Monday , August 20 2018
ہوم > انٹرنیشنل > فرض حج کی ادائیگی انسانی صحت کے لیے کیا کیا تحفے لاتی ہے ؟ ایک شاندار معلوماتی تحریر ملاحظہ کیجیے

فرض حج کی ادائیگی انسانی صحت کے لیے کیا کیا تحفے لاتی ہے ؟ ایک شاندار معلوماتی تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور(ویب ڈیسک)حج قولی، بدنی، قلبی ومالی عبادات کا مجموعہ ہے ،حج کے لغوی معنی ’’ اِرادہ کرنا‘‘ہے جبکہ شرعی اصطلاح میں حج اسلام کا پانچواں رکن ہے جس سے مراد وہ جامع عبادت ہے جس میں مسلمان بیت اللہ پہنچ کر کچھ مخصوص اعمال و عبادات (مناسک حج )بجا لاتا ہے۔

نامور کالم نگار صحافی قاضی ایم اے خالد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔ چونکہ ان اعمال و عبادات کی بجا آوری کے سلسلے میں مسلمان بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے اس لئے اسے حج کہتے ہیں۔ حج کے دوران جو ارکان و اعمال انجام دینے ہوتے ہیں ان کے لئے ایک مسلمان کا جسمانی، ذہنی، نفسیاتی و روحانی طور صحت مند ہونا اہمیت کا حامل ہے۔ اگر حج پر جانے والا مسلما ن دوران سفر تندرست و توانا رہتا ہے تو وہ تمام بدنی عبادات بخوبی احسن انجام دے سکتا ہے اس لئے فریضہ حج کا ارادہ کرنے والے مسلمان کواپنی صحت کی طرف خاص توجہ دینا چاہئے کیو نکہ اکثرپاکستانی حجاج کرام کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ سعودی عرب میں اپنے محدود دوران قیام میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریںاس دوران فطری طور پر وہ اپنی صحت اور آرام کا خیال رکھنا بھول جاتے ہیںچنانچہ دیکھا گیا ہے کہ نفلی طواف اور دیگر عبادات میں وہ اعتدال نہ رکھتے ہوئے بیمار پڑ جاتے ہیں اور پھر ان کے لیے فرض مناسک حج کی ادائیگی بھی مشکل ہو جاتی ہے ۔سفر حج پر روانگی سے پہلے اور دوران سفر صحت کا بہت خیال رکھیں۔کم ازکم ایک ماہ پہلے سے ہی ہلکی پھلکی ورزش کرتے رہیں
اور ایک سے دو کلومیٹرتیز چلنے اور دوڑنے کی عادت ڈالیں ، روانگی سے پہلے ڈاکٹر سے اپنا طبی معائنہ کرائیں(یہ مشورہ آپ کی حج درخواست میں بھی درج ہے ۔)ڈاکٹر کا نسخہ اور ضروری ٹیسٹ رپورٹس فوٹو کاپی کر کے اپنے پاس رکھ لیں ۔ڈاکٹر نے جو دوائی تجویز کی ہے ،سارے سفر کی مدت کے لیے ساتھ لے جائیں۔ضرورت پڑنے پر ہرقسم کی دوائی سعودی عرب میں مل سکتی ہے لیکن ڈاکٹر کا نسخہ دکھانا ہو گا نیز وہاں قیمتیں زیادہ ہیں اور نام مختلف ہوتے ہیں ۔دائمی یا دیگر اہم بیماریاں مثلاً شوگر ،ہائی بلڈ پریشر ، دل کی بیماریوں والے افراد ایک کارڈ پر اپنی بیماری کانام ،زیراستعمال دوائی ، اپنے گھر کا پتہ اور سعودی عرب میں قیام کا مکتب نمبر لکھ کر پورے سفر کے دوران اپنی جیب میں رکھیں ،جبکہ احرام کی حالت میں گلے میں لٹکائیں تاکہ ایمرجنسی میں فوری طبی مدد مل سکے۔جب آپ سعودی عرب پہنچ جاتے ہیں تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پاکستان ہاؤس کا پتہ معلوم کریںاور ان کا فون نمبر نوٹ کرلیںکسی بھی تکلیف کی صورت میں ان سے رابطہ کرسکتے ہیں وہاں ڈاکٹر ،لیبارٹری ،ایکسرے ،داخلے کے لئے وارڈز اور علاج کی تمام سہولتیں میسر ہیں نیز آپ کی رہائش گاہ کے قریب
حکومت پاکستان کی طرف سے ایک ڈسپنسری موجود ہو گی بوقت ضرورت ڈسپنسری کے ڈاکٹر سے طبی مشورہ لیا جا سکتا ہے۔(پاسپورٹ کی فوٹو کاپی بھی اپنے ہمراہ رکھیں ۔مراکز صحت پر چیک اپ کے دوران اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔)حج کے دوران جن کمزورو بیمارافراد کو وہیل چئیرپر طواف اور سعی کرایا جاتاہے وہ بیت ا للہ کی بالائی منزل میں جائیں کیونکہ نیچے زیادہ رش کی وجہ سے اکثرافراد مریض کی کرسی سے ٹکرا کر گرجاتے ہیںیا زخمی ہوجاتے ہیں۔بیمارافراد بھیڑ میں نہ جائیں بلکہ اوپر والی منزل یا چھت میں آرام آرام سے طواف و سعی کریں۔شریعت میں ان کی بیماری کی خاطر جو آسانیاں پیدا کی گئی ہیں اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔اکثر حجاج کرام‘ ایام حج کے دوران نظام ہاضمہ کی بیماریوں (اسہال، گیسٹرو، بدہضمی، تیزابیت وغیرہ)میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آغاز سفر ہی سے پر خوری سے کام لیتے ہیں اور اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھتے اس مقدس سفر کے دوران صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہے کہ پر خوری سے اجتناب کیا جائے۔ذیابیطس کے مریض طواف،سعی ،عرفات اور مزدلفہ میں اپنے پاس کوئی میٹھی چیز(کھجوروغیرہ) احتیاطاً رکھیں کیونکہ خون میں شکر کی کمی بے ہوشی کا باعث بن سکتی ہے بعض اوقات مطاف یا سعی کے مقام پر عینک ،گھڑی یا کانچ کی چوڑیاں گرجاتی ہیں۔جس سے لوگوں کے پاؤں زخمی ہوجاتے ہیں۔دھوپ اور گردوغبار سے بچنے کے لیے کالا چشمہ استعمال کریںجو عمر رسیدہ مرد حضرات پروسٹیٹ کے امراض میں مبتلا ہوں انہیں پانی اور مائع جات مقررہ مقدار میں پینا چاہئے تاکہ انہیں بار بارپیشاب کی حاجت محسوس نہ ہو اور وہ بار بار وضو ٹوٹنے کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا نہ ہوں ۔اللہ ہم سب کو حج کی توفیق دے۔

یہ بھی دیکھیں

ملائیشیا میں ’جھوٹی خبروں‘ سے متعلق قانون ختم کر دیا گیا

ملائیشیا کی پارلیمنٹ نے سابق دور حکومت میں بنایا گیا جھوٹی خبروں سے متعلق قانون …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *