Wednesday , November 14 2018
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > ایمانی اخوت ؛ مسلم معاشرے کی ضرورت – خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ایمانی اخوت ؛ مسلم معاشرے کی ضرورت – خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 14 ذوالقعدہ 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں بعنوان “ایمانی اخوت؛ مسلم معاشرے کی ضرورت” ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ مومن ایمان اور پھر اپنے بھائیوں کے سہارے بہت طاقتور بن جاتا ہے، مومن ہر حالت میں ایمان سے نورِ بصیرت حاصل کرتا ہے، تنگی میں صبر اور فراوانی میں شکر کا دامن نہیں چھوڑتا، اسلام میں خونی رشتے کے مقابلے میں ایمانی اخوت کا ناتا زیادہ مضبوط ہے،

قرآن کریم کے مطابق تمام مسلمان ایک دوسرے کی بھلائی اور خیر خواہی چاہتے ہیں، اسلامی اخوت کی بنا پر مسلمانوں میں اتحاد اور یگانگت پیدا ہو گی۔ دینی اخوت معاشرے میں مشترکہ ضروریات کی تکمیل، خرابیوں سے تحفظ اور بے راہ روی سے بچاؤ کا باعث بنتی ہے، اس سے باہمی شفقت اور ایک دوسرے کو مکمل بنانے کی فضا پیدا ہوتی ہے، اخوت کے ضمن میں مسلمانوں کے حقوق تین اقسام کے ہیں جن میں ایثار سب سے اعلی درجہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ اخوت کیلیے زہر قاتل چیزوں میں : گمراہ کن بدعات، دنیا کو آخرت پر ترجیح، ظلم، حسد اور خود پسندی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح جسمانی طور پر اسلام نے ہمیں حج اور عمرے کے علاوہ جمعہ اور نماز باجماعت میں اکٹھا کیا ہے اسی طرح ہمیں اپنے دلوں کو بھی کتاب و سنت پر اکٹھا کرنا چاہیے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے سستی چھوڑ کر عمل کرنے کی ترغیب دلائی اور آخرت کی فکر کرنے پر زور دیا، پھر آخر میں سب کیلیے جامع دعا کروائی ۔
پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں وہ غالب اور حکمت والا ، مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم سب نعمتوں پر اسی کا شکر بجا لاتا ہوں، وہ ایسی ذات ہے جس کا ہمیشہ ذکر کیا جائے بھلایا نہ جائے، اسی کا شکر ادا کیا جائے، اس کی نافرمانی نہ کی جائے، وہ بے نیاز اور نہایت کرم کرنے والا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ بلند بالا اور عظیم ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی نے آپ کو اچھی صفات کے ذریعے افضل ترین شخصیت بنایا، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول جناب محمد، ان کی آل اور راہ مستقیم کے رہنما صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما ۔

حمد و صلاۃ کے بعد:
تقوی الہی اپناؤ ؛ اور حصول تقوی کیلیے رضائے الہی والے کام کرو اور حرام کاموں سے بچو؛ کیونکہ متقی ہی کامیاب ہوں گے ، جبکہ نافرمان اور فسادی لوگ ہی خسارہ اٹھائیں گے۔
مسلمانو!
مومن پہلے اپنے ایمان کی بدولت اور پھر اپنے بھائیوں کے ذریعے طاقت ور بن جاتا ہے، مسلمان مشکلات اور سخت حالات میں رب پر ایمان سے مدد حاصل کرتا ہے، شبہات اور شہوتوں کے آنے پر بھی رب پر ایمان کے ذریعے تحفظ پاتا ہے، نیز فتنوں اور اندھیروں میں اپنے ایمان سے نور بصیرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالی بھی اسے خوشحالی، صحت اور فراغت کی حالت میں حرام کاموں میں گرنے سے بچا لیتا ہے۔ اللہ تعالی مسلمان کو ایمان کی وجہ سے دنیا میں بابرکت اور پر مسرت زندگی سے نوازتا ہے جو اس کیلیے مفید بھی ہوتی ہے اور اس کا انجام بھی خوب اچھا ہوتا ہے، مومن اللہ پر ایمان کی بدولت وفات کے بعد بھی بلند درجات حاصل کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِإِيمَانِهِمْ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (9) دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا پروردگار انہیں ایسے نعمتوں والے باغوں کی راہ دکھلائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی [9] وہاں ان کی صدا “سبحان اللہ” ہو گی اور ان کی آپس میں دعا “السلام علیکم” ہوگی اور ان کی آخری گفتگو یہ ہو گی: “ہر طرح کی تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے” [يونس: 9، 10] سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (مومن کا معاملہ بہت تعجب خیز ہے کہ اس کے تمام معاملات خیر کا باعث ہوتے ہیں، اور یہ صرف مومن کا ہی خاصہ ہے: اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے ، اور یہ شکر اس کیلیے خیر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ صبر اس کیلیے خیر ہے) مسلم
اس لیے مومن اپنے ایمان کی بدولت ہمیشہ معزز، خوش بخت اور کامیاب ہی ہوتا ہے، اسی طرح مومن اپنے بھائیوں کے سہارے طاقتور رہتا ہے؛ کیونکہ اسلامی اخوت خونی اخوت سے زیادہ مضبوط اور قوی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا) اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
اس لیے اسلامی اخوت انتہائی مضبوط ترین تعلق، ناتا، اور رشتہ ہے فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} مومن مرد و خواتین آپس میں ایک دوسرے کے مدد گار دوست ہیں وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، زکاۃ دیتے ہیں، اور اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا اور حکمت والا ہے۔ [التوبہ: 71]

اسی طرح فرمایا: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} بیشک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔[الحجرات: 10] اور نبی ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان؛ مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر کبھی ظلم نہیں کرتا نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے) مسلم
لہذا اسلامی اخوت کی بنا پر باہمی دینی مدد اور مضبوط اتحاد سامنے آتا ہے، اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: {هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ (62) وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} اللہ تعالی نے اپنی مدد سے اور مسلمانوں کے ذریعے آپ کو قوت بخشی [62] ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی، زمین میں جو کچھ ہے آپ اگر سارے کا سارا بھی خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے دل آپس میں ملا نہ سکتے تھے۔ لیکن اللہ ہی نے ان میں الفت ڈالی ، وہ غالب اور حکمتوں والا ہے۔ [الأنفال: 62، 63] اسی طرح فرمایا: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (102) وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا } اے ایمان والو! اللہ سے کما حقہ ڈرو اور تمہیں موت آئے تو صرف اسلام کی حالت میں [102] اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو ، اور تفرقے میں مت پڑو، اور اللہ تعالی کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ [آل عمران: 102، 103]

دینی اخوت کی بنا پر باہمی تعاون اس لیے ہوتا ہے کہ مشترکہ فوائد حاصل ہوں اور خرابیوں سے بچاؤ ملے، نیز پورے معاشرے کو ہر قسم کی بے راہ روی اور انحراف سے تحفظ حاصل ہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کا تعاون کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں باہمی تعاون مت کرو۔ [المائدة: 2] اسی طرح فرمایا: {وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} تم میں سے ایک امت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف لائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔ [آل عمران: 104] اسلامی اخوت کے ذریعے باہمی شفقت، پیار، تکافل اور ایک دوسرے کو مکمل بنانے کی فضا پیدا ہوتی ہے، اسی فضا میں معاشرے کی ضروریات اور آسائشیں پوری ہوتی ہیں اور زندگی منظم گزرتی ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (باہمی محبت، شفقت اور پیار میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، اگر اس کا ایک عضو بھی بیمار ہو تو اس کی وجہ سے سارا جسم بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے) بخاری اور مسلم نے اسے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

مسلمانوں میں محبت عام ہو تو اس سے زندگی پر لطف بن جائے گی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتے جب تک تم مومن نہ بن جاؤ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتلاؤں کہ اگر تم اسے کر لو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ تم آپس میں سلام عام کرو)
مسلم اقوام!
زندگی اس وقت تک نہیں سنور سکتی جب تک ہم اسلامی اخوت کے حقوق ادا نہیں کرتے، انہی حقوق میں سے کچھ واجبات رب تعالی کیلیے ہیں ، ان میں سے سب سے بڑا واجب اللہ تعالی کی وحدانیت اور عبادت ہے، جبکہ کچھ واجبات مخلوق کیلیے ہیں، اور ان میں سے مسلمانوں کے حقوق تین درجوں میں منقسم ہیں:
اعلی ترین ایثار ہے: اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے مسلمان کی ضرورت اور حاجت کو اپنی ذاتی ضرورت پر ترجیح دیں، یہ درجہ مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم بھی حاصل کر چکے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} اور انصاریوں نے مدینہ میں اور ایمان میں مہاجرین سے پہلے جگہ بنا لی ، انصاری اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس کے متعلق اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود انہیں اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں گو انصاریوں کو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو۔ اور جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا وہی کامیاب اور با مراد ہے۔ [الحشر: 9] اگر ایمان کامل ہو تو ایثار ہر زمانے اور ہر جگہ بار بار دیکھنے میں آتا ہے، تاریخ نے مختلف ادوار کے ایثار والے بہت سے واقعات محفوظ کر رکھے ہیں۔

اس کے بعد درمیانی درجہ: یہ ہے کہ انسان اپنے لیے بھی وہی پسند کرے جو دوسروں کیلیے پسند کرتا ہے، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کیلیے بھی وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے) بخاری، مسلم
اور سب سے نچلا درجہ یہ ہے کہ: تم اپنے بھائی کو اپنے شر سے محفوظ کر دو، اس لیے تم اس کی جان، مال، عزت آبرو پر ظلم مت ڈھاؤ، اپنی زبان سے اسے محفوظ رکھو، اس کے حقوق پر دست درازی نہ کرو، اس کے حقوق سلب مت کرو، نہ ہی حقوق میں رکاوٹ بنو، نیز اللہ کی توفیق سے جس قدر ممکن ہو اس کا بھلا کر دو، اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: (یہ کہ تم اپنے شر کو لوگوں سے روک لو، تو بیشک یہ تمہاری طرف سے اپنے اوپر صدقہ ہے)
مسلمانو!
گمراہ کن بدعات اسلامی اخوت کیلیے زہر قاتل ہیں؛ کیونکہ بدعتی شخص اپنی بدعت کے مخالفین سے بغض رکھتا ہے، مسلمانوں کے دلوں کو وہی عقیدہ متحد کر سکتا ہے جو رسول اللہ ﷺ ، صحابہ کرام اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کا تھا، وہ سب کے سب اللہ کیلیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں حتی کہ آج کا مسلمان بھی ان سب سے محبت کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} اور جو ان کے بعد آئے وہ کہیں گے :”اے ہمارے پروردگار ! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے تھے اور ہمارے دلوں میں ان کے لیے کدورت نہ رہنے دے جو ایمان لائے ہیں ۔ اے ہمارے پروردگار ! تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے”[الحشر: 10] اسلامی اخوت کیلیے یہ بھی مضر ہے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جائے، اور دنیا کیلیے نیچے گر جائیں، اس وقت عام طور پر لوگوں کے تعلقات دنیاوی مفادات کیلیے ہی قائم ہیں، دنیا کی چکاچوند رنگینیاں ہی باہمی رنجشوں اور نفرتوں کا باعث ہیں۔

اسی طرح ظلم بھی اسلامی اخوت کیلیے نقصان دہ ہے، ظلم کے پھیلنے، حقوق سلب کرنے یا حقوق میں رکاوٹ بننے سے اخوت پر حرف آتا ہے؛ کیونکہ انسان اپنے اوپر ظلم کرنے والے سے نفرت کرتا ہے، بلکہ انتقام بھی لیتا ہے۔
اسلامی اخوت کو حسد بھی نقصان پہنچاتا ہے، حسد انسان کو بغاوت اور جارحیت پر ابھارتا ہے۔
اسلامی اخوت کیلیے خود پسندی بھی مضر ہے، کہ انسان اپنے آپ کو کامل سمجھے اور دوسروں کو حقیر اور کمتر جانے۔
مسلم اقوام!
آپ سب کو جسمانی طور پر اسلام کے فرائض نے مختلف مواقع پر اکٹھا کیا ہے، مثلاً: حج، عمرہ، نماز جمعہ، نماز باجماعت اور عید وغیرہ کے موقع پر ؛ تو اسی طرح اپنے دلوں کو بھی سلف صالحین کے عقیدے پر متحد کر لیں، قرآن و سنت پر متحد کر لیں، اور یاد رکھنا کہ تم سب نے اللہ تعالی کی طرف لوٹنا ہے، جو چیز بھی تمہیں حق بات سے روکتی ہے وہ سب یہیں چھوڑ جاؤ گے اور تمہیں تنہا، بے ختنہ، اور برہنہ جسم کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، تمہارے ساتھ صرف تمہاری نیکیاں یا گناہ ہوں گے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} جو ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا [7] اور جو ذرہ برابر بھی بدی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ [الزلزلہ: 7، 8]اس لیے آخرت میں نیکیاں ساتھ لیکر جاؤ اور گناہوں سے بچ کر رہو، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} اور اپنے پروردگار کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے [133] جو خوشحالی اور تنگ دستی (ہر حال) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی نیک لوگوں سے اللہ محبت رکھتا ہے۔ [آل عمران: 133، 134]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ تعالی سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔
دوسرا خطبہ
ہر حالت میں تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم جہنمیوں کی حالت سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، کہ جنہیں ان کے گناہوں نے رسوائی اور عذاب میں ڈال دیا، میں عظیم نعمتوں پر اپنے پروردگار کی حمد خوانی کرتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بہت بڑا اور اعلی ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل ، اور متقی صحابہ کرام پر رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
تقوی الہی اختیار کرو ، اسی کی اطاعت کرو، اللہ کے غضب سے بچو اور نافرمانی کرنے کی جسارت مت کرو۔

اللہ کے بندو!
تم پر حجت قائم ہو چکی ہے، شریعت تم پر واضح ہو چکی ہے، تمہارا کوئی عذر باقی نہیں بچا اس لیے عمل کی بھر پور کوشش کرو، اور سستی مت دکھاؤ، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَا يَجْزِي وَالِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ} اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈر جاؤ جب نہ تو کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے۔ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے لہذا یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دھوکے باز [شیطان]تمہیں اللہ کے بارے دھوکے میں ڈالے۔ [لقمان: 33] نیز موت اور اس کے بعد ہونے والی ہولناکیاں ذہن نشین رکھنا، ان سے صرف اعمال صالح ہی بچائیں گے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (لذتوں کو پاش پاش کر دینے والی کو یاد کرو، یعنی موت کو)
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو [الأحزاب: 56] اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

اس لیے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو۔
اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔
یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت و کرم اور جود و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا رب العالمین!
یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا رب العالمین! اور دین دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔
یا اللہ! اپنے دین، قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! اپنے دین، قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما۔

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان مرد اور خواتین کے معاملات سنوار دے، تمام مومن مرد و خواتین کے معاملات سنوار دے۔
یا اللہ! مسلمانوں کو جتنی بھی مشکلات، پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا ہے یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ان سب کو ختم فرما دے، یا رب العالمین!
یا اللہ! کمزور مسلمانوں پر رحم فرما، یا اللہ! ان کے معاملات خود ہی سنوار دے، یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! جتنے بھی مسلمان خوف زدہ ہیں انہیں امن و امان عطا فرما، مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا ذالجلال والا کرام!
یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں اور بد اعمالیوں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہم سب مسلمانوں کو تمام شریروں کے شر سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، لشکروں، اور شیطان کے ہمنواؤں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ، یا اللہ! شیطانوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! جادوگر شیطانوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ان پر اپنی ایسی پکڑ نازل فرما جس سے کسی مجرم کو خلاصی نہ مل سکے۔ یا اللہ! ان کی مکاریاں تباہ فرما دے، یا اللہ! ان کی مکاریاں تباہ فرما دے، یا اللہ! ان کی چالبازیاں تباہ فرما دے، اور ان کے شر سے ہمیں محفوظ فرما دے، یا رب العالمین! یا ذالجلال والا کرام!
یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمارے گناہ معاف فرما دے؛ کیونکہ تو ہی غفور و رحیم ہے۔

یا اللہ! ہم تجھ سے ہمہ قسم کی خیر کا مطالبہ کرتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے ہمہ قسم کی بھلائی مانگتے ہیں چاہے وہ ہمیں معلوم ہیں یا نہیں ، جلدی ملنے والی ہےیا دیر سے، یا اللہ ! ہر قسم کی برائی سے تیری پناہ مانگتے ہیں چاہے وہ ہمیں معلوم ہیں یا نہیں ، جلد آنے والی ہے یا دیر سے ۔
یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت قدم بنا دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرما، یا ارحم الراحمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔
یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین کو تیری مرضی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں تیری مرضی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی تمام تر کاوشیں تیری رضا کیلیے مختص فرما ، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کی ہر اچھے کام کیلیے مدد فرما، یا اللہ! ان کے ولی عہد کو بھی صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں تیری رضا ہو، یا اللہ! ان کی بھی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کی تمام تر کاوشیں تیری رضا کے لیے مختص فرما لے، یا اللہ! دونوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا، یا رب العالمین! یا اللہ! دونوں کو ہدایت یافتہ اور رہبر بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کے شر اور مکاری سے حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! مسلمانوں کو گمراہ کرنے والی بدعات سے محفوظ فرما، یا اللہ! ایسی تمام بدعات کا خاتمہ فرما دے۔
یا اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ مہنگائی، وبائی امراض، سود، زنا، زلزلے، مصیبتیں اور اندوہناک ظاہری اور باطنی فتنوں کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ان کا خاتمہ فرما دے، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی خصوصی حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا اللہ! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے تمام معاملات سنوار دے، انہیں جن چیزوں کے بارے میں خدشات لاحق ہیں ان کی حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجیوں کو شہدا میں قبول فرما، اور زخمیوں کو جلد از جلد شفا یاب فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]

اللہ کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ تعالی جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

یہ بھی دیکھیں

حوض کوثر سے جام پینے کی طلب لیکن یہ دراصل کیسی ہے؟ دین کی روشنی میں آپ بھی جانئے

لاہور(ویب ڈیسک)ہر مسلمان مردوعورت محشر کے روزآقائے دوجہاں کے دست مبارک سے جام کوثر پینے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *