Wednesday , October 24 2018
ہوم > پاکستان > کیا حسین حقانی کو واپس پاکستان لایا جا سکتا ہے ؟ قانونی ماہرین کی آراء سامنے آگئیں

کیا حسین حقانی کو واپس پاکستان لایا جا سکتا ہے ؟ قانونی ماہرین کی آراء سامنے آگئیں

لندن(ویب ڈیسک )قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکا کیلئے سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو پاکستان واپس لانے کیلئے تازہ کوشش کامیاب نہیں لگتی کیونکہ امریکا میں مقدمے کیلئے پانچ سال کی حد مقرر ہے ۔حسین حقانی کاکہنا ہے کہ ان کیخلاف تازہ بنائے گئے خورد برد اور کرپشن کیس اور اس کیلئے
ان کی واپسی کی کوشش اسی طرح ناکام ہوگی جیسے پہلے ناکام ہوئیں۔ حقانی کاکہنا ہے کہ معزز ججز کے سامنے غلط بیانی کی گئی کہ حقانی کو رواں برس مارچ میں دائر کیے گئے خورد برد کے مقدمے پر واپس لایا جاسکتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکا کیلئے سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو پاکستان واپس لانے کیلئے تازہ کوشش کامیاب نہیں لگتی کیونکہ چند روز قبل کمزور قانونی بنیاد وں اور انٹر پول نے حقانی کو واپس لانے کیلئے پاکستانی حکومت کی درخواست سے انکار کردیا تھا ۔ماہرین نے سپریم کورٹ کو ایمیکس کیورے کی جانب سے دی گئی معلومات کی میعاد پر سوالات اٹھائے ہیں جو کہ حسین حقانی کی ایک نئے کیس اور تازہ الزامات کے تحت واپس لائے جانے سے متعلق ہے ۔ایمیکس کیورے احمر بلال صوفی کی جانب سے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایاگیا تھا کہ حقانی کو غداری یا توہین عدالت الزامات پر واپس نہیں لایا جاسکتا لیکن رواں برس مئی میں ان کیخلاف لگائے گئے خورد برد الزامات پر واپس لایا جاسکتا ہے ۔انٹر پول اور عالمی قوانین کیلئے ماہر قانون کا ملزم حوالگی اور واپس لائے جانے پر کہنا ہے کہ حقانی کو ان کسی الزام پر واپس نہیں لایا جاسکتا کیونکہ انہیں نومبر 2011سے اپنا عہدہ چھوڑے کافی وقت گزر چکا ہے ۔مغربی ممالک میں وقت کا تعین ہوتا ہے
کہ کرمنل الزامات کو کتنا وقت ہوچکا ہے اور یہ مقدمہ ہوسکتا ہے اور ہائی پروفائل نوعیت کا کرمنل کیس ہوسکتا ہے ۔بیرسٹر راشد اسلم کاکہنا ہے کہ امریکی کرمنل پروسیجر کوڈ کے پروویژن 18 یوایس سی 3282میں خورد برد یا غبن کیسوں میں ان کیخلاف مقدمے کیلئے پانچ سال کی حد ہے ۔ایسی حدود کا حقانی کے کیس میں بھی اطلاق ہوگا۔راشد اسلم کاکہنا تھا کہ حکومت ایک بار 5 سال کا عرصہ گزر جانے پر کرمنل الزام پر مقدمہ نہیں کرتی اور یہ ناممکن ہوگا کہ حقانی کی واپسی کیلئے کوئی درخواست کامیاب ہوجائے ۔ان کے کیس کیلئے پانچ سال کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی ہے اور تازہ کیس کا کوئی قانونی جواز نہیں بنے گا۔قانونی ماہر کاکہنا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ حقانی کیخلاف الزامات انٹر پول کے ان کیخلاف غدار ی او ر دیگر سیاسی الزامات کے بعد لگائے گئے یہ بھی ان کی واپسی کے مطالبے کیلئے کمزور ہوجائے گی ۔حسین حقانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کیخلاف تازہ بنائے گئے خورد برد اور کرپشن کیس اور اس کیلئے ان کی واپسی کی کوشش اسی طرح ناکام ہوگی جیسے پہلے ناکام ہوئیں۔حقانی کاکہنا ہے کہ معزز ججز کے سامنے غلط بیانی کی گئی کہ حقانی کو رواں برس مارچ میں دائر کیے گئے خورد برد کے مقدمے پر واپس لایا جاسکتا ہے ۔سابق سفیر نے تجویز دی کہ پاکستانی حکام کیلئے یہ وقت ہے کہ ان کا اختلاف کا حق مان لیں اور ان کیخلاف کارروائیاں روک دیں ۔’’اس سے نہ تو پہلے کچھ ہوا ہے اور نہ اب کچھ ہوجائے گا‘‘چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں ایپکس کورٹ کے تین رکنی بنچ جس میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے انہیں بلال صوفی نے بتایا کہ حسین حقانی کی واپسی کیلئے دو طرفہ بنیادوں پر معاملہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔میمو گیٹ اسکینڈل 2011 میں منظر عام پر آیا تھا ۔

یہ بھی دیکھیں

” ہم ایسا کوئی نکاح نامہ تیار نہیں کررہے جس میں عورت۔ ۔ ۔“کنوارے نوجوانوں کیلئے بڑی خبرآگئی ، واضح اعلان ہوگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل نے عورت کو طلاق کا حق دینے سے متعلق …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *