Monday , September 24 2018
ہوم > کالم > زندہ دلوں کے شہرسے جنت نماوادیوں تک۔۔۔۔خوبصورت سفرنامہ “دعاخان”کے نوک قلم کاشاہکار

زندہ دلوں کے شہرسے جنت نماوادیوں تک۔۔۔۔خوبصورت سفرنامہ “دعاخان”کے نوک قلم کاشاہکار

ہم سفراپنے ہوں اورمنزل کوئی جنت نماہوتوپھرلمحے ناقابل فراموش بن جاتے ہیں،ایساہی کچھ ہواہے میرے ساتھ بھی جب مجھے اپنوں کیساتھ ناران کاغان جانے کاموقع ملا،آفس سے اجازت،جب سرمناظرنےکہاکہ “نہیں،بالکل بھی نہیں،مگرایک لمحہ سکتے کے بعدکہاجاؤجتنی مرضی ہے چھٹی کرلو”۔۔پھر سفرکی تیاری،رخت سفرباندھنے،زندہ دلوں کے شہرسے وفاقی دارالحکومت کی طرف تیزرفتارسفراورپھراس سے بھی کچھ آگے آسماں چھوتی بلندیاں،روئی کے گالوں کی طرح ہوامیں اڑتے سفیدوسیاہ بادل اورکہیں بارش کی بوندیں،ہرطرف سبزہ،فلگ شگاف پہاڑاوران کی چوٹیوں پرتاحدنگاہ درخت۔۔۔۔ابھی شروع میں ہی سب کچھ نہہ بتاسکتی،،آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔۔توآئیے چلتے ہیں کاغان ناران۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرح اسلام آباداور راولپنڈی جڑواں شہرہیں،اسی طرح ناران کاغان بھی بہن بھائی ہیں،ناران کاذکرہواورکاغان کانہ ہوایساممکن نہیں،دونوں ہی علاقے خوبصورتی میں بے مثال ہیں،مجھے بھی موقع ملاکہ میں قدرت کوقریب سے دیکھوں اورمیں نہ دیکھ لیا۔۔۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ میرے ساتھ میری ساری فیملی بھی ہم سفرتھی۔۔۔لاہورسے روانگی کے وقت ہم تیرہ افرادتھے جن میں میرے چاچواوران کی فیملی،تایااوران کی فیملی،میری فیملی جس میں دادی بھی شامل تھیں۔۔داداعلیل رہتے ہیں اس لیے وہ ہمارے ساتھ نہیں جاسکے۔یہ سات اگست کی خوبصورت صبح تھی جب میں آنکھ کھلی تومجھے سفرکی تیاری کی فکرتھی اورہم اس دوپہرایک بجے لاہورسے روانہ ہوئے۔
راستے میں ہم سب نے بے حدموج مستی کی اوردلچسپ بات یہ بھی کہ راستے میں گانے کس کے موبائل سے چلیں گے،یہ ایک تنازعہ تھااورحل طلب بھی کہ سفرکے دوران سُرکارس کانوں میں نہ گھلے تومزہ نہیں آئے گا۔خیرسب نے باری باری اپناموبائل اس دلچسپ کام کے لیے پیش کیااورجب میری باری آئی تونمازعصرکاوقت ہوگیااورپھرسب بھیرہ ریسٹ ایریامیں پہنچ چکے تھے۔۔گاڑی سے نیچے اترے،چائے وغیرہ پی کرتھوڑا آرام کیااورپھراگلی منزل کی طرف چل پڑے۔بھیرہ ریسٹ ایریا میں آرام کے چکرمیں کافی وقت لگ گیاتھا جس کی وجہ سے تایانے ڈرائیورکوکہاکہ اب سپیڈپکڑو۔۔۔۔۔ڈرائیورنے پاؤں دبایااورگاڑی سب کچھ پیچھے چھوڑکرآگے بھاگ رہی تھی،ایسے لگ رہاتھاجیسے ہم آگے نہیں جارہے،درخت اورجھاڑیاں پیچھے کوبھاگ رہی ہوں،ہماری سپیڈکودیکھ کرموٹروے پولیس الرٹ ہوگئی اورانہوں نے اووسپیڈپرچالان کردیا،سب کوہنسی بھی آئی اورافسوس بھی۔۔خیردیرسے پہنچناکبھی نہ پہنچنے سے بہترہے یہ سوچ کرپھراپنی پرانی سپیڈپرآگئے۔۔۔کلرکہارکے بلندپہاڑوں سے گزرتے ہوئے ہم بالآخراسلام آبادپہنچ گئے،وفاقی دارالحکومت کاماحول لاہورسے کافی مختلف ہے،آب وہوا،رہن سہن اوربہت سی ایسی چیزیں جولاہورسے الگ تھلگ ہیں۔۔خیر۔۔۔یہ ہماری منزل نہیں،سفرابھی اورباقی ہے،ابھی ہمیں مزیداونچائی پرجاناتھااورشہراقتدارسے مزیدآگے سات گھنٹے کاسفرابھی کرناتھا۔۔اسلام آبادسے اگلاسفرلاہورسے اسلام آبادکے سفرسے مختلف ہے،یہ دلچسپ ہے اورکہیں کہیں خطرناک بھی،بعض دفعہ دلوں کی دھڑکنیں رک بھی جاتی ہیں کہ خیرسے گزرجائیں،جب آپ کسی بلندپہاڑی کی ایک طرف سے گزرتی سڑک کے بالکل آخری کنارے پرہوتے ہیں،اورغلطی سے کوئی پتھراپ کی گاڑی سے ٹکراکرنیچے گرے تووہ نظروں اوجھل ہوجاتاہے مگروادی میں نہی پہنچ پاتاکیوں کہ گہرائی اتنی زیادہ ہوتی ہے۔،عمومایہاں چھوٹے دل والے اس طرف دھیان نہیں دیتے مگرمیں سمجھتی ہوں یہی تومزہ ہے کہ آپ خطروں سے کھیلیں،ایڈونچر،میدانی علاقے سے پہاڑوں کی دنیاجیسے کسی جنگل پرمبنی ہوئی فلم کاکردارہوں۔۔

لوجی ہم پہنچ ہی گئےناران،یہ رات کے اڑھائی بجے کاوقت ہے اورہم فیری میڈوزہوٹل کے بالکل سامنے کھڑے تھے،ہوٹل کی بکنگ کاپراسس ہوتے ہوتے مزیدادھا گھنٹہ گزرااورہم تین بجے اپنے اپنے کمروں میں تھے،پھرکسی ہوش تھی کون کہاں پڑاہے،آنکھ لگی،نجانے کب سوگئے۔۔۔۔۔۔۔اگلادن۔۔۔۔۔آنکھ کھلی اوریہ تقریبادس بجے کاوقت تھا،پُرسکون ایریامیں ہوٹل کی کھڑکی سے جب باہردیکھاتوآنکھ جھپکنے کودل نہیں کررہاتھا کہ کہیں یہ خوبصورت نظارے آنکھوں سے اوجھل نہ جائیں اورکہیں یہ خواب نماحقیقت بدل نہ جائے،ایک خوشگواراحساس جوشایدلاہورکے آلودہ ماحول میں میسرنہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر۔۔۔۔۔سب تیارہوئے اورپھرناران کے خوبصورت،بلندوبانگ آسماں چھوتے پہاروں کی سیرکونکل پڑے۔۔۔۔مجھے توایسالگ رہاتھا جیسے یہ کوئی پہاڑ نہیں بالکل یہ بادل بنانے والی کوئی مشین ہے کیوں کہ چوٹیوں کی اوٹ سے بادل نکل رہے تھے جوایک خوبصورت منظرتھا۔۔ہم چلتے چلتے ایک جھیل پرپہنچے جسے کاذکر میں نے توکتابوں میں ہی پڑھاتھایاٹی وی رپورٹس میں اسے دیکھاتھا،اب یقین نہیں ہورہاتھا کہ یہ وہیں جھیل ہے ۔۔جھیل کاپانی جب پہاڑوں سے گزرتے ہوئے نیچے وادی میں پہنچتاہے تووہاں ایک اورجھیل کی بن جاتی ہے جس میں مختلف رنگوں کی کشتیاں سیاحوں کواپنی طرف مائل کرتی ہیں،یہاں کشتی رانی کامزہ ایساہے کہ جسے بھلانا میرے بس کی بات توکم ازکم نہیں،جب ہرطرف پہاڑ،آسماں کہیں نیلے کی چھت کی طرح اورکہیں بدلیوں کے پیچھے چھپاہو،نیچے شیشے سے صاف پانی ہو جس میں اپ کاچہرہ اوربھی خوبصورت نظرآئے اوراس شفاف پانی پربھی تیرتی کشتیاں اوران کشتیوں پرہم۔۔۔۔

Nature Boats Rivers Panoramic Mountains View China River Fullscreen Wallpaper
۔۔۔۔۔کون بھول سکتاہے؟؟؟؟۔۔میرے کہنے پرسب نے لائف جیکٹس پہنیں اوراس خوبصورت خواب میں جھانکنے کیلئے کودپڑے،سب کے ہاتھوں میں چپوتھے اورہم کشتی کے ملاح تھے،جنہوں نے کبھی کم ہی ایساتجربہ کیاوہ آج کشتیوں کے ملاح بن کرخود کوایک مختلف دنیامیں محسوس کررہے تھے۔۔اس معاملے میں ہم سب اناڑی تھے اس لیے ایک انسٹرکٹرساتھ جس نے ہم گُرسکھائے کہ کشتی کوکس طرح بیلنس رکھناہے اورچپوکوکس طرح پانی میں گھماناہے،یہ پانی یخ تھایوں لگ رہاتھاجیسے ہم برف کے پگھلے ہوئے پانی پرہوں۔کشتی رانی کرتے کرتے ہم سب بھیگ چکے تھے جیسے کپڑے دھوتے دھوتے دھوبی کی حالت بن جاتی ہے،لیکن یہ کوئی دھوبی گھاٹ نہیں تھا بلکہ جھیل سیف الملوک تھی اورہم خوب لطف اندوزہوئے،یہ سب مناظروغیرہ تودل کے آئینے میں نقش ہوچکے تھے مگرپھربھی سوشل میڈیاکاپیٹ بھرنے کے لیے سب نے تصویریں لیں تاکہ ان کے فیس بک فرینڈزاورواٹس ایپ سٹیٹس دیکھنے والے بھی آگاہ رہیں۔ناران کے تاریخی پل پربھی تصویرکشی کرتے رہےاورپھرہم شام سات بجے کے قریب واپس ہوٹل پہنچ گئے،رات کا کھانا کھایا اورپھرہنسی بکھیرتے بکھیرتے سوگئے۔

اس سے اگلے دن جھیل سیف الملوک کی سیرکونکلے جہاں ہم اپنی گاڑی پرنہیں جاسکتے تھے بلکہ اس کے لیے دو جیپوں کابندوبست کیا،ایک جیپ میں بچے تھے جس میں مجھے بھی سفرکاموقع ملااوردوسری میں بڑے تھے،ہمارے ساتھ تایاتھے جنہیں میں باباجانی کہتی ہوں،ہماراڈرائیورپٹھان تھاجو اس علاقے میں گاڑی چلانے کاماہرمحسوس ہورہاتھا،ڈرائیورانکل نے گاڑی سٹارٹ کی،انجن کی آوازآہستہ آہستہ بڑی اورپھرگیئرلگاکرکلچ سے پیراٹھادیااوربریک اورسٹیئرنگ پرگرفت مضبوط کرلی کیوں کہ یہاں ایک پل کی غفلت بھی ناقابل تلافی نقصان کاباعث بن سکتی تھی۔۔سڑک نوکیلے پتھروں اوردشوارگزار راہوں پرمشتمل تھی،میں نے غلطی سے یہ پوچھ لیا کہ جیپ کتنی تیزچل سکتی ہے توڈرائیورنے ریس پرایساپاؤں دبایا کہ پہاڑپروہ ایسے چڑھنے لگے جیسے کوئی بندردرخت پرچڑھ رہاہو۔چندلمحے میں ہی کھایاپیاسب ہضم ہوچکاتھا۔۔ کچھ وقت کے بعدہم جھیل پرپہنچ چکے تھے مگریہ کیا،جھیل میں کہیں ایف سکٹین توکہیں بی ایم ڈبلیو کھڑی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیران کن تھا میرے لیے۔۔۔۔۔۔۔آپ بھی حیران ہوں گے یقینا،،،مگرجناب یہ کشتیوں کے نام تھے جنہیں دلچسپ بنانے کیلئے کشتی مالکان نے ان کے مختلف نام رکھے ہوئے تھے۔۔۔کشتی میں دوافرادتھے،ایک چپوسنبھال رہاتھا تودوسرا جھیل کے بارے میں کہانیاں سنارہاتھا،سچ پوچھیں تومیری ہنسی نہیں رک رہی تھی،تین گھنٹے ہم وہاں ادھرادھرگھومتے رہے،چھ بجے وہاں کی پولیس رات ہونے سے قبل سیاحوں کوعلاقہ خالی کرنے کاکہہ دیتی ہے اس لئے ہم بھی نکل آئے،،یہ ساڑھے سات بجے کاوقت تھا اورہم اپنے ہوٹل میں موجودتھے۔۔۔
ناران سے اگلے دن ہم بابوسرٹاپ تک گئے،یہ تیرہ ہزارسات فٹ اونچی جگہ ہے جہاں پہنچتے پہنچتے چارگھنٹے لگ جاتے ہیں ہمیں بھی اتناہی وقت لگا،وہاں پہنچ کرہمارے پیٹ میں چوہے گھوم رہے تھے۔پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے کھانے کابندوبست کیا۔۔واپسی پرایک پلان تواسلام آبادجانے کاتھا جب کہ کچھ نے کہاکہ یہاں کون ساروز روزآناہے لہذا کچھ آگے بھی بڑھتے ہیں،پھرہم نے کالام اورشگران کی بھی سیرکی۔جس کے بعددو روزہم نے اپنی پھوپھوکے پاس اسلام آباد قیام کیااوریوں چودہ اگست کی دوپہرہم پھرزندہ دلوں کے شہرمیں واپس آگئے۔۔۔۔۔۔۔یہاں میں یہ ضرورکہوں گی کہ لوگ دنیابھرکی سیرکرتے ہیں،کوئی دبئی جاتاہے،کوئی پیرس اورکوئی یورپ گھومنے جاتاہے مگرہم اپناوطن نہیں دیکھتے،ہماراپاکستان واقعی بہت پیاراہے،اس سفرمیں جونے قدرتی نظارے دیکھے ہیں،بہت سی چیزیں بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں،بس میں اتناہی کہوں گی کہ ایک باراپناپاکستان ضروردیکھیں جس کےبعدشایدآپ ان خوبصورت علاقوں میں باربارجانے کیلئے بے قرارہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *