6

نو منتخب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زندگی پر ایک نظر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسد قیصر پندرہ نومبر انیس سوے انہتر کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول صوابی سے حاصل کی اور اسکے بعد یونیورسٹی آف پشاور سے گریجو ایشن کی۔ اسد قیصر نے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا۔انیس سو چھیانوے میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔

دوہزار آٹھ میں اسد قیصر کو پی ٹی آئی خیبر پی کے کا صدر بنایا گیا۔ دوہزار تیرہ میں صوابی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے صوابی سے ہی خیبر پی کے اسمبلی کی نشست بھی جیتی۔ اسد قیصر نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی۔ تیس مئی دوہزار تیرہ کو اسد قیصر کو خیبر پختونخواہ اسمبلی کا اسپیکر منتخب کرلیا گیا۔ دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں انہیں صوابی کے حلقہ پی کے چوالیس سے دوبارہ کامیابی حاصل ہوئی۔ اسد قیصر نے صوابی کے حلقہ این اے اٹھارہ سے بھی کامیابی حاصل کی تاہم انہوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار اسد قیصر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔ سبکدوش ہونے والے اسپیکرسردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جہاں خفیہ رائے شماری کے ذریعے پہلے مرحلے میں اسپیکر کا انتخاب کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسد قیصر جبکہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے سید خورشید شاہ کو اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔اسد قیصر نے 176 اور خورشید شاہ نے 146 ووٹ حاصل کیے جبکہ 8 ووٹ مسترد ہوئے۔ موجودہ اسپیکر ایاز صادق نئے اسپیکرکے انتخاب تک

اجلاس کی صدارت کریں گے جس کے بعد نومنتخب اسپیکر ، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کروائیں گے۔پولنگ کے نتائج کا اعلان کرنے کے بعد سردار ایاز صادق نے اسد قیصر سے اسپیکر قومی اسمبلی کا حلف لیا۔اسد قیصر کے حلف اٹھانے کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی تصاویر والے پوسٹرز اٹھا کر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے۔ لیگی اراکین نے اس موقع پر ‘ووٹ کو عزت دو’ کے نعرے بھی لگائے۔پی ٹی آئی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے لیے قاسم سوری اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے سعد محمود کو نامزد کیا گیا ہے۔پاکستانتحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اراکین اسمبلی ایوان میں موجود ہیں۔اجلاس کے آغاز پر 5 منتخب اراکین قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا جو کسی وجہ سے 13 اگست کو حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں