیمی اخراجات جماعت اسلامی برداشت کرتی ہے۔
سید عبدالرشید کے مطابق جب عبدالستار افغانی کراچی کے میئر بنے تو انہوں نے کے ون اور کے ٹو کے ذریعے لیاری کے عوام کے لیے پانی رکھا اور پھر جب نعمت اللہ خان سٹی میئر بنے تو انہوں نے بھی کے تھری کے ذریعے لیاری کو پانی فراہم کیا لیکن اس کے علاوہ کسی بھی حکومت نے لیاری کے عوام کو ایک بوند پانی فراہم نہیں کیا۔
انہوں نےبتایاکہ لیاری جنرل اسپتال کا سنگ بنیاد بھی سابق میئر کراچی عبدالستار افغانی نے رکھا اور جب نعمت اللہ خان سٹی ناظم بنے تو انہوں نے لیاری کے عوام کو دو ڈگری کالجز اور دو پولی ٹیکنیکل کالجز کا تحفہ دیا۔
عبدالرشید کا کہنا تھا کہ اس بار لیاری کے انتخابی نتائج حیران کن ہوں گے اور یہاں سے ایم ایم اے بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی۔
پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل اور دیگر امیدواروں کےدعوے اپنی جگہ لیکن ’اب کی بار دیانت دار‘ اور روٹی، کپڑا، مکان‘ کے نعرے رکھنے والی دو جماعتوں کے درمیان لیاری میں اچھا مقابلہ متوقع ہے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پہلا الیکشن اپنی جماعت کے سیاسی قلعے سے ان کا امتحان ہے، اب دیکھنا یہ ہےکہ علاقے کے لوگ کس کو اپنا نمائندہ چنتے ہیں اور کون سی جماعت لیاری کی گلیوں سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کرپشن کیخلاف مہم جاری لیکن بیرون ملک زیرسماعت ایک ایسے مقدمے میں کرپشن کا انکشاف ہرپاکستانی خون کے آنسو روئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ملک بھر میں تحریک انصاف نے کرپشن کیخلاف مہم شروع کررکھی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *