Thursday , October 18 2018
ہوم > کالم > ہڈ حرامی کے نقصانات۔۔۔ کہیں آپ بھی ان نقصانات کی زد میں نہ آ جائیں

ہڈ حرامی کے نقصانات۔۔۔ کہیں آپ بھی ان نقصانات کی زد میں نہ آ جائیں

جاوید چوہدری نے 1998 کے اوائل میں ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا “ہڈ حرام” آج جب کلاس میں بیٹھا تھا تو بے اختیار وہی منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا،، ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے اکثر طلبہ و طالبات اس زعم کا شکار رہتے ہیں کے وہ فیل ہو سکتے ہیں ۔(حالانکہ یہاں پر فیل ہونے کے لیے اچھی خاصی ہڈ حرامی کرنا پڑتی ہے )اس لیے کچھ نہ کچھ امتحان سے پہلے پڑھ ہی لیں ، حا لانکہ سارا سارا سمیسٹر گپ شپ لگاتے ، ڈیٹ مارتے اور مختلف فرینڈز ” کے ساتھ ہوٹلوں ، سینما گھروں ، اور ریستورانوں میں “بر گد” کچر کچر کھاتے گزارتے ہیں۔

جب پیپرز کے دن آتے ہیں تو نوٹس یا WhatsApp پر بھیجے گئے PDF فارمیٹ شدہ لیکچرز ذہن نشین کرتے ہیں اور اگلے دن پیپر دے کر احسان چڑھا آتے ہیں ۔ والدین بھی حیران اور ششدر ہوتے ہیں کہ کتابوں کا خرچ تو ہے نہیں پھر یہ کیسی تعلیم ہے، خیر لڑکے لڑکیوں کو ایک اچھی تفریح میسر آتی ہے، اختلاط ہوتا ہے، انٹر ایکشن ہوتا ہے، دوستیاں ہوتی ہیں سیاست ہوتی ہے۔Hypocrisy کی تربیت ہوتی ہے۔ فیشن کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ان چیزوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا یونیورسٹی میں ، میں نے اکثر لڑکے لڑکیوں کو دیکھا ہے جن کی دوستیاں یونیو رسٹی میں ہوتی ہیں اور آخر “انجام ” کو پہنچتی ہیں ، میرے ایک دوست کا نام نوید ہے ، موصوف اپنے نام کے برعکس کبھی بھی کوئی نوید نہیں سناتے ، کتاب تو کجا کبھی نوٹ بک یا پن بھی لانے کی زحمت نہیں کرتے ، آج تو اُس نے ہڈ حرامی کے حد ہی کر دی ، کہنے لگا کہ یار ہر روز نوٹ بک لاتا ہوں ۔ تم ادھر قریب رہتے ہو میرے حصے کی کاپی بھی لیتے آیا کرو، اگر غلطی سے کوئی لیکچرار پڑھانے آ بھی جائے تو میرے جیسے بیسیوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتے ہیں کہ کب جائے گا بار بار گھڑی کو دیکھنے لگتے ہیں ، کسی دوسرے کی “پراکسی ” ثواب سمجھ کر لگاتے ہیں ۔ (خاص طور پرلڑکے لڑکیوں کی لگاتے وقت) چاہے موصوفہ خود پچھلی نشست پر آگئی ہو۔ لیکچرار سے فضول سوالات پوچھتے ہیں تاکہ زیادہ نہ پڑھا سکیں۔ کبھی کبھی تو کلاس سے باہر بھی نکال دیے جاتے ہیں😜 ۔ پھر بھی اگلے دن وہی حرکات کرتے ہیں ۔
رات دیر تک وٹس ایپ ثواب سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ۔ کیفے میں لوہے کی کرسیوں پر لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنا بھی اپنی فتح سمجھتے ہیں۔

(پیر عثمان خالد)پردے کےپیچھے سے اقتباس!

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *