Monday , August 20 2018
ہوم > انٹرنیشنل > لندن سے اغوا ہونے کے بعد زبردستی سیکس ورکر بنائی جانے والی لڑکی کی کہانی

لندن سے اغوا ہونے کے بعد زبردستی سیکس ورکر بنائی جانے والی لڑکی کی کہانی

واشنگٹن (ویب ڈیسک )اینا رومانیہ سے لندن پڑھائی کی نیت سے پہنچیں لیکن اس سے پہلے انھیں کچھ رقم جمع کرنی تھی۔ تو اس کے لیے اینا نے عارضی نوکری شروع کر دی جس میں صفائی، ویٹرس اور ریاضی کی ٹیوشن دینا وغیرہ شامل تھا۔پھر ایک دن مارچ 2011 میں ان کو گلی

سے اٹھا لیا گیا اور وہاں سے آئرلینڈ پہنچایا گیا جہاں انھوں نے 11 ماہ جیسے جہنم میں گزارے۔اینا اپنے گھر کے بالکل قریب تھیں اور ان کے پاس اتنا وقت تھا کہ گھر جا کر دوپہر کا کھانا پکا سکیں اور پھر وہاں سے صفائی کرنے اپنی نوکری پر چلی جائیں۔ اینا نے ہیڈ فونز پہن رکھے تھے اور بیونسے کا نغمہ سن رہی تھیں کہ اور اس وقت شمالی لندن کے علاقے وڈ گرین میں واقع اپنے مکان کے بالکل قریب تھیں۔اینا کو لندن میں ان کے مکان کے قریب سے اغوا کیا گیااسی دوران انھوں نے اپنی بیگ کو کھولا تاکہ گھر کی تالے کی چابیاں نکال سکیں کہ اچانک عقب سے کسی نے انھیں گردن سے دبوچ لیا اور ان کے منہ کو ڈھانپ دیا اور گھیسٹتے ہوئے سرخ کار میں لے گئے جہاں دو مرد اور ایک عورت موجود تھی اور انھوں نے تھپڑ مارنے شروع کر دیے اور رومانیہ کی زبان میں دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی خاتون نے ان سے بیگ چھین لیا اور اپنے چہرے سے عینک ہٹاتے ہوئے کہا کہ’ اگر وہ اسے جو بتاتے ہیں وہ نہیں کرتی تو رومانیہ میں اس کے خاندان کو گولی مار دی جائے‘۔اینا کے مطابق وہ بالکل نہیں جانتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے

اور انھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ میں ہر ممکن چیز کے بارے میں سوچ رہی تھی جس میں انسانی اعضا اور جسم فروشی، مار دینا شامل تھا ۔۔۔ خدا بہتر جانتا ہے۔’اس خاتون نے میرے بیگ کی تلاشی شروع کر دی تاکہ بٹوا لیا جا سکے۔ اس نے میرے موبائل فون پر تھوڑی دیر پہلے کی گئی فون کالز کو دیکھنا شروع کیا اور اس کے بعد فیس بک فرینڈز کی فہرست دیکھی۔ بیگ میں میرا پاسپورٹ بھی تھا۔‘اینا دیکھ سکتی تھیں کہ کار سے نکل کر بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں لیکن جب وہ ایک ایئر پورٹ پہنچے تو کار میں صرف ایک آدمی رہا گیا اور انھوں نے سوچنا شروع کیا کہ یہ موقع ہے فرار ہونے کا۔۔ کیا وہ ایئر پورٹ سٹاف سے مدد کی درخواست کریں۔ جب آپ بہت زیادہ خوفزدہ ہوں تو آپ کے لیے چیخنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے پاس میرے پیپرز تھے اور وہ جانتے تھے کہ میری ماں کہاں ہیں۔ وہ میرے بارے میں ہر چیز جانتے تھے اور یہ خطرہ تھا جو وہ مول نہیں لینا چاہتی تھیں۔چیکنگ کے کاؤنٹر وہ رو رہی تھیں اور ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا لیکن کاؤنٹر کے پیھچے بیٹھی خاتون نے اس کا نوٹس نہیں لیا، ’جب ایک شخص نے میرا پاسپورٹ اسے دکھایا اور اس نے صرف مسکرا کر بورڈنگ پاس تھما دیے۔
‘’اس شخص نے جوڑا ہونے کا دکھاوا کیا اور اس میں ہم سکیورٹی سے گزرتے ہوئے بورڈنگ گیٹ تک پہنچ گئے اور جہاز کے عقبی حصے میں اپنی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے۔ اس شخص نے کہا کہ رونے اور چیخنے کی کوشش نہ کرنا اور ایسا کرنے کی صورت میں جان سے مار دوں گا۔‘اینا نے جہاز کے کپتان کا اعلان سنا کہ وہ آئرلینڈ کے ایک ایئر پورٹ پر جا رہے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ لینڈ کرنے پر جہاز سے اترتے وقت آنسوؤں سے ان کا چہرہ تر ہو گیا تھا لیکن کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون کی طرح فضائی میزبانوں نے بھی اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔اس موقعے پر اینا نے طے کیا کہ وہ ایئر پورٹ کے اندر پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ جائیں گی لیکن ایئر پورٹ کسی بس سٹینڈ سے بڑا نہیں تھا اور وہاں رومانیہ کے دو مزید افراد انھیں لینے کے لیے کھڑے تھے۔اینا کو مختلف نام دیے گئےان میں سے ایک موٹے شخص نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا کہ’ بالآخر یہ زیادہ پرکشش لگتی ہے ۔۔۔ اس وقت اسے اندازہ ہوا کہ اسے کس مقصد کے لیے اغوا کیا گیا ہے اور ’مجھے اس وقت معلوم ہو چکا تھا کہ مجھے فروخت کیا جانا ہے۔‘’

وہ آدمی مجھے ایک گندے سے فلیٹ میں لے گئے جہاں اندر پردے پوری طرح سے بند تھے اور شراب، سگریٹ اور پسینے کی کی بو آ رہی تھی۔‘لیونگ روم میں وہ آدمی سگریٹ پیتے ہوئے لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہے تھے۔ ایک ٹیبل پر درجن کے قریب موبائل فون پڑے تھے جو کالز اور میسجز آنے کی وجہ سے مسلسل تھرتھرا رہے تھے۔ نیم برہنہ اور برہنہ لڑکیاں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آ جا رہی تھیں۔ایک خاتون نے وہاں موجود دوسرے مردوں کی مدد سے اینا کے کپڑے پھاڑ پھینکے اور پھر یہاں سے اسے درندگی کا نشانہ شروع کیا گیا۔دیوار کے ساتھ داغ دار سرخ چادر لگائی گئی اور زیر جامہ میں ان کی تصاویر لی گئیں تاکہ ان کی تصاویر کی انٹرنیٹ پر تشہیر کی جا سکے۔ انھیں مختلف نام دیے گئے جن میں سے کئی یاد بھی نہیں ہیں۔ وہ کبھی لارا، روبی اور ریچل تھیں اور ان کی عمر اور ملک تبدیل کر دیا جاتا تھا جس میں کبھی وہ 18 برس، کبھی 19 سے 20 برس کی ہوتی اور ان کا تعلق لیٹویا اور پولینڈ سے ہوتا۔اینا کے پاس پہننے کے لیے مناسب کپڑے بھی نہیں تھےاس کے بعد ہزاروں مردوں کے ساتھ انھیں سیکس کرنے پر مجبور کیا گیا۔
انھوں نے مہینوں دن کی روشنی نہیں دیکھی۔ ان کو صرف اس وقت سونے کی اجازت ہوتی تھی جب کوئی گاہک نہیں ہوتا تھا۔ لیکن گاہک ہر وقت آتے رہتے تھے جس میں دن میں 20 تک بھی آتے تھے۔ بعض دنوں میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا اور دوسرے دنوں میں ہو سکتا ہے کہ ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا مل جائے یا کسی نے اگر کسی کا کوئی بچا ہوا ہے۔نیند اور کھانے کی کمی اور مسلسل جنسی استحصال کی وجہ سے میرا وزن کم ہو گیا اور دماغ نے پوری طرح سے کام کرنا چھوڑ دیا۔گاہک نصف گھنٹے کے لیے 80 سے 100 جبکہ گھنٹے کے لیے 160 سے 200 یورو ادا کرتے تھے۔ بعض گاہکوں کی وجہ سے اینا کو خون آنا شروع ہو جاتا جس کی وجہ سے وہ کھڑی بھی نہیں ہو پاتی تھیں یا اتنی زیادہ درد ہوتی کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ مرنے والی ہیں۔جولائی میں اینا کو یرغمال بنائے گئے چار ماہ گزر چکے تھے اور ایک دن پولیس نے ان کے فلیٹ پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود تمام لڑکیوں کو گرفتار کر لیا۔ حیران کن طور پر اس فلیٹ کو چلانے والے تمام مرد اور عورت پہلے سے ہی غائب تھے اور وہ اپنے ساتھ لیپ ٹاپ اور زیادہ تر نقدی بھی لے گئے۔اینا کو حیرت تھی کہ ان لوگوں کو کیسے معلوم ہوا

کہ پولیس آنے والی ہے۔پولیس نے فلیٹ کی تصاویر لیں اور استمعال شدہ کونڈومز اور زیر جامہ کی بھی تصاویر لیں اور وہاں اینا اور دیگر تین اغوا کر کے لائی گئی خواتین سے کہا کہ وہ کپڑے پہن لیں۔ تو اینا نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ ان کے پاس کپڑے نہیں ہیں اور انھیں یہاں اپنی مرضی کے بغیر رکھا گیا۔’وہ واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ ہمارے پاس یہاں کسی قسم کا اختیار نہیں تھا ۔۔۔ نہ ملبوسات، نہ شناختی دستاویزات ۔۔۔ میں نے انھیں بتانے کی کوشش کی لیکن کسی نے کچھ نہیں سنا۔‘اینا کے پاس دستاویزات نہیں تھیں ا ینا کو گرفتار ہونے پر خوشی تھی اور اسے محسوس ہوا کہ پولیس بالآخر اسے رہا کر دے گی کیونکہ وہ متاثرہ ہے لیکن انھوں نے نہیں سنا۔چاروں خواتین نے رات تھانے کے سیل میں گزاری اور اگلے دن انھیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایک وکیل نے بتایا کہ سماعت مختصر ہو گی اور ان پر قحبہ خانہ چلانے کا الزام عائد کیا جائے گا اور جرمانہ عائد کیا جائے گا اور کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا جائے گا۔وکیل کے مطابق یہ کوئی بڑی چیز نہیں بس معمول کی کارروائی ہے۔ جب اینا عدالت سے باہر نکلی تو ان کی جان میں جان آئی اگرچہ انھیں معلوم تھا کہ کہیں بھی نہیں جا سکتی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی رقم تھی۔
اینا کو موقع نہیں ملا اور ان کو پکڑنے والے باہر انتظار میں تھے اور گاڑی کے دروازے کھلے تھے۔رومانیہ میں ان کی والدہ نے خبریں دیکھیں کہ آئرلینڈ میں خواتین قحبہ خانے چلاتے ہوئے پکڑی گئی ہیں اور ان کی بیٹی بھی اس میں شامل ہے۔ایک موقعے پر اینا نے خود تصاویر دیکھی تھیں جو مردوں نے ان کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی تھیں جس میں کئی میں وہ برہنہ تھیں اور بعض میں ان کے جسم پر خراشوں کے نشانات تھے۔ اس کے ساتھ میں لکھا گیا تھا کہ کس طرح اینا نے اپنی زندگی کو بہتر کیا اور آئرلینڈ میں سیکس ورکر کے طور پر کام کرتے ہوئے رقم بنائی۔ اس طرح کے کئی جھوٹ لکھے گئے۔نہ صرف ان کی والدہ نے وہ تصاویر دیکھی تھیں بلکہ ہمسایوں نے انھیں دیکھا تھا اور اینا کے دوستوں نے بھی دیکھا تھا۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کو اٹھایا گیا اور مرضی کے بغیر رکھا جا رہا تھا۔پہلے تو ان کی والدہ نے کچھ کرنے کی کوشش کی لیکن جب ان کی والدہ نے فون کیا تو اینا کی طرف سے کبھی بھی کوئی جواب نہیں آیا۔میری والدہ رومانیہ میں پولیس کے پاس گئیں لیکن پولیس نے کہا کہ وہ اس عمر میں ہے جہاں اپنی مرضی سے فیصلے کر سکتی ہے

اور وہ جو چاہے کر سکتی ہے۔‘آخر کار فیس بک نے غیر مناسب تصاویر پر ان کا اکاؤنٹ حذف کر دیا جس کے بعد اگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کو تلاش یا دیکھ نہیں سکتا تھا کیونکہ سے ان کا وجود ختم ہو چکا تھا۔پولیس کے چھاپے کے بعد چاروں لڑکیوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں مختلف فلیٹس اور ہوٹلوں میں رکھا جانے لگا لیکن ان کی زندگیاں ویسے ہی بدتر ہی رہیں۔ ان کا ہر وقت دن رات استحصال ہوتا رہا۔اینا نے سوچا نہیں تھا کہ ان کے لیے زندگی مزید مشکل ہو جائے جب تک انھوں نے سوچا کہ انھیں مشرق وسطیٰ بھیجے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور اس پر اینا کو اب یہاں سے نکلنا تھا۔اینا کے بقول انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس جگہ پر موجود ہیں لیکن وہ جانتی تھی کہ مشرق وسطیٰ سے اچھا موقع یہاں بیلفاسٹ، ڈبلن یا کسی اور جگہ سے بھاگنے کا ہو گا۔تو اینا نے خاتون کی چپل پہنی اور دروازہ کھولا اور وہ جانتی تھی کہ انھیں جلدی جلدی اور بہت خاموشی سے باہر نکلنا ہے کیونکہ کئی ماہ سے انھوں نے کبھی دوڑ نہیں لگائی تھی اور نہ ہی اپنی ٹانگوں کے پٹھوں پر زیادہ زور ڈالا تھا لیکن اب انھیں جلدی سب کرنا تھا۔جس چیز نے انھیں بچایا وہ یہ تھا
کہ کبھی کبھار مرد فلیٹ پر آنے کی بجائے کہتے کہ انھیں اپنی جگہ پر پہنچایا جائے اور اینا کے لیے اس طرح کی فون کالز بہت خوفزدہ کر دینے والی ہوتی تھیں۔اینا کے بقول آپ نہیں جانتے تھے کہ کس مزاج کا شخص آپ کا منتظر ہے اور آپ کے ساتھ کیا کرے گا لیکن جب بھی میں فلیٹ سے باہر دوسری جگہ جانے کے لیے نکلتی تو ذہن میں نقشہ بنانے کی کوشش کرتی کہ اس وقت کہاں ہوں۔ جس میں عمارتوں، سڑکوں کے نشانات اور پاس سے گزرتی والی چیزوں کو ذہن نشین کرتی۔وہاں ایک اور شخص اینڈی بھی موجود تھا جسے منشیات فروخت کرنے کے الزام میں سزا بھی ہو چکی تھی جو کبھی بھی سیکس نہیں کرنا چاہتا تھا اور صرف باتیں کرتا تھا۔ اس کا ایک دوست قحبہ خانہ چلانے کے کاروبار میں آنا چاہتا تھا اور وہ اس کے بارے میں معلومات چاہتا تھا۔تو میں نے اس چیز پر جوا کھیلنے کی ٹھانی۔ مجھے اس پر اعتماد نہیں تھا لیکن اس نے مجھے ایک جگہ کی پیشکش کی جہاں میں چھپ سکتی تھی۔اینا ذہن میں بنائے گئے ادھورے نقشے پر انحصار کرتے ہوئے اینڈی کے پتے پر پہنچ گئی۔ وہاں اور کچھ کرنے کو نہیں تھا سوائے اس امید کہ قحبہ خانے کو چلانے والے انھیں تلاش نہ کر سکیں۔اینا کے داؤ نے کام کیا۔

اینڈی کو منشیات کی وجہ سے رات گئے واپس آنا تھا اور اس نے اینا کو اپنے ہاں رہنے کی اجازت دے دی۔اینا نے پہلا کام اپنی والدہ کو فون کرنے کا کیا۔اینا کی والدہ کے ساتھی نے فون اٹھایا اور معلوم ہونے پر اس بات پر زور دیا کہ وہ دوبارہ فون نہ کرے اور نہ ہی یہاں کبھی آئے کیونکہ سیکس ورکرز کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ پہنچانے والے قحبہ خانے چلانے والوں کی جانب سے کئی دھمکی آمیز فون آئے ہیں اور ان کی والدہ خوفزدہ ہیں۔اس موقعے پر اینا نے پولیس سے رابطہ کرنے کا سوچا اور اس بار خوش قسمتی سے پولیس نے ان کی بات سنی۔پولیس نے انھیں ملزمان کے نام ایک پیپر پر لکھنے کو کہا اور جب یہ نام لکھے تو معلوم ہوا کہ پولیس کو ان لوگوں کی عرصے سے تلاش تھی۔دو برس کی تحقیقات کے بعد اینا کو پکڑنے والے گرفتار ہو گئے اور اینا کو اپنی اور اپنی والدہ کی سلامتی کی اتنی فکر تھی کہ ان کے خلاف عدالت میں کبھی جا کر گواہی نہیں دی۔بعد میں اینا نے یونینسٹ رہنما لارڈ مورو کے سامنے بیان دیا اور انھیں اس نوعیت کی بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہوئی اور 2015 میں شمالی آئرلینڈ میں انسانی ٹریفکنگ اور استحصال کے خلاف قانون پاس ہوا۔اینا نے برطانیہ میں ڈگری کورس شروع کیا لیکن اسے ادھورا چھوڑنا پڑا کیونکہ وہ فیس ادا نہیں کر سکتی تھیں اور نہ ہی فنڈنگ حاصل کر سکتی تھیں۔اب وہ نوکری کر رہی ہیں جو ٹھیک چل رہی ہے۔ اینا کے مطابق زندگی کے کسی موڑ پر وہ دوبارہ پڑھائی کرنا چاہیں گی لیکن اس وقت کام اور صرف کام کرنا ہے اور اس پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ملائیشیا میں ’جھوٹی خبروں‘ سے متعلق قانون ختم کر دیا گیا

ملائیشیا کی پارلیمنٹ نے سابق دور حکومت میں بنایا گیا جھوٹی خبروں سے متعلق قانون …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *