Monday , August 20 2018
ہوم > انٹرنیشنل > دہلی: کیا اجتماعی خودکشی کا تعلق جادو ٹونے سے تھا؟

دہلی: کیا اجتماعی خودکشی کا تعلق جادو ٹونے سے تھا؟

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کا ایک عام علاقہ براری اس وقت خبروں کی زینت بنا، جب چنداوت خاندان کے 11 افراد اپنے گھر میں مردہ پائے گئے اور اس دوران یہ چہ میگوئیاں بھی ہورہی تھیں کہ یہ کوئی جادوئی عمل یا اجتماعی خودکشی ہے۔ بی بی سی ہندی کے سلمان روی نے اس خاندان اور ان کے آخری وقت کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی ہے
وہ چھوٹی سی گلی جہاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے گھر تھے صحافیوں، پولیس اہلکاروں، سیاستدانوں، سماجی کارکنوں اور متجسس لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ تمام اس کے گلی کے پہلے گھر کے باہر جمع تھے اور ان میں سے کچھ ‘آسیب زدہ’ کی سرگوشی کر رہے تھے۔ یکم جولائی کو اس تین منزلہ گھر سے ہمسائیوں کو چنداوت خاندان کی لاشیں ملی تھیں۔ تمام عینی شاہدین کے مطابق چنداوت خاندان ایک اوسط انڈین خاندان جیسا تھا۔ وہ اس علاقے میں 20 سال سے رہ رہے تھے اور معاشرے میں بھی سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق دس افراد اپنے گھر کی چھت سے لٹکے ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور ان کی آنکھوں اور منہ کپڑے سے ڈھکے ہوئے تھے۔ گیارہویں لاش خاندان کی عمررسیدہ ترین رکن، 75 سالہ نارائن دیوی کی تھی جو دوسرے کمرے میں بستر پر پڑی ہوئی تھی۔ اگرچہ پولیس نے قتل کے پہلو کو یکسر نظرانداز نہیں کیا لیکن تحقیقات ابھی تک ‘اجتماعی خودکشی’ کے حوالے سے کی جارہی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ خاندان کے کچھ افراد ہو سکتا ہے جادو پر یقین رکھتے ہوں۔ پولیس کی توجہ کا مرکز خاندان کے فرد للت چنداوت پر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس شخص کو یقین تھا کہ اس میں اس کے والد کی ‘روح آ گئی تھی’ جن کا سنہ 2008 میں انتقال ہوا تھا۔ ایک ہمسائے سندیپ کا کہنا تھا کہ ‘میرے بچوں نے مجھے بتایا کہ چنداوت بچے اکثر انھیں بتاتے تھے کہ ان کے انکل میں ان کے دادا کی روح ہے۔

گھر سے ملنے والی دستاویزات اور موبائل فونز سے بھی للت چندوات کی ‘روحوں اور بھوتوں’ میں دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ وہ عموما شمشان گھاٹ جاتے تھے اور انٹرنیٹ پر غیرمعمولی پروگرام دیکھتے رہتے تھے۔ للت مبینہ طور پر تین سال قبل سر پر پلائی ووڈ شیٹوں کا ایک گٹھا گرنے سے قوت گویائی سے محروم ہوگئے تھے۔ کچھ ہمسایوں نے بی بی سی کو بتایا کہ للت کا ‘علاج’ ایک معجزہ تھا تاہم کچھ لوگوں نے اس سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان نے انھیں بتایا تھا کہ ایسا طبی علاج کے باعث ہوا۔ پولیس کا ماننا ہے کہ اسی نے اجتماعی خودکشی کی جانب راغب کیا تھا، جس کی بنیاد وہ 11 ڈائریاں ہیں جو انھیں ملیں، جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ للت کی تھیں۔ ایک تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ‘ان ڈائریوں سے ملنے والی تحریر سے مضبوط اعتقاد کا اشارہ ملتا ہے کہ مافوق الفطرت طاقتیں دخل اندازی کریں گی اور انھیں بچا لیں گی جیسے خیال نے خاندان کو خود کو پھانسی دینے کی حوصلہ افزائی کی ہو گی۔’ ڈائریوں کی تحریروں میں درج تھا کہ خاندان کو کیسے ‘خود کو پھانسی’ دینا ہے قبل اس کے انھیں بچایا جا سکے۔ ان میں سے بیشتر ‘ہدایات’ پر بظاہر عمل بھی کیا گیا تھا۔ جمعرات یا اتوار کو ‘منتخب’ دن کے طور پر بتایا گیا تھا۔ پولیس کے خیال میں یہ اموات سنیچر کی شب گئے یا اتوار کی صبح ہوئیں۔
ڈائریوں کے مطابق خاندان کو یہ ‘رسم’ کرتے وقت اپنی آنکھیں اور منہ کپڑے سے ڈھاپنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ ‘آخری دن’ سے پہلے کچھ خاص رسوم سات دن تک بھی ادا کرنا تھیں۔ تحریروں کے مطابق ان کی والدہ دیوی اگر ‘کھڑی نہیں ہوسکتیں’ تو انھیں دوسرے کمرے میں ‘سلا دیا جائے گا۔’ اس میں ‘حتمی عمل’ کے وقت کا ذکر بھی تھا یعنی نصب شب اور رات ایک بجے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اس دن ‘زمین کانپے گی اور آسمان کپکپائے گا اور پھر میں تمہیں بچانے کے لیے آؤں گا۔’ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تاحال یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خاندان کے باقی افراد نے ان منصوبوں پر عمل کیوں کیا۔ پولیس کا ماننا ہے کہ یہ ممکن ہے چنداوت خاندان ‘مشترکہ نفیسیاتی بیماری’ کا شکار ہو۔ پولیس رشتے داروں، دوستوں اور ہمسایوں کے انٹرویوز کے ذریعے مرنے والوں کے بارے میں معلومات جمع کر رہی ہے تاکہ یہ جان سکے کہ کیا ایسا ہی تھا۔لیکن خاندان کے وہ لوگ جو براری میں نہیں رہتے انھوں نے اس تھیوری سے اختلاف کیا ہے، اور ان کا کہنا ہے ڈائریوں میں کچھ لکھائی للت کی لکھائی سے نہیں ملتی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ تحریریں للت کی بھتیجی پرینکا نے لکھے ہوں گے۔ تاہم پرینکا کے کزن وشاکھا اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ وشاکھا کہتے ہیں کہ پرینکا کی حال ہی میں منگنی ہوئی تھی اور وہ اپنی شادی کے بارے میں کافی پرجوش تھی۔ اس خاندان نے جشن کے لیے ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا تھا، علاقے کے بہت سے لوگ بھی مدعو تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں اس خاندان کو اس تقریب میں اکٹھے رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک ہمسائے ٹی پی شرما نے بتایا: ‘کسی کو ان سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ہم نے انھیں کبھی جھگڑتے نہیں دیکھا۔’درحقیقت بہت سارے ہمسایوں کا اصرار تھا کہ ایسا ناممکن ہے کہ انھوں نے خود کو مارا ہو۔ چنداوت خاندان کے گھر نے نچلی منزل پر ان کی دو دکانیں تھیں، ایک گھریلو اشیا اور دوسری پلائی وڈ کی۔ بہت سے مقامی افراد میڈیا کی جانب سے کئی ہفتوں سے جاری توجہ سے عاجز آ چکے ہیں تاہم ہمسائے کے جس خاندان سے بی بی سی نے بات کی انھوں نے بتایا کہ یہ خاندان معاشرے میں فعال تھا۔ کچھ نے کہا کہ انھیں افسوس ہے کہ وہ اس خاندان کو ‘بچانے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔’70 سالہ سری رام جو اس خاندان کو 20 سال سے جانتے ہیں کہتے ہیں کہ ‘ہم بے یارومددگار محسوس کر رہے ہیں۔ جو پولیس دعویٰ کر رہی ہے تو اگر اس بارے میں معلوم ہوتا تو ہم مداخلت کر سکتے تھے۔’ لیکن اس سے اس بات کی وضاحت نہیں ہوتی کہ جس رات خاندان مرا کسی نے کچھ سنا کیوں نہیںبراری کے رہائشی نہال سنگھ کا کہنا تھا کہ ‘گھر میں کوئی غیرمعمولی سرگرمی نہیں تھی جس سے یہ شک پیدا ہوتا کہ چنداوت خاندان کے ساتھ کچھ غلط ہونے جا رہا ہے۔ شام دیر تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ 11 لوگ مر گئے اور کوئی آواز نہیں تھی۔ یہ حیران کن ہے۔ وہ عام لوگ تھے۔’
پوسٹ مارٹم رپورٹوں کے مطابق تمام 11 افراد پھانسی لگنے سے مرے، جن میں 75 سالہ نارائن دیوی بھی شامل تھیں جو دوسرے کمرے میں مردہ حالت میں ملیں تھیں۔ مرنے والوں میں دیوی کی بیٹی، دو بیٹے اور ان کی بیویاں اور 15 سے 33 سال کے عمر کے درمیان ان کے پوتے پوتیاں شامل تھے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ للت کے بھائی نے خود کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس نے خود کو پھندے سے آزاد کرانے کی کوشش کی تھی۔ تفتیش کار ابھی ان ٹیسٹس کا انتظار کر رہے ہیں جس سے پتہ چلے گا کہ کیا اس خاندان کو کوئی نشہ آور دوا دی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چنداوت خاندان کے گھر کے اندر سی سی ٹی وی کیمروں کی تاریں کاٹ دی گئی تھیں، اور موت سے پہلے کے دنوں کی کوئی ویڈیو نہیں ہے۔ لیکن آس پاس علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو سے پولیس جو شک ہے کہ یہ ‘رسم’ 26 جون کو شروع ہوئی تھی جب خاندان کا ایک فرد مندر کے پنڈت سے ملا تھا۔ 28 جون کی ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ للت چنداوت گھر میں مبینہ رسم کی ادائیگی کے لیے لکڑیاں لائے تھے۔ گلی میں سامنے والے گھر پر لگے سی سی ٹی وی کیمرے نے بھی 30 جون کو رات 10 اور 11 بجے کے درمیان کچھ نقل و حرکت دیکھی، جس میں چنداوت خاندان کے افراد پانچ سٹول اور کئی تاریں گھر لے کر آئے تھے۔ یکم جولائی کو صبح چھ بجے تک کسی غیر شخص کو گھر میں جاتے نہیں دیکھا گیا۔ اگلی صبح گھر آنے والا پہلا شخص گوالا اور پھر ایک ہمسایہ گرچرن سنگھ تھا جس نے لاشیں دیکھیں اور بتایا۔ لیکن کس وقت کیا ہوا یہ تاحال ایک معمہ ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز اور رپورٹرز اس کہانی کے مخلتف زاویے سامنے لا رہے ہیں اور چنداوت خاندان کی یہ کہانی ایک بھیانک تھرلر کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔
بشکریہ/بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

ملائیشیا میں ’جھوٹی خبروں‘ سے متعلق قانون ختم کر دیا گیا

ملائیشیا کی پارلیمنٹ نے سابق دور حکومت میں بنایا گیا جھوٹی خبروں سے متعلق قانون …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *