Sunday , October 21 2018
ہوم > پاکستان > پرویز خٹک اور عاطف خان کے درمیان اختلافات ۔۔۔کل بنی گالہ میں کیا ہوتا رہا ؟ اعلیٰ قیادت کس کو کس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی ؟ خبر آگئی

پرویز خٹک اور عاطف خان کے درمیان اختلافات ۔۔۔کل بنی گالہ میں کیا ہوتا رہا ؟ اعلیٰ قیادت کس کو کس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی ؟ خبر آگئی

پشاور(ویب ڈیسک ) وزیراعلیٰ خیبرپی کے کے عہدے پر سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور سابق وزیرتعلمو محمد عاطف خان کے درماین اختلافات تاحال جاری ہےہم پاکستان تحریک انصاف کے چئرامنت کی جانب سے وزیراعلیٰ خبری پختونخوا کے لئے نامزد امدتوار محمود خان اور عاطف خان کی گزشتہ روز بنی گالا مںی ملاقات ہوئی

جس مںخ وزیراعلیٰ کے پی کے پر عاطف خان نے پارٹی چئرزمن عمران خان کا فیصلہ تسلیم کرلیا۔ عاطف خان کے قریبی رشتے دار اور سابق سینئر وزیر شہرام ترکئی کے مطابق عمران خان اور محمود خان سے گزشتہ روز میری اور عاطف خان کی ملاقات ہوئی تاہم ہماری پرویز خٹک سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور محمود خان کو بتاچکے ہیں کہ ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے، وزارت اعلی کے معاملے پر عمران خان کا ہر فیصلہ قبول کریں گے، پارٹی میں گروپ بندیوں کے قائل نہیں ہیں، ہم پر واضح کیا گیا کہ محمود خان عمران خان کا امیدوارہے کسی اور کا نہیں، معاملات طے ہوچکے ہیں جس نے وفاق میں جانا تھا چلاگیا۔شہرام ترکئی کا کہنا تھاکہ پرویز خٹک کے ساتھ 5 سال ڈٹ کرکام کیا، ثابت کیا کہ ہم کام کرنے والے لوگ ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیلئے ”وزارت عظمیٰ“ کا منصب ”محفوظ “ بنانے کے لیے درپردہ کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ مقتدر حلقوں کو خدشہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن کو کھل کھیلنے کا موقع دینے سے پارلیمنٹ کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اعلی قیادت ”غیر سیاسی ذرائع“ کے ذریعے
اپوزیشن کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے اسی طرز پر تحقیقاتی کمیشن بنایا جاسکتا ہے جس طرح عمران خان کے مطالبے پر سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے قائم کیا۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق متحدہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے ان کی صفوں میں غلط فہمیاں اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی جائے گی ۔سردست عمران خان کی قیادت میں بننے والی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل تائید حاصل ہے عمران خان کو حکومت سازی کیلئے 9پارلیمانی گروپوں کی حمایت حاصل کرنے میں کم و بیش 15روز لگ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان انتہائی احتیاط سے وفاق، پنجاب اور کے پی کے میں حکومت سازی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے وزرائے اعلیٰ اور وزراءکا انتخاب کریں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو اپنے اپنے صوبوں میں وجود برقرار رکھنے کیلئے تحریک انصاف پر ہاتھ بھاری نہ رکھنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ ”پاکستان الائنس فار فری اینڈ فیئر الیکشن“ جیسا ”ڈھیلا ڈھالا“ اتحاد قائم کیا گیا ہے۔ کوئی جماعت کسی وقت بھی اتحاد سے الگ ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق نادیدہ قوتیں متحدہ اپوزیشن کے قیام کی راہ میں حائل ہورہی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو تصادم کی پالیسی اختیار کرنے سے روکا جارہا ہے لیکن میاں نواز شریف ”کمپرومائز“ کی سیاست کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آرہے۔

یہ بھی دیکھیں

کرپشن کیخلاف مہم جاری لیکن بیرون ملک زیرسماعت ایک ایسے مقدمے میں کرپشن کا انکشاف ہرپاکستانی خون کے آنسو روئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ملک بھر میں تحریک انصاف نے کرپشن کیخلاف مہم شروع کررکھی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *