Sunday , October 21 2018
ہوم > کالم > ماسی کی پریشانی – شبیر بونیری

ماسی کی پریشانی – شبیر بونیری

رات کے تین بج رہے تھے اور میں خلاف توقع جاگ رہا تھا۔ میرے ہاتھ میں نوکیلا پنسل تھا، نیند مجھ سے کوسوں دور تھی اور میں سوچوں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ، سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ ابھی سونے کا قصد کیا ہی تھا کہ باہر دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ میں رات کے اس وقت اس دستک کو خیالی دنیا کا کوئی اچانک پلاؤ سمجھنے لگا، اسی لیے اگنور کیا، لیکن ابھی میں خواب گاہ میں داخل ہوا ہی تھا کہ دستک کچھ اس زور سے ہوئی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہوئے، اور یہ سب کچھ نیچرل تھا، کیونکہ رات کے اس پہر نادیدہ قوتوں کی حکمرانی ہوتی ہے، اور ہم جو ٹھہرے بچپن کے دیوانے، اسی لیے اعصاب پر کچھ زیادہ ہی ڈر سوار تھا۔ خیر اس ڈر سے دروازے کی طرف بڑھنے لگا کہ کہیں دستک دینے والا غصے میں دیوار پھلانگ کر اندر ہی نہ آ جائے۔ خود کو تھامنے کی کوشش کی اور خود سے ایک لمحے کے لیے کھسر پھسر کی ” دیکھو اب تم بچے نہیں رہے، کانپنا بند کرو اور دروازہ کھولو، شاباش آگے بڑھو۔” میں ابھی خود کو سمجھا ہی رہا تھا کہ اس بار میرے کانوں میں جو دستک سنائی دی وہ عام نہ تھی، بلکہ مستقبل قریب میں کسی بڑے سانحے کی طرف ایک مظبوط اشارہ تھا۔ میں دروازہ نہ کھولتا تو شاید بہت زیادہ گڑ بڑ ہوجاتی، اسی لیے ہانپتے کانپتے دروزاے کا کواڑ کھولنے لگا۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، سامنے میرا دوست “ماسی” رات کی تاریکی میں چادر اوڑھے کھڑا تھا۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا وہ خود ہی گویا ہوا۔
“میں شاید نہ آتا لیکن بات ہی کچھ ایسی تھی اور میں بغیر اطلاع دیے آپ کو ڈسٹرب کرنے کی معافی چاہتا ہوں۔”
“میں نے پوچھا ” خیریت ہے، ایسی کون سی آفت آن پڑی ہے جو رات کے اس پہر تم اس طرف آنکلے۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہا، میں تھپڑ رسید کرنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ وہ خود اندر آگیا اور میرے کمرے میں بیڈ پر براجمان ہوگیا۔
مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن برداشت کیا۔ خیر ہم بیٹھ گئے، اس نے مسکرا کر سگریٹ سلگایا اور بولنا شروع کیا ۔
“میں شاید نہ آتا لیکن میرے ذہن میں شام سے کچھ ایسے سوالات اور وسوسے تھے جن کی وجہ سے نہ میں سو سکتا تھا اور نہ مجھے سکون مل رہا تھا۔ بہت سوچا کہ کون ایسی کیفیت میں میری مدد کر سکتا ہے۔ کافی سوچ بچار کے بعد تمہارا چہرہ نظروں کے سامنے آیا تو سیدھا ادھر کا رخ کیا۔
میں نے پوچھا ” اب بات بتاؤگے بھی، یا دوں ایک چہرے پر۔”
اس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا، سیدھا ہو کر لیٹ گیا اور کہنے لگا۔
“آپ کا غصہ بجا ہے، لیکن کام ہی کچھ ایسا کرتے ہو کہ مجھے اس وقت آپ کو تکلیف دینی پڑی۔ اب دیکھو نا ہم جیسے لوگ زندگی بھر صرف سکون کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں لیکن یہ دن بہ دن ناپید ہوتا چلا جاتا ہے، لیکن آج سارا دن میں نے سوچا کہ ایسا کیا کیا جائے کہ ہم پاکستان میں مطمئن زندگی گزار سکیں۔ آج میرے پاس ایک زبردست حل ہے جس کو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ آج سارا دن میں سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کے انتخابی نعرے دیکھ رہا تھا اور ان ورکرز کو بھی جو ایک دوسرے کا منہ نوچ ڈالتے ہیں، لیکن اپنے نظریے اور سوچ کو بدلنے کی بالکل کوشش نہیں کرتے۔ جتنی پارٹیاں ہیں وہ تمام انتخابات کے وقت پاکستان کو بدلنے کی قسمیں کھا کھا کر نہیں تھکتیں۔ کوئی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاتا ہے تو کوئی مذہب کا سہارا لے کر معصوم عوام کو ورغلا رہا ہے۔ کوئی قومیت کا لبادہ اوڑھ کر گلے خراب کر رہا ہے اور کوئی تبدیلی کا نعرہ لیکر انتخابی دنگل میں اتر رہا ہے۔ سب کا ایک ہی دعوی ہوتا ہے پاکستان کو دنیا کی تمام اقوام سے ترقی کے دوڑ میں آگے لے جانا۔ تاریخ کو پڑھیں نا، آپ کو لگ پتہ جائے گا کہ یہاں کسی نے کالاباغ ڈیم پر سیاست کا جنازہ نکال دیا تو کسی نے صوبوں کے حقوق پر۔ کسی نے کرپشن کے خلاف تحریک شروع کی تو آخر میں پتہ چلا کہ دنیا کی کرپٹ ٹیم یہی تھی جس نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ میں ان نعروں کو دیکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں ایک سوال آیا جس نے مجھے کافی پریشان کیا۔

میری دلچسپی بڑھ رہی تھی، اسی لیے پوچھ ہی لیا کون سی پریشانی؟
ماسی جو ایک نیا سگریٹ سلگا رہا تھا، دوبارہ گویا ہوا۔
“اگر یہ سب لوگ پاکستان کو حقیقیت ہی میں بدلنا چاہتے ہیں تو ستر سال گزرنے کے بعد بھی ہم کیوں نفرتوں کے بیچ پھنسے ہوئے ہیں؟ کیوں ہم ایک دوسرے کو صرف ایک لمحے کے لیے برداشت ہی نہیں کر پا رہے؟ کیوں پاکستان دن بہ دن مسائل میں گرتا چلا جارہا ہے؟ کیوں ہم جیسے نوجوان محفلوں میں بیٹھ کر یورپ کے کسی خوب صورت مقام کا تصور کرکے آہ بھرتے ہیں۔ کیا ایسا تو نہیں کہ یہ لوگ صرف اپنے لیے ہی یہ ساری جنگ لڑ رہے ہیں۔ کیا ایسا تو نہیں کہ صرف ان کے فائدے کے لیے ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ دست گریباں ہیں؟”
ماسی برابر بول رہا تھا، اس کے احساسات کو میں ایک کالم میں قلم بند نہیں کرسکتا، لیکن جتنا وہ بولتا گیا، اتنا اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہوتے گئے۔ میں دم سادھے بیٹھا بھونکتے کتوں کی آوازوں کے شور میں شاید خاموش ہی رہ جاتا، لیکن وہ دوبارہ بولنے لگا۔
“دیکھو میں ڈر رہا ہوں کیونکہ یہ لوگ صرف اپنے فائدے کا کھیل کھیل رہے ہیں اور ہمارے نقصان کا ان کو بالکل احساس ہی نہیں ہورہا۔”
میں اس کو دلاسہ دینے کی خاطر گویا ہوا، ” دیکھو ایسا کچھ بھی نہیں، اللہ خیر کرے گا، سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا، حوصلہ رکھو۔”
ماسی اٹھا اور آنکھوں میں انگارے لیے دوبارہ مجھ سے مخاطب ہوا، ” کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ کیسے ٹھیک ہوگا، ہماری بہت سی بہنوں کو زدوکوب کیا گیا۔ کچھ ہوا اس کا؟ نہیں کچھ بھی نہیں ہوا۔ پاکستان کے خلاف پاکستان میں لوگ بھونک رہے ہیں، کوئی ان کو کچھ نہیں کہہ رہا۔ یہاں لوگ بھوک اور غربت سے اپنے گردے تک بیچ ڈالتے ہیں لیکن دلاسہ دینے کوئی نہیں آتا۔ کیسے ٹھیک ہوگا یہ سب کچھ ؟ مجھے ان خالی الفاظ سے کوئی دلاسہ نہیں ملتا۔ میں اس ملک کا وہ نوجوان ہوں جو روز خوار ہوتا رہتا ہے، کبھی ہسپتالوں میں، کبھی تھانوں میں، کبھی سڑکوں پر، کبھی مہنگائی کے طوفانوں میں، کبھی بے روزگاری میں اور کھبی اس ملک کے ان چھپے دشمنوں کی وجہ سے، جو رہتے تو اس ملک میں ہیں لیکن دل ان کے دشمنوں کے لیے دھڑکتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ٹھیک ہوگا؟ ہم سب تو نوجوان ہیں اور ملکوں کی تقدیر تو ہم جیسے لوگ ہی بدلتے ہیں، لیکن ہم تو سارا دن سوشل میڈیا کی خرافات میں ڈوبے رہتے ہیں۔ کیسے ٹھیک ہوگا سب کچھ؟ جو اس ملک کو خراب کرنے کے در پر ہیں ہم تو ان کے جلسوں میں ان پر جان نچھاور کرنے کرنے کی ضد کر رہے ہیں۔ کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا، بس اللہ رحم کرے۔ ہم اگر اس ملک کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں سیاستدانوں کے دھوکوں سے نکلنا ہوگا اور ان کو ان کے سامنے ہی یہ احساس دلانا ہوگا کہ پاکستان میں اگر رہنا چاہتے ہو تو پاکستان کی خاطر جینا مرنا ہوگا، ورنہ جاؤ وہاں جہاں تمہاری غلیظ سیاست چل سکتی ہو۔ ہم جب تک ان دھوکے بھرے نعروں سے باہر نہیں نکلیں گے ایسے ہی خوار ہوتے رہیں گے۔”

ماسی یہاں تک کہہ کر خاموش ہوا اور اپنی چادر جھاڑ کر جب جانے لگا تو آخری بات ایسی کہہ دی کہ مجھے بھی رلا دیا۔
“جا رہا ہوں۔ بس رات کے اس پہر تم بھی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو کہ اللہ پاکستان کو دغا بازوں، حرام خوروں اور دشمنوں کی چالوں سے امان میں رکھے۔”
وہ چلا گیا لیکن مجھے میرا پاکستان دے گیا۔ ایسا پاکستان جہاں ان شاءاللہ آج کے بعد میری طرف سے کسی دھوکے باز کو پاکستان کے خلاف کوئی موقع نہیں ملے گا۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *